7

اٹاوہ او ڈی ایف تصدیق شدہ! لیکن20 ہزار پریواروں میں بیت الخلاء ندارد

اٹاوہ: صفائی مہم کے تحت کھلے میں رفع حاجت سے پاک( او ڈی ایف) تصدیق شدہ اترپردیش کے ضلع اٹاوہ کو آج بھی 20 ہزار 335 بیت الخلاء کی ضرورت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ملک میں اٹاوہ ہی واحد ایسا ضلع ہے جس کو اوڈی ایف اسکیم میں آئی ایس او تصدیق نامہ جاری کیا گیاہے۔ گذشتہ آٹھ اکتوربر کو لکھنؤ میں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ ایوارڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سیلوا کماری جے کو دیا تھا۔ 15 اگست کو سرکاری طور پر اٹاوہ کا او ڈی ایف ہونے کا علان کیا گیا تھا۔

ضلع پنچایت ریاستی افسر آر بی سنگھ نے جمعرات کو بتایا کہ تازہ سروے کی بنیاد پر نشان زد پریواروں کے نام آن لائن فیڈ کرایا جارہا ہے۔ 30 نومبر تک آن لائن فیڈنگ کا کام پورا کرلیا جائےگا۔اسی کے ساتھ مستفیدین کو بیت الخلاء کی رقم بھی جمع کرائی جاتی رہے گی تاکہ 31 جنوری تک بیت الخلاء کی تعمیر کرائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ متذکرہ اعدادوشمار کے مطابق بیت الخلاء بنانے کے بعد دیہی علاقوں میں بیت الخلاء کی تعمیر کا مطالبہ نہیں ہوگا۔ بیس لائن 2012 کی بنیاد پر اب تک تعمیر کرائے گئے بیت الخلاء میں 9000 ایسے خاندانوں کو نشانزد کیا گیا ہےجو یا تو غریبی کے دائرے میں نہیں آتے یا پھر وہ پریوار اب گاوں میں نہیں رہ رہا ہے۔ لہٰذا انہیں فہرست سے باہر کیا گیا ہے۔

نئے سروے کے آغاز میں بھی کچھ مداخلت کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے نام پر پریوار میں بیت الخلاء تو تعمیر ہوا ہے لیکن ساتھ میں رہتے ہوئے دیگر بیت الخلاء چاہتے ہیں ایسے مطالبے کو بھی نوڈل افسران کی کراس چیکنگ کے بعد خارج کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سوچھ بھارت مشن کے تحت حکومت نے کھلے میں رفع حاجت سے ملک کو پاک کرنے کے لئے اسکیم لانچ کی تھی جس کے مطابق ہر شہری جو غریبی سطح سے نیچے زندگی گذار رہا ہے اس کو بیت الخلاء بنانے کے لئے امداد کرتی ہے۔ایسے میں ان اضلاع کو او ڈی ایف سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے جو کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہوتے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے بتایا کہ نئے سروے میں مہیوا بلاک میں سب سے زیادہ 3505 بیت الخلاء کی ضرورت پائی گئی ہے۔ ضلع میں کل آٹھ بلاک ہیں۔ ان میں دوسرے نمبر پر بھر تھانہ ہے جہاں 3133 بیت الخلاء کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بسرہرا بلاک میں 3050، جسونت نگر میں 2733، بڑھپورا میں 2548 تاخا میں 2110، سیفئی میں 2001 اور چکنگر میں 1255 پریوار ایسے ہیں جن کے گھر بیت الخلاء نہیں ہے اور وہ کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 15 اگست کو تو اٹاوہ کواو ڈی ایف کا سرٹیفیکٹ دے دیاگیا لیکن بیت الخلاء کی مطالبہ اب بھی ہے۔ لہذا دوبارہ ہوئے سروے میں خلاصہ ہوا ہے کہ آج بھی 20335 پریوار کے گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہے۔ اس حتمی اعداد و شمار کو انتطامیہ کے پاس بھیج دیاگیا ہے۔ 31 جنوری تک بیت الخلاء بنوائے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ نے بیس لائن سروے 2012 کی بنیاد پر 153215 بیت الخلاء بنوائے اور گذشتہ 15 اگست کو ضلع کو او ڈی ایف کا سرٹیفیکٹ دے دیا گیا۔ او ڈی ایف ہوجانے کا مطلب لوگ کھلے میں رفع حاجت نہیں کررہےہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ضلع کے تمام گاؤں میں کتنے ہی پریوار ایسے ہیں جن کے گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہے اور وہ کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔

مسٹر سنگھ نے بتایا کہ اوڈی ایف کی منشیٰ پوری کرنے کے لئے نیا سروے کرایا گیا ہے۔ اس سروے میں کافی مستعدی برتی جارہی ہے۔ کوشش ہے کہ کوئی بھی مستحق چھوٹنے نہ پائے اور جو مستحق نہیں ہے اس کا نام شامل نہ ہو۔ اس کے لئے گاؤں سطح پر مستحقین کی فہرست تیار کرائی گئی ہے۔ اس کے بعد ہر ایک گاؤں میں تعینات کئے گئے نوڈل افسران سے اس کی کراس چیکنگ کروائی گئی۔ نئے سروے کے تحت نشان زد چھوٹے ہوئے افراد کی فہرست کو انتظامیہ کے پاس منظوری کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ اب اس فہرست کی بنیاد پر بیت الخلاء بنانے کی رقم مہیا کرائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں