6

یوپی میں اگر ہم نے کانگریس کو ٹھکرایا تو۔۔۔۔۔۔؟: اکھلیش

لکھنؤ: راجستھان اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ذریعہ ٹھکرائے جانے سے مایوس سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے بدھ کو کہا کہ اترپردیش میں اگر ان کی پارٹی کانگریس کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کی حالت کا بمشکل ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

راجستھان کے ضلع الور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ ’’راجستھان میں سماجوادیوں کو کانگریس نے ساتھ میں نہیں لیا۔ سوچو اگر ہم نے اترپردیش میں انہیں ٹھکرادیا تو کیا ہوگا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات اور گذشتہ سال اترپردیش اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے اترپردیش میں زورال پذیر کانگریس کو سہارا دیا حالانکہ اس کے باجود بھی کانگریس کا مظاہرہ کافی مایوس کن رہا۔ اگر آنے والے عام انتخابات میں ان کی پارٹی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں کانگریس کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کی حالت کیا ہوگی؟۔

کانگریس و بی جے پی کی پالیسیوں کو ایک جیسا بتاتے ہوئے ایس پی سربراہ نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ملک میں خوشحالی کا راستہ سماجوادی کا راستہ ہے۔ بی جے پی کو عوام نے ووٹ دیا تھا کہ مہنگائی کم ہوگی، بی جے پی نے کانگریس سے بھی زیادہ مہنگائی بڑھادی۔ بی جے پی کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنی کی بات کرتی ہے لیکن کیسے کرے گی یہ فارمولہ نہیں بتاتی۔ راجستھان میں روزگارنہیں ہے، غریب عوام اور نوجوانوں کو دھوکہ مل رہا ہے۔

مسٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم بیت الخلاء کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن بیت الخلاء جو بن چکے ہیں ان میں پانی نہیں ہے۔کانگریس نے ایک گڈھے کا بیت الخلاء بنایا تھا تو بی جے پی اب دو گڈھوں کا بیت الخلاء بنا رہی ہے۔ یعنی کانگریس نے جہاں چھوڑا بی جے پی اسے ہی آگے بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم اترپردیش نے دئیے ہیں۔دہلی کا راستہ اترپردیش سے ہی ہوکر جاتاہے۔ وزیر اعظم بننے کے لئے یہاں آنا ضروری ہے، راجستھان سے سماجوادیوں کا پرانا تعلق ہے۔ راجستھان کے دھولپور میں پڑھائی کے دوران جو تعلیم ملی وہ آج بھی سیاست میں کام آرہی ہے۔

ایس پی سربراہ نے کہا کہ راجستھان میں سماجوادیوں کی جیت کا پیغام پورے ملک میں جائےگا۔ راجستھان میں بھی سائیکل چل پڑی ہے اب یہ رفتار حاصل کرے گی۔ یہ رکنے والی نہیں ہے جب تک سیاسی، معاشی احترام حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک سماجی احترام بھی نہیں ہوگا۔ عوام کو یہ بات اچھی طرح سے اپنی ذہنوں میں نقش کر لینی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں