9

بلند شہر واقعہ بی جے پی کی منظم سازش: سنجے

لکھنؤ: اترپردیش کی بی جے پی حکومت پر بلند شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے منگل کو کہا کہ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی شہ پر بی جے پی اور اس سے وابسطہ تنظموں کے کارکن بلاخوف سیکورٹی اہلکار کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے یہاں صحافیوں سے کہا کہ بلند شہر میں گئو شی کی افواہ پر تشدد ریاستی حکومت کی فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی منظم سازش تھی جس سے جانباز پولیس افسر سبودھ کمار سنگھ نے اپنی شہادت دیکر ناکام بنادیا۔ مسٹر سنگھ دادری کے بساہڑا میں پیش آئے اخلاق کے قتل کے معاملہ کی جانچ کررہے تھے۔ اس سے پہلے ان پر کم سے کم تین بار جان لیوا حملے ہوچکے تھے۔ گئو کشی کی افواہ کے بعد پولیس ایف آئی آر درج کرنے کو تیار تھی مگر شرپسند عناصر کی منشی فساد بھڑکانے کی تھی کیونکہ ضلع میں اسی وقت مسلم سماج کا بہت بڑا پروگرام چل رہاتھا۔
انہوں نے کہا کہ شہید پولیس افسر نے معاملے کی نزادکت کو بھانپتے ہوئے ضروری کاروائی کی مگر بھیڑ میں شامل شرارتی عناصر نے نا صرف ان کی جان لے لی بلکہ ایک دیگر نوجوان کو بھی نشانہ بنا کر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ دوسری جانب مقامی ممبر اسمبلی دیویندر لودھی کا بیان بھی بی جے پی کو کٹگھرے میں کھڑا کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پولیس افسر کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پولیس افسر کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے سازشوں کے لئے ذمہ دار لوگوں کو سخت سزادلانے کا بیان دیے رہے ہیں جوحکومت کی منشی کو ظارکرنے کے لئے کافی ہے۔آپ لیڈر نے شہید افسر کے اہل خانہ کو کم سے کم ایک کروڑ روپئے کی مالی تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کو مکمل سیکورٹی مہیا کرانے کا مطالبہ کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں