16

فرانس میں مہنگائی کے خلاف عوام سراپا احتجاج،110 زخمی

پیرس: فرانس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے، مہنگائی اور ٹیکس میں اضافہ کے سلسلے میں ہو نے والے مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں 110 افراد زخمی ہو گئے ہیں جس میں پولیس کے 20 اہلکار بھی شامل ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ كرسٹوفے كیسٹنر نے ہفتہ کے روز کہا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلے میں گزشتہ تین ہفتے سے ملک میں ہورہے مظاہروں میں تقریباً 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مسٹر كیسٹنر نے نیوز چینل بي ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ لوگ پیلی جیکٹ پہن کر مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس دوران جھڑپ میں 20 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ مظاہرہ کرنے والا ایک شخص شدید طور پر زخمی ہوگیا ہےجس کی حالت نازک ہے۔

راجدھانی پیرس کی گلیوں میں پرامن مظاہرہ کرنے والے میں، ماسک پہنے کچھ نامعلوم لوگ شامل ہو گئے اور انہوں نے اس سماجی تحریک کو هائی جیك کر لیا۔ سوشل میڈیا پر حکومت کی مالی اور اقتصادی پالیسیوں پر تنقید شروع ہو گئی ہے۔ امیروں کو فائدہ پہنچانےاور کم آمدنی والے طبقے کی صلاحیت کم کرنے والی ان پالیسیوں کی جم کر مخالفت کی جا رہی ہے۔

راجدھانی پیرس میدان جنگ تبدیل ہو گئی ہے۔ مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں اور کرسمس ٹری کو آگ لگا دی ہے جس کی وجہ سے بہت سے میٹرو اسٹیشن بند کرنے پڑے ہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق 3000 مظاہرین میں دائیں بازو اور کٹر بائیں بازو کے حامی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ’قابل مذمت‘ تشدد کے دوران 263 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مظاہرین نے ہفتہ کو کئی اہم عوامی مقامات پر سیکورٹی گھیرے کو توڑنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولےداغے اور پانی کی بوجھار کا استعمال کیا۔

ارجنٹینا کے بیونس آئرس میں جی -20 اجلاس میں حصہ لے رہے فرانس کے صدر امینوئل میکرون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ فرانس لوٹ کر اتوار کو متعلقہ وزیروں سے ملاقات کریں گے۔

مسٹر میكرون نے کہا کہ ’’سکیورٹی پر حملے کو کسی بھی صورت صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دکانوں، پرائیویٹ اور سرکاری عمارتوں میں آگ زنی، راہگیروں اور صحافیوں پر حملوں کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘‘َ۔

انہوں نے کہا کہ ’’تشددکے ذمہ دار لوگ کوئی تبدیلی اور بہتری نہیں چاہتے ہیں۔ وہ بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو شناخت کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ میں مظاہروں کا ہمیشہ احترام کرتا رہوں گا۔ میں مستقبل میں بھی اپوزیشن کا موقف سنتا رہوں گا، لیکن میں کبھی بھی تشدد کو قبول نہیں کروں گا‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں