29

میرے ذہن و دماغ میں ایک سوال گردش کر رہا ہے

مضمون: نسیم فیضی

کئی دنوں سے میرے ذہن و دماغ میں ایک سوال گردش کر رہا ہے تو میں نے یہ مناسب سمجھا کہ کیوں نہ اس سوال سے آپ لوگوں کو بھی روبرو کیا جائے اور اپنے قارئین سے امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ بھی اس پر غور و فکر کریں گے.

سوال: مسلم قوم جسکا ماضی دوسری قوموں کے مقابلے میں روشن و تابناک تھا دور حاضر میں یہی مسلم قوم ظلم و ستم کے چکی میں پس رہی ہے انکو مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے آخر ایسا کیوں؟

اس ناچیز نے جب دونوں عہدوں یعنی ماضی و حال کا تقابلی موازنہ کرکے سمجھنے کی کوشش کی تو کئی باتیں سامنے آئیں مگر میں طوالت کی ڈر سے صرف دو ہی باتوں کا اختصار سے بیان کرنا چاہونگا

اول یہ کہ موجودہ دور کے مسلمانوں کے مابین انتشار و افتراق کو دیکھ کر بے اختیار آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور قلم بے ساختہ رک جاتا ہے اور کچھ لمحے رک کر جب مسلمانوں کے ماضی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم نہیں ہوتا ہےکہ آج کی مسلم قوم میں وہی ماضی کی مسلم قوم کے لوگ ہی ہیں. ماضی کےدور میں جس طرح مسلمانوں کے اندر اتحاد و یونٹی تھی آج اسکے بالکل برعکس نظر آتا ہے جبکہ ماضی میں بھی لوگوں کے مواقف مختلف تھے مگر اتحاد کر اعلی مثال تھے اسی اتحاد و اتفاق کی بنا پر قلیل تعدادمیں ہونے کے باوجود کامیابی و کامرانی انکے قدم چومتی تھی اور دور حاضر میں اسی چیز کے فقدان کی بنیاد پر آج کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

دوسری بات یہ ہے کہ دور حاضر کی مسلم قوم کے چند مسلم شخصیات کوچھوڑ کر تمام لوگوں کے پاس صرف و صرف اسلام و ایمان کا دعویٰ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے انکے قلوب ایمانی حرارت و حمیت سے بالکل خالی و عاری ہے جبکہ ماضی کے مسلمانوں کے دل ایمانی غیرت و حمیت سے منور تھے انکے اندر ایمانی حرارت بدرجہ اتم موجود تھی اسلئے ہمارے اسلاف کو ہر جگہ ہروقت سرخروئی میسر ہوتی تھی لہذا اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے گذارش ہے کہ اگر دنیا و مافیہا اور آخرت میں کامیابی و کامرانی چاہتے ہو تو ایمانی غیرت و حمیت جیسے اسلحے سے لیس ہو کر اپنے مابین اتحاد و اتفاق قائم کریں.

صاحب الفاظ: نسیم فیضی، متعلم :کے ایم سی اردو عربی فارسی یونیورسٹی لکھنؤ
(مضمون نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں