44

اجودھیامیں دھرم سبھا کے انعقاد کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات سخت

اجودھیا: اترپردیش پولیس نے وشو ہندو پریشد اور شیوسینا کے کارکنوں کے اجودھیا میں اکٹھا یوتا دیکھ کر اجودھیا میں متنازعہ زمین کے احاطے اوراس کے نزدیک سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آرا یس ایس کے حامیوں سے وشوہندو پریشد نے 25 نومبر کو اجودھیا میں متنازعہ زمین پر رام مندر تعمیر کے لئےقانون بنانے کے مطالبے کے اعادہ اور اس ضمن میں حکومت پر دباو بنانے کے لئے دھرم سبھا کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے 24 نومبر سے اجودھیا کے دوروزہ دورے پر ہوں گے۔

وشو ہندو پریشد کی دھرم سبھا کے انعقاد کے سلسلے میں جس طرح کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 25 نومبرکو اجودھیا کی فضا کافی گرم ہوسکتی ہے۔ وشو ہندو پریشد کے اس پروگرام کے لئے آر ایس ایس نے بھی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ ادھر،اجودھیا میں بڑھتی سرگرمی کو دیکھتے ہوئے ریاست کے ڈی آئی جی پولیس سے لیکر داخلی امور کے افسران حرکت میں ہیں اور سیکورٹی کا ہر طرح سے جائزہ لے رہے ہیں۔

وشو ہندو پریشد نے دعوی کیا ہے کہ اس ’’دھرم سبھا‘‘ میں سادھو سنتوں سمیت ایک لاکھ سے
زیادہ لوگوں کے شرکت کرنے کی توقع ہے۔ مہاراشٹرا سے 5000 سے زیادہ لوگوں کی شیوسینا سربراہ کے ساتھ اجودھیا آنے کی امید ہے۔ یہ اجتماع پریکرما مارگ پر واقع بڑا بکھت محل کے باغ میں منعقد کیا جائے گا۔

وہیں شیو سینا نے کوئی بڑا پروگرام انعقاد نہیں کیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے سنتوں سے ملاقات کریں گے، سریو آرتی میں شرکت کریں گے اور دو روزہ دورے کے دوران متنازعہ مقام پر جا کر رام للا کا درشن کریں گے۔

اترپردیش حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے اور نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئے اجودھیا میں انسداد دہشت گردی دستہ، مذہبی فوجی دستہ۔ آر ایف اور اضافی پولیس ٹیم کی کئی ٹولیوں کو تعینات کیا۔ پروگرام میں شرکت کرنے کی غرض سے آنےوالی بھیڑ کی حرکات و سکنات کی نگرانی کے لئے ڈرون کیمرے لگائے گئے ہیں۔

ریاست کے پولیس ڈائرکٹر جنرل(ڈی جی پی) او پی سنگھ نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ اجودھیا میں سیکورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کے ہدایت پر پوری مستعدی کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے۔ نظم ونسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی سبھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

اڈیشنل پولیس ڈائرکٹر جنرل(لکھنؤزون) اورانسپکٹر جنرل(لکھنؤ) 24 نومبر سے اجودھیا میں کیمپ کریں گے۔ شہرکو مختلف سیکٹروں میں بانٹا گیا ہے۔ ہر ایک سیکٹر میں ایک گزیٹیڈ افسر تعینات کیا جائے گا۔

پولیس ڈی آئی جی نے بتایا کہ متنازعہ زمین کے احاطہ میں کوئی بھی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجودھیا میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔ ضلع انتظامیہ کے اجازت کے بغیر کسی کو بھی پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چیف سکریٹری(داخلی امور) اروند کمار نے بتایا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ اجودھیا میں بڑی تعداد میں سیکورٹی پہلے سے ہی تعینات کی گئی ہے۔ عدالت کے ہدایات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتی فرقے کو کسی بھی خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مقامی افسران نے ان سے ملنے کے بعد انہیں ان کے سیکورٹی کا تیقن دیا ہے۔

مسٹر کمارنے کہا کہ تقریبا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی اس پروگرام میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ کوسی پریکرما اور پنچ کوسی پریکرما کے دوران اجودھیا میں تقریبا 20سے 25 لاکھ عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔
سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ(ایس ایس پی) اجودھیا، جوگندر سنگھ نے بتایاکہ نظم و نسق بنائے رکھنے کے لئے انہوں نے پی اے سی کو 20 کمپنیاں اور آر اے ایف کی دو کمپنیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اجودھیامیں دھرم سبھا کے انعقاد کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات سخت” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں