35

صحافی جمال خاشقجی کے آخری الفاظ کیا تھے

ترکی اخبار’ الصباح’ کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ نظیف کرمان نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو دئیے اپنے ایک انٹرویو انکشاف کیا ہے کہ ترک حکام کے پاس موجود آڈیو ٹیپ سے، صحافی جمال خاشقجی کا سعودی سفارتخانے میں قتل کیے جانے کے طریقہ کار کی نشاندہی ہوتی ہے۔

آڈیو ٹیپ کے مطابق قاتلوں نے خاشقجی کے منہ پوری طرح سے کسی چیز سے ڈھک دیا تھا۔ مذکورہ آڈیو ٹیپ میں مقتول صحافی کی زندگی کے آخری لمحات ریکارڈ ہیں۔

تحقیقاتی شعبے کے سربراہ نے کہا کہ خاشقجی کی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے،

میرا دم گھٹ رہا ہے، میرے منھ کو کھول دو، میں مرا جا رہا ہوں۔

مذکورہ صحافی کے بقول، خاشقجی کو دم گھوٹ کر مارنے کے عمل میں سات منٹ لگے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی کہا ہے کہ جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے ریکارڈ شدہ آڈیوز اور دیگر اسناد امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور خود سعودی عرب کو بھیج دی گئی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں