16

6 دسمبر کیوں یوم سیاہ ہے؟

✍: محمد طاهر مدنی، جنرل سیکرٹری، راشٹریہ علماء کونسل….
3 دسمبر 2018

یوم سیاہ وہ ہوتا ہے جو کسی بڑے حادثے سے وابستہ ہوجاتا ہے. جس دن ظلم و ستم اور ناانصافی کا کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے. جب انسان حیوان بن جاتا ہے، جب قانون کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں. جب انصاف کا خون کیا جاتا ہے. جب آئین کو پیروں تلے روند دیا جاتا ہے. جب انسانیت شرما جاتی ہے. جب قانون نافذ کرنے والے ادارے بے اثر ہوجاتے ہیں. جب عبادت خانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے. جب طاقت کے نشے میں بھیڑ پاگل ہوجاتی ہے. جب حکمران اپنے فرائض سے غافل ہوجاتے ہیں. جب کمزوروں کو انصاف نہیں ملتا…..

6 دسمبر 1992 کو ایودھیا یہ سب کچھ ہوا، اس لیے وہ یوم سیاہ ہی نہیں بلکہ یوم سیاہ ترین ہے. ایک قدیم مسجد جو بابری مسجد کے نام سے معروف ہے، جس کی تعمیر 1528 میں ہوئی تھی اور جہاں اسی وقت سے نماز ہوتی تھی، جس میں 22 دسمبر 1949 کی شب میں چوری سے مورتیاں رکھ دی گئیں، جس کے بعد نماز زبردستی روک دی گئی اور پوجا پاٹ کا سلسلہ غیر قانونی طور پر شروع کرا دیا گیا، بعد میں عام درشن کی اجازت بھی دے دی گئی، لیکن مسلمانوں پر اس میں نماز کی پابندی باقی رکھی گئی. غاصبانہ قبضے کے سہارے باقاعدہ رام مندر کے نام سے اندولن شروع کیا گیا، ہندو مسلم منافرت کا بازار گرم کیا گیا، الیکشن میں فائدہ اٹھانے کیلئے اس غبارے میں ہوا بھری گئی اور پورا سنگھ پریوار اس میں لگا رہا. بالآخر 6 دسمبر 1992 کو اکٹھا کارسیوکوں کی بھیڑ نے اپنے رہنماؤں کی کی موجودگی میں ان کی شہ پر اس تاریخی مسجد کو شہید کر دیا اور پوری دنیا میں ملک کا سر جھکا دیا……..

6 دسمبر اس لیے یوم سیاہ ہے کیونکہ؛
ملک کا آئین جو سب کیلئے انصاف کی ضمانت دیتا ہے، اسے پامال کردیا گیا…
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف انڈیا کا حکم توڑ کر اس کی توہین کی گئی…
یوپی کے چیف منسٹر کلیان سنگھ نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامے کی کوئی پرواہ نہیں کی….
ملک کے وزیر اعظم نرسمہاراؤ نے اپنا فرض نہیں نبھایا….
ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی…
ایودھیا میں تعینات سیکورٹی فورسز نے شرپسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کی…
ملک کے انصاف پسند لوگ، ناانصافی کے خلاف لام بند نہیں ہوسکے….
قومی یکجہتی کونسل کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکی…

اس دن صرف ایک مسجد ہی نہیں شہید کی گئی بلکہ دستور، آئین، عدالت اور انصاف، سب کا خون کر دیا گیا،،،،، اس لیے 6 دسمبر یوم سیاہ ہے. ہماری ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے. جو تنازعہ عدالت میں ہو، اس میں عدالت کے فیصلے کا انتظار ہوتا ہے اور اس سے پہلے کسی فریق کو تصرف کا حق نہیں ہوتا، یہی ایک مہذب سماج علامت اور پہچان ہے. ایک طرف جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا اعلان کیا جائے اور دوسری طرف حکومت کی سرپرستی میں انصاف کا خون کیا جائے، اسے کیا کہا جائے گا؟؟؟

بابری مسجد کا تنازعہ جب سے کھڑا ہوا، مسلمان یہ کہ رہے ہیں کہ اگر ثبوت کی بنیاد پر یہ الزام ثابت کردیا جائے کہ بابری مسجد، مندر توڑ کر بنائی گئی تو ہم خود اس سے دست بردار ہوجائیں گے کیونکہ غصب کی ہوئی زمین پر مسجد نہیں بن سکتی ہے اور ایسی زمین پر نماز درست نہیں ہوسکتی. فریقین کے دلائل و شواہد داخل عدالت ہیں، ملکیت زمین کا معاملہ ہے، عدالت علیا ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی کیونکہ ایسے معاملات کا فیصلہ آستھا پر نہیں ہوتا. کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی معاملہ عدالت میں پیش ہو اور اس کے بارے میں جن آندولن چلایا جائے، ملک کا وزیراعظم جن سبھا میں عدالت کے خلاف ریمارک دے، اگر آستھا کی بنیاد پر ملکیت کے فیصلے ہونے لگے تو کوئی عبادت خانہ محفوظ نہیں رہے گا اور ملک میں ایسی افراتفری پھیلے گی کہ لاقانونیت کا بول بالا ہوگا اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق پامال ہوجائیں گے.

اس مسئلے کا منصفانہ حل یہی ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نرسمہاراؤ کے وعدے کے مطابق فی الفور مسجد کی تعمیر نو کی جائے، بابری مسجد کی شہادت کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جائے اور حتمی حل کیلئے عدالت علیا کے فیصلے کا انتظار کیا جائے.

کچھ لوگ اس طرح کی تجویز رکھتے ہیں کہ امن و امان کے لیے یہ چاہیے کہ مسلمان مسجد سے دست بردار ہوجائیں… ایسے لوگوں سے بس یہی کہنا ہے کہ ایسا اختیار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے ہی نہیں، پوری اسلامی تاریخ سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کہیں مسلمانوں نے بت خانہ بنانے کیلئے مسجد حوالہ کردی ہو، نہ کوئی فقیہ اس کے جواز کا فتوی دے سکتا ہے کہ مسجد بت بنانے کیلئے دینا جائز ہے. یہ تو ممکن ہے کہ کوئی طاقت کے نشے میں زبردستی مسجد کو شہید کردے اور وہاں بت خانہ بنادے. مسلمان خانہ خدا کی بحالی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اسی کے وہ مکلف ہیں لیکن جب طاقت حاصل ہوگی تو اسے بحال کریں گے اور از نو سجدوں سے آباد کریں گے.
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ بابر جو پورے ملک کا بادشاہ تھا اور اس کا گورنر میر باقی جو اودھ کا حاکم تھا، ان کو ایک مسجد بنانے کیلئے کوئی صاف ستھری غیر متنازعہ جگہ نہیں ملی اور انہوں نے ایک مندر توڑ کر، مسجد بنوادی، کیا ایسا ممکن ہے؟ جبکہ اسلامی شریعت کی رو سے ایسی مسجد میں نماز ہی جائز نہیں ہے.

یہ ایک جھوٹا افسانہ ہے جسے انگریزوں نے ہندو مسلم منافرت کیلئے وضع کیا اور بعد میں فرقہ پرست طاقتوں نے اسے اچک لیا کیونکہ ان کے ایجنڈے کیلئے یہ مددگار مسئلہ ہے.
اس وقت جنرل الیکشن قریب ہے تو مسئلے کو گرمایا جارہا ہے تاکہ الیکشن میں فائدہ اٹھایا جاسکے. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بارے میں تمام انصاف پسند لوگوں کو ساتھ لے کر مسلسل زور دار آواز اٹھائی جائے اور عوام کے اندر بیداری پیدا کی جائے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور کس طرح فرقہ پرست طاقتیں اپنے مفاد کیلئے ملک کو منافرت کی آگ میں جلانا چاہتی ہیں.
6 دسمبر یوم سیاہ ہے، اسے یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور تمام آئینی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کی آواز بلند کی جاتی رہے گی اور بابری مسجد کی بازیابی کیلئے ہر ممکن جدوجہد جاری رہے گی. ان شاء اللہ

(کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں