14

ہندوستان بدترین سیاسی، معاشی وسماجی بحرانی کا شکار

فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کے دستور کو بچانا سب سے بڑا چیلنج۔حیدرآباد میں مائناریٹی کنونشن ،غلام نبی آزاد، سی ایم ابراہیم، رحمن خان اور کنہیا کمار کا خطاب

حیدرآباد: ہندوستانی جمہویت غریب، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے چلتی ہے کیونکہ یہ لوگ پولنگ کے روز سرگرمی کے ساتھ ووٹ ڈالتے ہیں۔ بڑے بزرگ اور برقعہ پوش خواتین قطاروں میں ٹھہرکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں جبکہ صاحب ثروت اور بڑے بڑے تاجر پیشہ افراد بہت ہی کم اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار جناب غلام نبی آزاد اپوزیشن لیڈر راجیہ سبھا و سینئر کانگریسی رہنما نے حیدرآباد کی ہوٹل پارک میں یونائٹیڈ مائناریٹی فورم کے زیر اہتمام منعقدہ آٹھویں سالانہ ریاستی کنونشن کے موقع پرکیا جس میں تلنگانہ اور کرناٹک کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی ۔ان شخصیات میں رحمن خان ، سی ایم ابراہیم، ناصر حسین ایم پی، کنہیا کمار، احمد شریف، زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست ، ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی ،ضمیر الدین، آرسی کنتیا،مدھو گوڑ یاشکی،احمد سعید قابل ذکر ہیں۔

جناب ظفر جاوید کنوینر مائناریٹی فورم اس کنونشن کے روح رواں تھے۔ شہ نشین پر عامر جاوید، مسٹر بوس تھے۔
جناب غلام نبی آزادنے کہاکہ وہ چار وزرائے اعظم کے دور حکومت میں مختلف وزارتوں پر فائز رہ کر خدمات انجام دے چکے ہیں اس دوران انہوں نے ایسا سیاسی بحران نہیں دیکھا جو آج نریندر مودی حکومت میں دیکھنے کو مل رہاہے انہوں نے کہا کہ آج ملک سیاسی، اقتصادی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔

مودی حکومت نے مذہب کے نام پر قوم کو تقسیم کردیا ہے جبکہ ہم انسان تو باقی ہیں لیکن انسانی اخلاق وکردار کھودےئے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں پر عوام کو جوڑنے کی ذمہ داری تھی انہوں نے ہی عوام کو توڑنے کا کام کیا ہے۔ آج ملک میں اتحاد اور سالمیت خطرہ میں ہے ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکثریت ، اقلیت اور تمام پسماندہ طبقات کو چاہیے کہ سب ہی مل کر اس ملک کے اتحاد اور سالمیت کے تحفظ کیلئے آگے آئیں اورملک کو اس خطرہ سے بچانے کی کوشش کریں۔

1947ء میں جو غلطی ہم نے کی تھی وہ اقلیت کیلئے سب سے بڑا دھکا تھا چاہے اقلیت یہاں کی ہو یا وہاں کی۔اب دوبارہ علحدگی کو دعوت دینا مرض کینسر کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔آزاد کا کہنا تھا کہ ملک میں ابھی سیکولرازم مرا نہیں بلکہ مسلم سیکولرازم کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہندو سیکولرازم بھی کھڑا ہے اور سب مل کر ہی ملک کو بچا سکتے ہیں۔ آخرمیں تمام سیکولر عوام خصوصاً اقلیتوں سے خواہش کی کہ وہ پولنگ کے دن حق رائے دہی کیلئے عوام میں بھی شعور بیدار کریں اوراپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے سیاسی شعوراور دانشمندی کا ثبوت دیں ۔اپنا ووٹ ایسی جماعت کے حق میں استعمال کریں جو اس ملک کے سیکولر عوام اور جمہوریت کا تحفظ کرسکے۔

مسٹر سی ایم ابراہیم سینئر کانگریسی رہنماو سابق وزیر نے کہاکہ موجودہ حالات کیلئے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے قیامت کے آثار بتاتے ہوئے کہا کہ آج اچھے اور دیانت دار لوگ سیاست سے دور ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کریں ۔ دلوں میں خوف خدا اور پیارے نبی کریم ﷺ کی محبت ہونا واجب ہے، کوئی بھی مسلم سیاست داں کسی کے مذہب کے خلاف نہ کہیں۔

مسلمان اپنے ادب و اخلاق اور کردار کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق وکردار کو دیکھ کر 90لاکھ لوگ اس ملک میں مسلمان ہوئے ہیں۔ جناب سی ایم ابراہیم نے خلفائے راشدین کے دورِ حکمرانی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان میں حضرت عمر فاروقؓ جیسی حکومت چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں99فیصد ہندو سیکولر ہیں انہیں فرقہ پرست بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں اگر اس ملک کا ہندو فرقہ پرست ہوتا تو ناتھورام گوڈسے کے خاندان والے اس ملک کے وزیر اعظم ہوتے ۔

سیاست دانوں کا کام دلوں کو جوڑنا ہوتاہے توڑنا نہیں ، تلنگانہ خصوصاً حیدرآباد کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اچھے لیڈروں کو کامیاب بنائیں۔انہوں نے حیدرآباد سے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے ہندوستان کی تاریخ و تہذیب اردو کا مرکزہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مسلمانوں کو اپنے پیدا ہونے کے مقصد کوسمجھنا چاہیے، دنیا ہماری امتحان گاہ ہے اور آخر ت کی فکر کریں۔ آج ہم مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں ، مسلک پر ایک نہیں ہوسکتے تو کم از کم مسائل میں ایک ہوجائیں ۔انہوں نے تعلیم سے متعلق کہا کہ مسلمان مطالعہ کی عادت ڈالیں، ہم مطالعہ کرنا چھوڑدےئے ہیں ۔

،گلبرگہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج گلبرگہ کے ہر گھر میں گریجویٹ لڑکیاں ہیں ، تعلیم کے ساتھ تربیت کی ضرورت ہے ایک اچھی تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے اولاد کی صحیح پرورش کرسکتی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ہم مسلمان اس ملک کے حقدار ہیں کوئی بھی حکومت ہمیں خیرات نہیں دے رہی ہے ۔
گذشتہ 70سالوں میں علیگڑھ یونیورسٹی، شاہ بانو کیس اور بابری مسجد میں مسلمانوں کو الجھاکر رکھدیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی معیشت پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔

ہم اپنے وقار اور طاقت کو سمجھے اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی سعی کریں، مسلمان کے دل میں خوف خدا اور آخرت میں جواب دینے کا یقین ہوتو وہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ سی ایم ابراہیم نے کہا کہ نریندر مودی ، وزیر اعظم بننے کے بعد ملک تباہ و برباد ہوچکا ہے ، سنگل مین شو چل رہا ہے ،مودی نے نوٹ بندی کے ذریعہ ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ۔ انہوں نے نیشنل میڈیا سے متعلق کہا کہ میڈیا کا کردار پہلے جیسا نہیں ہے لیکن پھر بھی چند میڈیاچینلس اصلیت عوام کے سامنے لا نے کی کوشش کررہے ہیں.

ان حالات میں مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ مسلمان خصوصاً نوجوان طبقہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست میں آگے آئے ۔ انہوں نے مودی حکومت سے کہا کہ اس قوم کو ختم کرنا چاہوگے تو ختم ہونے والی نہیں جو قوم نمرود سے نہیں ڈری وہ مودی سے کیوں کر ڈرے گی۔

مسٹرمشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس انتخابی ماحول میں یونائیٹیڈ مائناریٹی فورم کی جانب سے منعقد کیا گیا جو اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے کانگریس کی حمایت کوئی جذباتی نہیں ہے، بلکہ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلمان بہت بُری طرح منتشر ہوچکے ہیں ، 1994ء کے بعد پہلا انتخاب ہے کہ مسلمان متحدہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل کم از کم 80مسلمان متحدہ رہ کر ووٹ کا استعمال کرتے تھے ۔ ٹی آر ایس کی مخالفت کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جو طاقتیں یا جماعتیں ذلیل کرنے، جھکانے کی کوشش کررہی ہیں انکے ساتھ ہمارے وزیراعلی نظر آتے ہیں۔ صدر مسلم شبان نے کہا کہ گذشتہ چار سال تین ماہ کے دوران ہمارے وزیر اعلیٰ کسی مسلم آرگنائزیشن کو ملاقات کا وقت نہیں دےئے، کئی مرتبہ مسلمانوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اقلیتی ادارے ان کے دور میں تباہ و برباد کردےئے گئے۔

اردوریاست کی دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود اسے شدید نقصان پہنچایا گیا، صرف 66ملازمتوں کو پُر کرکے بڑا کام بتایا جارہا ہے۔ عثمانیہ اسپتال ،سکریٹریٹ کی عمارتوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی، اور پانچ مسلم نوجوانوں کا انکاؤنٹر کیا گیا ۔ اس پر وزیراعلی نے کوئی جواب نہیں دیا، اسی طرح وقف بورڈ کو رات کے حصہ میں مقفل کردیا گیا ، پروفیشنل نوجوان آج رات کا بیشتر حصہ ہوٹلوں وغیرہ میں گزار رہے ہیں انہیں روزگار سے محروم رکھا گیا ہے۔ تین طلاق کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کا ساتھ دیا جاتا ہے اسی طرح 12فیصد ریزرویشن کو انہوں نے اقلیتوں کو بیوقوف بنانے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے ریاست میں 7؍ ڈسمبر کو ہونے والے انتخابات میں مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مسلمان اپنا پولنگ تناسب بڑھائیں، اپنے حق رائے دہی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بقاء و ترقی کے لئے فیصلہ کریں کیونکہ یہ ملک کی تقدیر بدلنے والا ہے۔

ڈاکٹر ناصر حسین رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 2019کے انتخابات کے لئے ریاست تلنگانہ کا الیکشن اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کانگریس اورعظیم اتحاد کے امیدواروں کو کامیاب بنانے پر زور دیا ۔ جناب ناصر حسین نے کہاکہ مسلمان اپنے مسائل اور دکھ درد کے ساتھ ساتھ دوسروں کے مسائل اور انکے دکھ درد کو سمجھیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اکثریتی طبقہ اور دیگر پسماندہ طبقات نے جس طرح مسلمانوں کے ساتھ اظہار یگانگت کیا تھا اور مظلوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تھی آج یہ ماحول ختم ہوگیا ہے کہ آج ملک کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کوگاؤکشی کے نام پر ہلاک کیا جارہا ہے ۔ شریعت میں مداخلت کی جارہی ہے، لوجہاد کے مسئلہ پر ختم کیا جارہا ہے ان حالات میں مسلمانوں کا ساتھ دینے والا کوئی نظر نہیں آتا ۔ دس سال میں فرق آچکا ہے ہمارے لئے کوئی آگے نہیں آرہے ہیں ہم نے سماج سے اپنے آپ کو دور کیا ہے، یہ کمیونٹی صرف اپنے لئے کھڑی ہوئی ہے اس طرح ہمیں دوسروں کیلئے بھی انکے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ کانگریس اور دیگر سیکولرجماعتیں سمجھ گئیں ہیں کہ سب کے اتحاد سے ہی انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ انتخابات میں مہا کوٹمی کے ذریعہ فرقہ پرست جماعتوں کے خلاف الیکشن ہورہے ہیں۔

مسٹر آر سی کنتیا جنرل سکریٹری اے آئی سی سی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے اسمبلی انتخابات سیکولرازم کے نام پر اور پارلیمانی انتخابات بی جے پی کے ساتھ مل کر لڑنے کیلئے اپنی حکومت کو تحلیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مرکزی مودی حکومت کا ہر محاذ میں ساتھ دیا ہے ۔

انہوں نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو کانگریس اور متحدہ جماعتوں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ جناب کے رحمن خان سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ آزادی سے ہی ہندوستانی مسلمانوں کا کانگریس سے رشتہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس ملک کو آئین دیا ہے ، اس کا تحفظ صرف کانگریس ہی کرسکتی ہے اور دستور کے تحفظ کے لئے انہو ں نے کانگریس کے حق میں حق رائے دہی کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو بچانے کیلئے کانگریس کو بچانا ہوگا ، ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو بچانے کیلئے کانگریس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ رحمان خان نے کہا کہ جمہوریت میں جب ظالم حکمراں ہوجاتا ہے تو اسکو ووٹ کے ذریعہ نکال باہر کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی سجادہ نشین و چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی کو تہنیت پیش کی گئی ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گلبرگہ یونیورسٹی اقلیتی یونیورسٹی ہے یہ خدمت خلق کے جذبہ کے تحت قائم کی گئی ہے اور اس میں تمام اقلیتوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہونگے۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں صوفی پن کی جھلک محسوس کی جاسکتی ہے ۔ سجادہ صاحب نے کہا کہ اولیاء اللہ ایسی جامع شخصیات تھیں جن میں تمام علوم موجزن تھے۔کنہیا کمار نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات سیمی فائنل کی حیثیت رکھتے ہیں اور عظیم اتحاد کی کامیابی ہونی چاہئیے تاکہ تمام جماعتوں کو اس کا اچھا پیغام پہنچے۔ انہو ں نے کہا کہ ایک سال میں 12ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہے ، ملک میں تانا شاہی ہوتو پھر ملک کس طرح ترقی کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے یہ عظیم اتحاد کیا گیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ دستور کو بچانے کی کوشش کریں اور دستوری حق کو حاصل کرنے کیلئے تمام کو ایک ہونا ہوگا۔ جناب ظفر جاوید نائب صدر تلنگانہ پردیس کانگریس کمیٹی وکنوینر کنونشن نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مختصراً مہمانوں کا تعارف پیش کیا جبکہ جناب عامر جاوید نے تمام شرکاء کنونشن کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں