22

ہم تو وحشیوں سے بھی بدتر ٹھہرے۔۔۔

مضمون: ایم ودود ساجد

اِرادہ یہ تھا کہ دو ہفتے قبل انڈومان نکوبار کے دورافتادہ ایک جزیرہ پر ایک امریکی عیسائی شہری کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر تفصیل سے لکھوں گا۔۔۔لیکن بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے درمیان ہونے والی خوں ریزی نے یہ ارادہ ترک کرادیا۔۔۔

ہندوستان میں چند ایسے جزیرے آج بھی آباد ہیں جہاں بسنے والے انسانی قبائل تک باقی دنیا کا کوئی فرد نہیں جاسکتا۔۔۔کسی طرح چلاجائے تو اس کے زندہ بچ کر نکل آنے کے امکانات معدوم ہیں ۔۔۔یہی اُس امریکی نوجوان ایلن چاؤ کے ساتھ ہوا جو اس سے پہلے بھی دو مرتبہ اس جزیرے میں آباد مادر زاد برہنہ بدن وحشی قبائل۔۔۔sentlnelese تک رسائی کی کوشش کرچکا تھا۔۔۔

ایلن چاؤ کیوں ان قاتل قبائلیوں سے ملنا چاہتا تھا جو ترقی پزیر دنیا کے کسی انسان کو اپنی بستیوں کے پاس بھی آنے دینا نہیں چاہتے اور کسی انسان کو آتا دیکھ کر بانس کی لکڑی سے بنائے گئے خطرناک نوکیلے اور خاردار تیروں کی بارش شروع کردیتے ہیں ۔۔؟

گزشتہ 200 برس کی معلوم تاریخ بتاتی ہے کہ جس پر انہوں نے تیر برسادئے وہ پھر جاں بر نہ ہوسکا ۔۔

پھر یہ پڑھا لکھا نوجوان ‘چاؤ’ وہاں کیوں گیا۔۔؟ اس کا جواب 13 صفحات پر مشتمل چاؤ کی خودنوشت سے ملتا ہے۔۔۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ان آدم دشمن قبائل کو یہ بتانے گیا تھا کہ ” عیسی مسیح تم سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔” اس نے یہ بھی لکھا کہ جب اُس نے وحشی قبائلیوں کی زبان میں مذہبی ترانہ گانا شروع کیا تو وہ بھڑک اٹھے اور انہوں نے تیروتفنگ سے اس پر حملہ کردیا۔۔۔

اِن جزیروں تک سرکاری طور پر ( باضابطہ ایک ایکٹ کے تحت ) عام رسائی پر پابندی ہے۔۔۔بغیر اجازت لئے غیر ملکی سیاح بھی وہاں نہیں جاسکتے ۔۔۔ان انسان نما وحشی نفوس کی تعداد 90 سے 200 تک کے درمیان بتائی جاتی ہے۔۔۔یہ قبائلی پچھلے 60 ہزار سال سے ارتقاء پزیر دنیا سے کٹے ہوئے ہیں ۔۔۔ان سے اب تک صرف دوبار کامیاب انسانی رابطہ ہوسکا ہے۔۔۔لیکن بس چند لمحوں کے لئے ۔۔۔ایک بار ایک امریکی سیاح بہت سا سازوسامان تحفتاَ لے کر گیا تھا اور ایک بار کوئی ہندوستانی رضاکار ناریل لے کر گیا تھا۔۔۔لیکن تحفے لینے کے بعد ان قبائلی وحشیوں نے تیر اور کلہاڑیاں دکھا دکھا کر اپنے خیر خواہوں کو جلد واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔۔۔

اس قصہ کو یہیں روکتے ہیں ۔۔۔
یہ امریکی نوجوان چاؤ یہ جاننے کے باوجود ان وحشیوں تک پہنچا کہ وہ اپنے محسنوں اور خیر خواہوں تک کو نہیں بخشتے اور یہ کہ سرکاری طور پر وہاں عام انسانوں کا جانا منع ہے۔۔۔اس نے اپنے ‘مشن’ کی تکمیل کی خاطر ان قبائلیوں کی نامانوس اور غیر معروف زبان تک سیکھ لی۔۔۔اس کی خود نوشت کے مطابق وہ وہاں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے گیا تھا۔۔۔وہ ان کے حملوں سے زخمی ہونے کے باوجود جو ڈائری لکھ رہا تھا اسے ساحل پر لنگر انداز اس کشتی تک پہنچانے آیا جو انڈومان کے ساحل سے 13 گھنٹے کا سفر طے کرکے اسے لے کر وہاں پہنچی تھی اور جس کے اندر اس کے رہبر ماہی گیر چاؤ کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ حیرت یہ ہے کہ وہ اس حال میں بھی کشتی پر سوار ہوکر واپس شہر نہیں پہنچا بلکہ انہی وحشیوں میں دوبارہ لوٹ گیا۔۔۔۔اب ہندوستانی حکومت یہ تحقیق کر رہی ہے کہ کہیں اسے مشنریوں نے کسی مذہبی مشن پر تو نہیں بھیجا تھا۔۔۔۔؟

بہر حال ان وحشی قبائلیوں نے چاؤ کو ماردیا اور اب وہ اس کی لاش اٹھانے نہیں دے رہے ہیں ۔۔۔۔بلکہ کچھ دنوں تک ساحل پر چھوڑے رکھنے کے بعد اب انہوں نے اس کی لاش بھی جزیرے کے اندر جنگل میں کھینچ لی ہے۔۔۔۔ان کی وحشت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اب حکومت نے لاش حاصل کرنے کے مشن کو موقوف کردیا ہے۔۔۔۔

چاؤ کو سامنے رکھ کر بنگلہ دیش سے آنے والی خوفناک خبروں اور وہاں کی مبینہ تصویروں اور مبینہ ویڈیوز کو دیکھتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے والوں کے درمیان کتنا بڑا ہمالیائی فرق ہے۔۔۔۔پچھلے دو برس سے جو کچھ یہاں نئی دہلی کے مرکز میں ہورہا تھا اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا جو بنگلہ دیش میں ظہور پزیر ہوا۔۔۔

باہمی خوں ریز تصادم کے متعدد واقعات یہاں بھی ہوچکے ہیں ۔۔۔اس موضوع پر ایک عرصہ سے بہت تفصیل کے ساتھ لکھنے کو جی چاہتا ہے لیکن متعدد اسباب آڑے آتے رہے۔۔۔

تفصیل پھر سہی لیکن سردست تو بس ایک ہی بات ذہن میں گردش کر رہی ہے۔۔۔ ایک طرف چاؤ ہے جو اپنے مذہب کی تبلیغ میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ انتہائی خطرناک’ آدم بیزار اور وحشی قبائل کو اپنا مدعو بنانے چلا گیا
۔۔۔اور
۔۔۔۔دوسری طرف اکرامِ مسلم کے یہ داعی ہیں جو امارت اور شورائیت کے عبث سوال پر خود ہی وحشی بن گئے ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں