11

قرآن مجید کا فلسفۂ رفتار

مضمون نگار: قمر فلاحی

{1} اللہ سبحانہ نے رزق کے حصول کیلئے جس رفتار کا استعمال فرمایا وہ “فامشوا” ہے یعنی عام رفتار سے چل کر رزق حاصل کرو کیونکہ رزق طے شدہ ہے تیز اور سست چلنے سے یہ گھٹنے بڑھنے والی نہیں ہے. قدم قدم چلنا…..
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ ذَلُولاً فَٱمۡشُواْ فِى مَنَاكِبِہَا وَكُلُواْ مِن رِّزۡقِهِۦ‌ ۖ وَإِلَيۡهِ ٱلنُّشُورُ
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے،
سورۃ الملک ١٥
{2} اللہ سبحانہ نے نماز کیلئے “فاسعوا” والی رفتار کا استعمال فرمایا ہےجس کے معنی دوڑنے کے آتے ہیں. اس میں جلدی جلدی قدم کا استعمال ہوتا ہے. اور بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے تب اسے دوڑنا کہتے ہیں.
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَ ۚ ذَٲلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو
جمعه ٩
{3} اللہ سبحانہ نے جنت کیلئے “سارعوا” کی رفتار کا استعمال فرمایا ہے, جس کا معنی ایک دوسرے سے سبقت کی نیت سے دوڑ لگانا ہوتا ہے,اسی طرح جلد بازی کرنا, بھی اس کا معنی ہے. یعنی کہیں دیر نا ہوجائے. مومن کی صفت یوں بیان ہوئ [ انھم کانوا یسارعون فی الخیرات……., وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم. ]
{4} اللہ سبحانہ نی اپنی طرف آنے کیلئے” فروا” والی رفتار پکڑنے کو کہا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ :
جس طرح قیدی قید خانے سے چھوٹنے پہ بھاگتا ہے,
جس طرح جنگلی جانور شکاری کتے کے ڈر سے بھاگتا ہے,
اس طرح کے خوف اور ڈر کو دل میں بساکر بھاگنا ہے. ظاہر ہے یہ ڈر اللہ سبحانہ کی پکڑ کا ڈر ہے, جس کی شکل جہنم ہے.
سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کیلئے سراقہ نے “فرّقریش” استعمال کیا تھا ,قریش کی پکڑ کے خوف سے بھاگا ہوا فراری.
فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ‌ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں
ذاریات ٥۰
اللہ اکبر قرآن مجید میں کتنی گہرائ ہے اس کا اندازہ ایمان اور مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے, اسے اپنے معمولات کا حصہ بنائیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں