46

کیا آبادی ترقی میں روکاوٹ ہے؟

✍: ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا

چین کی آب وہوا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک نے 80کےدہائی میں ‘ون چائلڈ پالیسی'(اس کے تحت صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوگی) کا نفاذ کیا تھا۔ جو خاندان اس پالیسی کی خلاف ورزی کرتا تھا اسے بھاری جرمانہ اداکرنا پڑتا تھا۔ اگر مذکورہ خاندان بھاری جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہوتا تھا تو خاتون کو زبردستی حمل ضائع کرنا پڑتا تھا۔ اس پالیسی کے سبب چین کی آبادی کسی حد تک رک گئی، نتیجتا پہلے اگر دو خاتوں 7 بچوں کو جنم دیتی تھیں تو اب 2 خاتون 2 بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے چین کی آبادی کا تناسب کم ہوگیا۔

تاہم اس پالیسی کا اثر فوری طور پر نظر نہیں آیا کیونکہ بہتر طبی سہولیات کے سبب انسانوں کی اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی اور اب لوگ زیادہ دنوں تک زندہ رہتے ہیں۔ اسی طرح چین میں بھی چند برسوں میں پیدائش کی کم شرح کی وجہ سے مجموعی آبادی کے تناسب میں کمی آنے لگی۔ ون چائلڈ پالیسی کے سبب چین کو گذشتہ دو دہائیوں میں بے شمار اقتصادی فائدے ہوئے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کےسابق چیئرمین ماؤزے ٹنگ نے چین کے عوام کی زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی تھی۔ 50،60 اور 70 کے عشروں میں چین کی آبادی کے تناسب میں زبردست اضافہ ہواتھا ۔اس دوران مزدوروں کی دستیابی میں آسانی ہوئی اور چین کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا۔ اس کے بعد 80 کے عشرے میں ‘ون چائلڈ پالیسی’ نافذ کر دی گئی۔ اس کے سبب لوگوں پر سے بچوں کی ذمہ دارایاں کم ہوگئیں۔چین کے عوام زیادہ تر وقت کھیتوں اور فیکٹریوں میں گذارنے لگے۔ان کی تمام تر توجہ اپنے کام پر مرکوز ہوگئی۔ اس طرح ان کے کام کرنےکی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ چین کی ترقی کی سب سے اہم وجہ یہی تھی۔چنانچہ 90 کے دہائی کے بعدچین کی ترقی کی شرح نے 10 سے زائد شرح نمو(جی ڈی پی) کاہندسہ عبو ر کرلیا۔

تاہم چین کے حالات 2010 میں ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئے۔ 1980 میں جو بچے پیداہوئے تھے ان کی عمریں ڈھلنے لگیں، جس کے نتیجے میں ملازمت پیشہ افراد کے کندھوں پر والدین کی دیکھ بھال کے ساتھ دادا دادی کی بھی ذمہ داری آگئی۔ دوسری جانب 1980 کے بعد پیدائش کی کم شرح کی وجہ کم افرادملازمت سے وابستہ ہوئے۔ اسطرح چین میں ملازمت پیشہ افراد کاتناسب ان پر انحصار کرنےوالوں کے تناسب سے کم ہوگیا۔ ملازمت پیشہ افراد کی توانائی بزرگوں کی خدمت میں زیادہ جبکہ پیداواری کاموں میں کم صرف ہونے لگی۔ کئی ماہرین معاشیات کا کہنا ہے یہی وجہ ہے کہ 2010 کے بعدچین کی ترقی کی شرح میں زبردست کمی آئی۔

چین کے حالات سے واضح ہےکہ پیدائش پر کنڑول رکھنے کا فائدہ طویل مدتی نہیں ثابت ہوتا۔ اس سے کچھ وقت تک فائدہ ہوتا ہے لیکن پھر یہی فائدہ نقصان میں تبدیل ہوجاتاہے۔ چین کی پالیسی کے مطابق ایک ساتھ بہت سے جوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں لیکن کی ان کی تعداد کو ان پر انحصار کرنےوالے منسوخ کردیتے ہیں۔

اس کے برعکس کئی ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ پیدائش پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بچے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ان میں نا امیدی جنم لیتی ہے اور ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے نہیں آتیں۔جس کے نتیجے میں جوان ہونے کے بعدوہ ملک کی پیدوار میں حصہ نہیں لے پاتے۔ تاہم میں انکی اس بات سے متفق نہیں ہوں،دیگر اخراجات پر قابوحاصل کرکے تعلیم دی جاسکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تعلیم یافتہ مزدوروں کی ضرورت معیشت کی تکنیکی تبدیلی پر منحصر ہے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے ولا ایک ٹریکٹر ڈرائیور ملک کی معیشت میں اس سےزہادہ حصہ نہیں لے سکتاجو ہائی اسکول کی تعلیم کرنے کے بعدٹریکٹر چلا رہا ہے۔

اہم بات یہ ہےکہ آبادی کسی بھی ملک کا اہم سرمایہ اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ کسی نہ کسی طرح ملک کی معیشت میں حصہ لیتی رہتی ہے۔ اور اس وقت ملک کے لئے نقصاندہ ثابت ہونے لگتی ہے جب اس کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی پالیسی ترتیب دے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں نیز آبادی میں اضافہ بھی ہوتا رہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ لوگوں کا معیار زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔

دوسری جانب ماہرین معاشیات یہ بھی کہتے ہیں کہ آبادی بڑھنے کی صورت میں لوگوں کی معیار زندگی متاثر ہوتی ہے۔حکومت انہیں بنیادی اور ضروری انفرااسٹرکچر بھی فراہم کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اس طرح نہ سڑکوں کی تعمیر ہوتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ضروری تعلیم دی جاتی ہے۔ میں ماہرین معاشیات کی ان باتوں سے بھی متفق نہیں ہوں۔ انفرااسٹرکچر کی سہولت دینے کٰی حکومت کی صلاحیت اس کی آمدنی پر منحصر ہوتی ہے۔ اوراس کا انحصار ملک میں کام کرنےوالے افرادی قوت پر ہوتا ہے۔لہذا حکومت کی حکمت عملی آبادی میں اضافہ کرنے کی ہونی چاہئے۔ نہ صرف یہ بلکہ روزگار فراہم کرنے کے مواقع بھی پیدا کرنے چاہئے۔ اس سے حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا اور حکومت ملک کے تمام شہریوں کی بہتر سہولت دینے کے قابل ہوگی۔

میرے نزدیک بڑھتی ہوئی آبادی پر واویلا مچانا درست نہیں ہے۔ اور بڑھتی ہوئی آبادی کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اگر عوام کو بہتر سہولت مہیا ہوتی ہیں تو ملک کا کاروباری طبقہ بڑھے گا۔ تاہم کاروبار میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بالفاظ دیگر ہندوستان میں مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی ملازمت کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ ملک میں جیتنے زیادہ روزگار اور کاروبار ہوں گے حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگا۔ تاہم، اگر کسی خاتون کے زیادہ بچے ہیں تو وہ ملازمت نہ کرتے ہوئے امور خانہ داری پر اپنی توجہ مرکوز کرسکتی ہے۔ اس طرح آبادی کو مسئلہ نہ بناتے ہوئے اسے نفع کےطور پر بآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں