67

گالی نہیں،میرے سوالوں کا جواب دو

✍: محمد مصطفیٰ علی سروری
sarwari829@yahoo.com

تیرے کو ذلت کی زندگی دونگا ، نہ تو چھوڑونگا اور نہ ہی دوسری شادی کرنے دونگا ۔ میرے شوہر مجھے فون پر اس طرح کی دھمکی دے رہے تھے ۔ میرے شوہر کا نام مانس کمار بوس ہے ، میں مسلمان ہوں اور یہ آٹھ سال پہلے کی بات ہے جب میں ہائی ٹیک سٹی میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کررہی تھی اور مانس کمار بوس بھی اُسی کمپنی میں فیلڈ آفیسر کے طور پر کام کرتا تھا ۔ میں مسلمان ہوجاتا ہوں بول کر مانس کمار نے مجھ سے شادی کرلی ، شادی کے بعد میرے کو دو بچے ہوئے ، بڑا لڑکا دو سال کاہے اور دوسری لڑکی تین مہینے کی ہے لیکن شادی کے بعد مانس کمار نے دوسری لڑکیوں سے فون پر بات کرنا ، چیاٹنگ کرنا اور تو اور دوسری لڑکیوں کو گھر لانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

مجھے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ مانس کمار پہلے سے شادی شدہ ہے اور پہلی شادی سے اُس کو ایک لڑکی ہے ۔ مانس کمار بوس اڈیشہ کا رہنے والا ہے ، ایک مرتبہ اس نے مجھے اپنے گاؤں لیکر جاتا ہوں بولا اور اڈیشہ لے جاکر مجھے ہندو رسوم و رواج کے مطابق زندگی گذارنے کیلئے زبردستی کرنے لگا تھا۔

حیدرآباد میں اپنے دو دوستوں کو لاکر میرے ساتھ چھوڑ دیا ، اس کے دوستوں نے جب میرے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تو میں بھاگ کر پولیس میں شکایت کروائی، تب سے وہ ممبئی میں ہے بول کر کہتا آرہا ہے، میں جب بھی بولتی ہوں حیدرآباد آکر میرے ساتھ معاملہ کو ختم کردواورطلاق دے دو تو بولتا ہے کہ تیرے کو تو میں ایسے نہیں چھوڑوں گا اور آج صبح مجھے فون آیا کہ پولیس نے مانس کمار بوس کو گرفتار کرلیا ہے میں یہاں پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن پہنچی تو مجھے پتہ چلا کہ مانس نے ایک اور حیدرآبادی عورت کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

قارئین مندرجہ بالا تفصیلات کا اظہار شہر حیدرآباد کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی ہوکر ایک مسلمان برقعہ پوش خاتون نے کیا جو کہ برقعہ کے ساتھ نقاب سے اپنے چہرے کو پوری طرح ڈھانک رکھی تھی۔ پولیس اسٹیشن کے باہر ایک دوسری خاتون بھی ٹھہری ہوئی تھی اس مسلم خاتون نے بھی برقعہ کے ساتھ ساتھ نقاب سے اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانک رکھاتھا۔

اس دوسری خاتون نے بھی میڈیا کو کچھ تفصیلات بتلائی۔ اس کے مطابق یہ خاتون پہلے سے شادی شدہ ہے اور نوکری کی تلاش میں تھی، ایک جگہ اس نے ملازمت کیلئے انٹرویو دینے اپنی ساری تفصیلات جمع کی تو مانس کمار نے اس خاتون کو نوکری دلانے کے بہانے ملنے کو کہا اور شہر کے مضافات الوال میں لے جاکر چھ دنوں تک محروس رکھا، جہاں سے موقع ملتے ہی اس خاتون نے اپنے شوہر کو اطلاع دی اور یوں پولیس نے مانس کمار بوس کو گرفتار کرلیا۔ (25نومبر 2018)

روایاتی میڈیا سے پہلے سوشل میڈیا پراس خبر نے جنگل میں آگ کی طرح ہر ایک تک رسائی حاصل کرلی اورمختلف لوگوں نے اس خبر پر مختلف انداز میں تبصرہ کیا۔ بحیثیت مجموعی لوگوں کا تاثر تھا کہ ان برقعہ پوش خواتین کی ہی غلطی تھی، یہ لوگ مانس کمار بوس کے بچھائے جال میں پھنس گئیں اور انہیں اپنی غلطی کی سزا مل رہی ہے۔

قارئین ایک مانس کمار بوس کا چہرہ ہمارے سامنے آیاہے، کیا مانس کمار کو گالی گلوج کرنے برا بھلا اور غلیظ القابات سے نوازنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا ؟ ذرا سوچیئے گا غور کیجئے گا ۔25 نومبر 2018ء کو جن دو مسلم خواتین کی خبریں عام ہوئی ان دونوں کی (Case Study) یعنی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد برآمد ہونے والے نتائج اصل میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔

مانس کمار بوس کے استحصال کا شکار بننے والی دونوں خواتین کی کہانیاں ہمارے سامنے ہیں اوران دونوں کی کہانی میں ایک چیز مشترک ہے ۔ دونوں اپنے گھروں سے جب نوکری کیلئے باہر نکلیں تب ہی وہ مانس کمار بوس کے جال میں پھنسی۔

پہلی خاتون تو ہائی ٹیک سٹی کے سائبر ٹاؤر میں باضابطہ (Receptionist) کی ملازمت کے دوران مانس کمار سے رابطہ میں آئی، دونوں کی یہ ملاقات دوستی میں بدلی اور پھر مانس کمار نے دیکھا کہ یہ لڑکی نوکری تو کررہی ہے مگر اس کی شادی نہیں ہوئی تو مانس نے اس مسلم لڑکی سے شادی بھی کرلی۔

دوسری خاتون جو پنجہ گٹہ پولیس میں شکایت کرنے پہنچی اس نے بھی بتایا کہ وہ ایک خانگی دفتر میں ملازمت کیلئے درخواست دی تھی اور مانس کمار نے وہیں سے اس کا فون نمبر اور تفصیلات حاصل کر کے اس خاتون کو بھی اپنے جال میں پھنسا لیا۔

دوسرے احباب کی طرح میرے لئے بھی بڑا آسان کام ہے کہ میں بھی ان خواتین کو خوب برا بولوں اور سارا قصور ان لوگوں کا قرار دے کر خود چین کی نیند پوری کرلوں مگر کیا اس طرح کی صورتحال کا یہی علاج ہے ۔ مجھے سونچنا ہوگا کہ آخری وہ کونسی وجوہات ہیں جس کے سبب ان مسلمان لڑکیوں کو نوکری کرنا ضروری تھا۔ اگر ان کے گھروں کے مرد حضرات اچھا کما لیتے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تو ان عورتوں کو باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ؟ ذرا سا ٹھنڈے دماغ سے غور کیجئے۔

خیر سے پہلی لڑکی تو شادی سے پہلے ہائی ٹیک سٹی میں نوکری کررہی تھی لیکن دوسری لڑکی تو شادی شدہ تھی اور خود ملازمت تلاش کررہی تھی، کیا ان خواتین کے گھر والے جو مرد حضرات ہیں ان کی ذمہ داری نہیں کہ ان کی پریشانیوں اور ضروریات کا خیال رکھیں۔
برا نہ مانیئے گا سچی بات تو یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں لڑکے اور مرد حضرات اول تو پڑھائی کرنا بھول گئے دوسرا کمانا، یہ کسی ایک خبر کا تجزیہ نہیں بلکہ ایسی سینکڑوں حقیقی مثالیں ملیں گی۔

18 نومبر کو سرور نگر پولیس نے 37 سال کی ایک مسلم برقعہ پوش خاتون کو گرفتار کرلیا۔ یہ خاتون عوامی مقامات پر عورتوں کے زیورات چوری کررہی تھی۔ پولیس حراست میں اس خاتون نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ وہ اکیلی نہیں ہے بلکہ اس کی 70سال کی ماں اور 25سال کے بھائی نے مشترکہ طور پر چوری کی چالیس وارداتیں انجام دی ہیں۔ پولیس اس خاتون کے پاس سے 15 ہزار نقد رقم کے علاوہ ایک لاکھ روپئے مالیتی سونے کے زیورات برآمد کرلئے۔ ( بحوالہ اخبار دی ہنس انڈیا ،19 نومبر 2018)

تعلیم سے دوری اور ترک تعلیم مسلم نوجوانوں میں بڑی تیزی سے پھیلتی ہوئی وباء بن گئی ۔ ایسے میں والدین کی فکریں مزید بڑھ گئیں کہ اگر ہماری بیٹی کو صحیح لڑکا نہیں ملا تواس کے پاس کم سے کم اتنی تعلیمی لیاقت تو ہونی چاہیئے کہ وہ اپنی مدد آپ کرسکے اور کہیں پر نوکری کر کے اپنے پیروں پر خود کھڑی ہوسکے۔ مسلمان لڑکے تعلیم کے میدان و نوکریوں کے میدان میں کافی سے زیادہ بچھڑ گئے ہیں۔

اخبار ’’ دکن کرانیکل ‘‘ نے 24 نومبر 2018ء کو ایک 25سال کے مسلم نوجوان کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کرنے کے کمشنر پولیس حیدرآباد کے حکم کے متعلق خبر شائع کی۔ تفصیلات کے مطابق ایرکنٹہ کے مکین اس نوجوان کو پُرتعیش معیار زندگی اتنا پسند آگیا تھا کہ اپنی زندگی میں ساری سہولیات حاصل کرنے کیلئے یہ نوجوان لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان سے رقم وصول کرنے کے غیرقانونی کاموں میں مصروف تھا۔

اس سے قبل اگست کے مہینہ میں بھی اس نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ معروف انگریزی میگزین ’’ انڈیا ٹوڈے ‘‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر 14 نومبر 2018ء کو حیدرآباد کے ہی ایک 19سالہ مسلم طالب علم کے متعلق خبر جاری کی، خبر کی تفصیلات میں بتایا گیا اس نوجوان طالب علم کو اسپیشل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے 200روپئے جرمانہ اور تین دن کی قید کی سزا سنائی۔ اس نوجوان مجرم کے متعلق الزام تھا کہ یہ نوجوان ایک شادی شدہ خاتون کی نجی فوٹوز حاصل کرتے ہوئے ان فوٹوز کو ایک فرضی آئی ڈی کے ذریعہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے خاتون اور اس کے شوہر کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

یہی نہیں آج کل تو ریاست تلنگانہ بھر میں خاص کر حیدرآباد میں مسلمان شراب نوشی میں ملوث ہوتے جارہے ہیں، ابھی نومبر 2018ء کے دوسرے ہفتہ میں شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف کاچیگوڑہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں 17 افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ان میں سے 14 افراد کو جیل بھیج دیا گیا اور قارئین کاچیگوڑہ پولیس اسٹیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں 14 ایسے افراد کے نام بھی درج ہیں جو شراب پی کر گاڑی چلانے کے جرم کے مرتکب پائے گئے۔

افسوس تو اس بات کا ہے ان 14لوگوں میں سے 3 مسلمان بھی شامل ہیں۔ دو مسلمانوں کو تو بالترتیب دو اور تین دنوں کی جیل کی سزا اور جرمانہ لگایا گیا اور تیسرے مسلمان صاحب کو ساڑے تین ہزار روپئے جرمانہ کے علاوہ 15 دن کی قید کی سزا سنائی گئی۔ پہلی مرتبہ شراب پی کر گاڑی چلانے کا جرمانہ دو دن قید اور 2100 روپئے کا چالان ہے اور تیسرے مسلمان صاحب مسلسل دوسری مرتبہ شراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے گئے۔ اس وجہ سے ان پر عائد جرمانہ اور قید کی سزا ہر دو میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اگر شراب نوشی کی عادت پولیس چالان اور جیل کی سزا سے چھوٹ سکتی ہے تو پھر لوگ دوسری ، تیسری مرتبہ شراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے نہیں جاتے۔ مسلم نوجوانوں میں ایسی ایسی برائیوں نے جگہ بنالی ہے کہ اللہ کی پناہ یہ لوگ تعلیم سے ہی نہیں مذہب کی تعلیمات سے بھی کافی دور ہوگئے ہیں اور ایسے ہی بگڑے ہوئے نوجوانوں نے شادیوں کو کاروبار بناکر رکھ دیا ہے اور طلاق کو مذاق بنادیا ہے۔

کتنا آسان ہے میرے لئے کہ میں مانس کمار بوس کی جال میں پھنسنے والی لڑکیوں کو الزام دوں، کیا میں یہ بات قبول کرنے تیارہوں کہ مسلم لڑکوں کی بڑھتی ہوئی غیر ذمہ داری اور تربیت کے فقدان نے آج ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ لڑکیوں کے قدم لڑکھڑانے لگے ہیں اور میں کیسے ایماندار ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہوں، جب میں لڑکوں کی غیر ذمہ داریوں، لاپرواہی، شراب نوشی، تعلیم سے د وری، جرائم سے رغبت کو نظرانداز کردوں اور صرف مسلم لڑکیوں کی غیروں سے شادی پر گھر سے بھاگنے پر، دین سے دوری پر شکوے شکایت کروں، کیا دین اسلام صرف خواتین اور لڑکیوں کیلئے ہے کیا لڑکوں اور نوجوانوں پر اسلام کی تعلیم لازمی نہیں۔

محنت کر کے کمانا لڑکیوں کی نہیں لڑکوں کی ذمہ داری ہے اور لڑکوں نے کمانے اور محنت کرنے کا سبق بھلا دیا تو میں لڑکیوں کو کیسے برا بولوں، آخر کسی کو تو زندگی گزارنے پیسے کمانا اور جمع کرنا ہے۔

کاش کے ہم مسلمان اپنی زندگی کے اصل مقصد کو پہچان لیں اور اس سبق کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس دنیا میں ہمیں کس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلا دے اور ان لوگوں میں ہمارا شمار کر جن پر اس کا انعام ہو۔ ( آمین یا رب العالمین)
کالم نگارمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں اسوسیٹ پروفیسر ہیں.

کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں