12

بی جے پی کے حکمرانی والی ریاستوں میں 12ہزار کسانوں کی خودکشی :ممتا بنرجی

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں کسان مسلسل خودکشی کررہے ہیں اور حکومتیں اس جانب توجہ دینے کے بجائے جذباتی اور مذہبی سیاست کے ذریعہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

مشرقی مدنی پور میں منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں کسانوں کے ساتھ انصاف کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ خواتین ٹیچروں کااحترام نہیں کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدارریاستوں میں 12ہزار کسانوں نے خودکشی کیوں کی؟بی جے پی حکومتیں کیا کررہی تھیں، کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قرض ادائیگی نہیں کرنے اور اناج کا صحیح دام نہیں ملنے پر مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتس گڑھ میں بڑی تعداد میں کسانوں نے خودکشی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کسانوں نے 29نومبر کو قومی راجدھانی میں احتجاج کیا۔کسان قرض معافی کا مطالبہ کررہے تھے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی
۔
وزیر اعلیٰ نے جارحانہ انداز میں سوال کیا کہ آخر بی جے پی اساتدہ اور خواتین کے تئیں احترام کا رویہ اختیار کررہی ہے۔آخر لوگوں کو کیوں مارا جارہا ہے اورملک میں بدامنی کیوں پھیلائی جارہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اقلیتوں پر حملے ہورہے ہیں اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ے یوگی آدتیہ ناتھ اور اترپردیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں حقوق انسانی کو پامال کیا جارہے۔ایجنڈے کے تحت بے قصور افراد کا انکاؤنٹر کیا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی ہندو اور مسلمان دونوں کے خلاف ہیں۔آسام میں بنگالی و غیر بنگالیوں، مہاراشٹر اور گجرات میں بہاریوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہے تو کہیں ہندو اور مسلمانوں کو لڑادیا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف بنگالی ہونے کی بنیاد پر آسام میں این آر سی کے نام پر 40لاکھ افراد کے نام کو باہر کردیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس میں 23لاکھ ہندو بنگالی بھی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں بی جے پی اور اس کے ہم نظریات لوگوں کاکوئی کردار نہیں تھا۔وزیر اعلیٰ نے الزام عاید کیا کہ ترنمول کانگریس کے خلاف سازش میں بی جے پی کے ساتھ سی پی ایم کے لیڈران شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں