80

اجودھیا میں دھرم سبھاکا انعقاد: کیا 1992 جیسے حالات کےاعادے کی کوشش ہے

مشن بیورو

اترپردیش کے ضلع اجودھیا میں وشو ہندو پریشد کی جانب سے 25 نومبر کو منعقد دھرم سبھا سے پہلے شہر میں سال 1992 جیسا ماحول بنانے کا خوف اقلیتی فرقہ کے افراد کو ستا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وشوہندو پریشد نے 25 نومبر کو اجودھیا میں متنازعہ زمین پر رام مندر تعمیر کے لئےقانون بنانے کے مطالبے کے اعادہ اور اس ضمن میں حکومت پر دباو بنانے کے لئے دھرم سبھا کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دھرم سبھا کے انعقاد اور اس کی تشہیر کے لئے وشوہندو پریشد کے کارکن جس جارح اور قابل اعترض نعروں کا سہار ا لے رہے ہیں اس سے اقلیتی فرقہ کے اندر خوف وہراس کاماحول ہے نیز اطلاعات کے مطابق کچھ نے اپنی سیکورٹی کے مقصد سے اس علاقے کو چھوڑنا بھی شروع کر دیاہے۔

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندو تنظیم کے کارکنوں نے جمعرات(22نومبر) کو وہاں جلوس نکالے، جس سے علاقے میں ڈر کا ماحول ہے اور لوگ سہمےہوئے ہیں۔ وہ علاقے میں حالات کشیدہ ہونے کے خوف سے ابھی سے زیادہ راشن جمع کرنے کا انتظام کر رہےہیں۔ اس جلوس میں بجرنگ دل کے کارکنوں کی شرپسندی نے علاقے کے اقلیتی طبقہ کے خوف کو یقین میں بدل دیا ہے اور انتظامیہ کے سیکورٹی کے لاکھ دعووں کے باوجود وہ اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے جمعرات (22 نومبر) کو ایک جلوس نکالا تھا اور اس جلوس میں بجرنگ دل کے کارکنان گاڑیوں پر سوار ہوکر مسلم اکثریتی علاقے میں ہوتے ہوئے”رام للا ہم آئیں گے۔ مندر وہیں بنائین گے” جیسے قابل اعتراض نعرےلگا رہےتھے۔

دھرم سبھا کے انعقاد میں شامل ان کارکنوں کے اس طرز سے عمل سے انکی جارحیت اور انتظامیہ کے سیکورٹی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آخر جب دفع 144 نافذ ہے تو ان کو جلوس نکالنے اور اقلیتی فرقہ کے اکثریتی علاقوں میں دندناتے پھرنے کی اجازت کیون کر ملی۔

وہیں وشوہندو پریشد کے لیڈر بھولیندر سنگھ کا بیان بھی قابل غور ہے لیڈر کے مطابق

“ہندو مسلم میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اور اسی وجہ سے زیادہ راشن اکٹھا کر رہےہیں۔ ”

لیڈر نے مزید کہا کہ ”

بھلے ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ مگر وہ وشوہندو پریشد کے جمعرات کونکالے گئے جلوس کو روک نہ سکی۔ یہ جلوس بجرنگ دل کے کاکنوں نے نکالا تھا۔ جو ریلی کے دوران باآواز بلند”رام للا ہم آئیںگے، مندر وہیں بنائیں گے” جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ جلوس مسلم اکثیریتی علاقوں سے ہوتےہوئے نکلا”۔

انتظامیہ کا دعوی ہے کہ شہر میں سیکورٹی کے انتظامات چاق و چوبند کر دیئے گئے ہیں۔ جگہ جگہ سنٹرل پولیس فورس(سی آر پی ایف) پی اے سی اور پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ لیکن سیکورٹی کے پیش نظر کتنے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے؟ اس ضمن میں افسران کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔

ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ متنازعہ زمین کے نزدیک عدالت کے حکم کا کسی بھی بنیاد پر خلاف ورزی نہیں ہوگی۔نیز متنازعہ زمین کے احاطے کے اندر اور باہر سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیاہے۔

مزید پڑھیں:اجودھیامیں دھرم سبھا کے انعقاد کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات سخت

فیض آباد کے ڈویژنل کمشنر منوج مشرا کےمطابق “صرف درشن کرنے والوں کو ہی اس احاطے میں جانے کی اجازت ہوگی۔ لیکن مقامی تاجروں کو شک ہے کہ اس دھرم سبھا کے ذریعہ کہیں 6 دسمبر(1992)کے جیسا ماحول بنانے کی منظم کوشش تو نہیں ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وشوہندو پریشد کے اس سبھا کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وہ مہاراشٹرا سےآرہے شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے کو کالا جھنڈر دکھا کر اس کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارشد حاجی اسد نے اس بارے میں بتایا کہ کچھ مسلمانوں نے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس علاقے کو ہی چھوڑنا شروع کردیاہے۔جبکہ کمشنر کا کہا تھا کہ ضلع انتظامیہ نے مسلم علاقوں پر خاص طور سے نگرانی کر رہی ہے اور وہاں سیکورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔

اقلیتی فرقے نے خوف ہراس کی وجہ سے اپنے سیکورٹی کے لئے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر اس ضمن میں ان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ صدرجمہوریہ کو بھیجے اپنے خط میں اجودھیا کے اقلیتی طبقے کے لوگوں نے اپنی سیکورٹی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں صدر جمہوریہ کو لکھا ہےکہ اسی طرح کا انعقاد 6 سمبر 1992 میں آر ایس ایس، وشوہندو پریشد جیسی تنطیموں کے ذریعہ کیا گیا تھا. جس میں اجودھیا میں بڑی تعداد میں لوگ رام بھکت کے نام پر اکٹھا ہوئے تھے۔ اس وقت بابری مسجد تو منہدم ہی کی گئی تھی ساتھ ہی ساتھ کئی دیگر مسجدوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔15 بے قصور مسلموں کو بے رحمی سے قتل کردیا گیاتھا۔ انہوں نے کہا کہہ اس طرح کا حادثہ دوبارہ پیش نہ آئے اس کے لئے 25 نومبر کو ہونے والے دھرم سبھا میں بھیڑ کو آنے سے روکا جائے۔

مزید پڑھیں: سیکورٹی کے لئےاجودھیا کے مسلمانوں کا صدر جمہوریہ کے نام خط

وشو ہندو پریشد کی دھرم سبھا کے انعقاد کے سلسلے میں جس طرح کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ پروگرام کی تشہیرکے لئے وہ جس جارح رخ کا استعمال کر رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 25 نومبرکو اجودھیا کی فضا کافی گرم ہوسکتی ہے۔ 22 نومبر کو وشو ہندو پریشد کے کاکنوں نے جلوس نکال کر اس کا عندیہ بھی دیے دیا ہے۔وشو ہندو پریشد کے اس پروگرام کے لئے آر ایس ایس نے بھی پوری طاقت جھونک دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اجودھیا میں دھرم سبھاکا انعقاد: کیا 1992 جیسے حالات کےاعادے کی کوشش ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں