27

ملک کے موجودہ حالات میں ہم کیا کریں؟

( ایک عملی فارمولا )

✍: داعی سراج احمد ندوی ممبئی.

اس وقت ملک کے جو حالات ہیں اور جس طرح سے اقتدار کی خاطر ملک کی عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں، اور ایک خاص قسم کا ماحول بنایا جارہا ہے اس سے کون واقف نہیں ہے،؟ اور کون ایسا صاحب دل ہے جو ان حالات کو دیکھ کر کڑھتا نہ ہو ؟

آئیے!
ان حالات میں ہم اپنا داعیانہ اور خیر خواہانہ کردار ادا کریں،( اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں تمام انسانیت کے لئے نفع بخش اور خیرخواہ بنایا ہے،) اور اپنے تئیں یہ طے کریں کہ ہم اس ملک کو نفرت کی آگ میں نہیں جلنے دیں گے، اور شر پسند عناصر کے ہاتھوں یہاں کی امن و امان کی فضا کو خراب نہیں ہونے دیں گے، بلکہ یہ ملک محبت کا ملک ہے اور یہاں محبت ہی کی کھیتی اگائیں گے.

کرنا کچھ نہیں ہے بس آپ کو اپنے قرب و جوار میں رہنے والے ہر ایک برادران وطن کی ذہن سازی کرنی ہے،اس طرح کے آپ جہاں ہیں جس فیلڈ میں وہاں لوگوں سے ملاقات کیجئے، اور جو زیادہ کٹر ہو اس سے ضرور ملاقات کیجئے، ملک کے حالات پر گفتگو کیجئے، بتائیے دنیا کہاں جارہی ہے اور ہمارے ملک کی سیاست ہمیں کہاں لے جارہی ہے؟
اور ہم کس طرح تباہی کی طرف جارہے ہیں؟

بتائیے! کہ اس ملک کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں ہر قسم کے 🌷پھول کھلیں، ہر قسم کی کلیاں چٹکیں، اور ہر قسم کے پرندے چہچہائیں،

اسلام اور مسلمانوں سے متعلق جو غلط فہمیاں ان کے ذہنوں میں ہیں اسے دور کرنے کی کوشش کیجئے،

بتائیے! کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سارے انسان ایک مالک کے بندے ہیں، ایک ماں باپ کی اولاد ہیں،

براہ راست دعوت نہ بھی دیں تو اسلام، قرآن، اور پیغمبر اسلام کا صحیح تعارف پیش کیجئے! ،

کتابیں پہنچائیے! ،چھوٹے چھوٹے کتابچے پمفلٹ تقسیم کیجئے! اس بارے میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی وہ تقریریں بہت مفید رہیں گی جو پیام انسانیت کے جلسوں کی گئیں تھیں اور اب کتابچوں کی شکل میں لکھنؤ پیام انسانیت فورم سے شائع ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ سوامی لکشمی شنکر آچاریہ کی کتاب “اسلام آتنک یا آدرش” بھی بہت مفید ہے،
مدھر سندیش سنگم دہلی نے بھی بہت سی کتابیں شائع کی ہیں،ایک کتاب ہے “? इतिहास के साथ यह अन्याय (تاریخ کے ساتھ یہ ناانصافی؟) یہ کتاب پروفیسر بی اینڈ پانڈے کی ہے. اس میں مصنف نے اورنگزیب عالمگیر کے متعلق کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے، زیادہ سے زیادہ پانچ روپے کی کتاب ہوگی.

سوشل میڈیا کا استعمال کیجئے، سوشل میڈیا پر فضول بحث و مباحثہ اور بے فائدہ میسج کے بجائے اس طرح کی کوششیں کیجئے! بہت دنوں سے ہمیں شکایت تھی کہ میڈیا دوسروں کے ہاتھ میں ہے اب اللہ نے سوشل میڈیا کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں دے دیا ہے اب اس کا صحیح استعمال کیجئے.
آپ کو یاد ہو گا؟ ترکی میں طیب اردگان کے خلاف بغاوت اسی سوشل میڈیا کے ذریعہ ناکام ہوئی تھی.

یہ کام بہت آسان ہے بالکل بھی مشکل نہیں ہے، آپ جہاں ہیں جس فیلڈ میں ہیں بس طے کرلیجئے کہ مجھے یہ کام کرنا ہے،
آپ ٹیچر ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ ڈاکٹر ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ انجینئر ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ وکیل ہیں جج ہیں پولیس والے ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ تاجر اور کاروباری ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ اسٹوڈنٹ ہیں تو اپنے حلقے میں
آپ علماء و مقررین ہیں تو آپ تو بڑے وسیع پیمانے پر یہ کام کرسکتے ہیں،
آپ اخبار نویس کالم نگار ہیں تو آپ تو اس فکر کو اور وسعت دے سکتے ہیں.
بازاروں، کچہریوں، تحصیلوں، پولیس چوکیوں، چوراہوں اور چائے کی دوکانوں میں جس جگہ بھی ہوں آپ اپنا کام کر جائئے!
الغرض آپ جہاں ہیں جیسے ہیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں آگے بڑھیں اور عوام کی سوچ اور اس کی فکر کو تبدیل کریں. کچھ نہیں کرسکتے ملاقات کیجئے دو میٹھے بول بول دیجئے، ایک کپ چائے پلادیجئے،

ع: قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف!

بس آپ ٹھان لیجئے! پورے ملک کا رجحان بدل جائے گا، گویا پورا ملک آپ کے ہاتھوں میں ہے بس ذرا محبت سے اس کا رخ درست کردیجئے!
محبت فاتح عالم!

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.

(کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں