8

ٹرمپ کی میکسیکو سرحد سیل کرنے کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غیر قانونی پناہ گزینوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ضرورت پڑنے پر میکسیکو کی سرحد کوبند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ کی جنوبی سر حد سے وسطی امریکہ کے سب سے زیادہ غریب ممالک سے ہزاروں پناہ گزینوں کے میكسيکو کے راستے پناہ لینے کے لئے ملک کی طرف بڑھنے کی رپورٹ کے درمیان ہفتہ کو یہ بیان دیا۔
اندازہ ہے کہ تین لاطینی امریکی ممالک ال سلواڈور، ہونڈوراس اور گوئٹے مالا سے پانچ ہزار سے سات ہزار کے درمیان پناہ گزینوں کا قافلہ امریکہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے انہیں روکنے کے لئے جنوب مغربی سرحد پر فوج تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا کہ اگر کوئی راستہ نہیں بچتا ہے تو ملک کی جنوبی سرحد کو بند کر دیا جائے گا۔ امریکہ دہائیوں سے جاری اس خطرناک صورت حال کو اور برداشت نہیں کر سکتا۔
غیر قانونی پناہ گزینوں سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جانے والے احتیاطی قدم کافی مهنگے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ضرورت پڑنے پر میکسیکو کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا‘‘۔

امریکی صدر نے کہا’’جب تک عدالت سے منظوری نہیں مل جاتی ہے تب تک جنوبی سرحد سے ایک بھی پناہ گزین کو امریکہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا. قانونی طور پر آنے والے لوگوں کو ہی امریکہ میں آنے کی اجازت ہے۔ ہماری بہت سخت پالیسی ہے غیر قانونی طریقے سے آنے والے لوگوں کو پكڑو اور حراست میں لو۔امریکہ میں پناہ گزینوں کو نہیں بھیجا جائے، سبھی میکسیکو میں رہیں‘‘۔

اس سے ایک دن قبل’ واشنگٹن پوسٹ ‘کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو انتظامیہ، ٹرمپ انتظامیہ کے ’میکسیکو میں رہو‘ کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اس کے تحت ایسے پناہ گزین جو جنوبی سرحد سے امریکہ میں پناہ لینا چاہتے ہیں وہ اس کی اجازت ملنے تک میکسیکو میں رہ سکتے ہیں۔تاہم میکسیکو مورینا پارٹی کے سینیٹر اولگا سانچیز كورڈیرو نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ملک میں غیر قانونی پناہ گزینوں کو داخل ہونے سے روکنے کے لئے تعینات فوجی ان پر گولیاں نہیں چلائیں گے لیکن اگر وہ فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ فوجیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں تو میکسیکو کے ساتھ جنوبی مغربی سرحد پر تعینات فوج بھیڑ پر گولیاں چلا سکتی ہے۔
ان کے اس بیان کا ان کے سیاسی حریفوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی تھی۔
مسٹر ٹرمپ نے قافلے پر گولی چلانے کے بارے میں سوال پر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا تھا’’نہیں، وہ گولیاں نہیں چلائیں گے. میں نہیں چاہتا کہ یہ لوگ پتھر پھینکے‘‘۔صدر نے کہا کہ سرکاری احکامات کے ذریعہ پناہ گزین قوانین میں وہ جو تبدیلی کر رہے ہیں وہ قانونی ہیں۔
دریں اثنا، سابق صدر براک اوباما نے پناہ گزینوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ہزاروں امریکی فوجیوں کو میکسیکو سرحد پر تعینات کرنے کی ٹرمپ کی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے اسے’سیاسی تماشا‘ قرار دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں