52

پنجاب کے دیہات کی شادی…….. مشاہدات و تأثرات

مضمون:محمد اسامہ فلاحی

ڈیڑھ سال قبل پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں پی ایچ ڈی میں داخلے کے بعد ہی سے یہ خواہش تھی کہ پنجاب میں مسلمانوں کی تہذیبی،دینی اور تاریخ آثار کا مشاہدہ کروں۔ایک سال تک کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیسے یہاں کے لوگوں سے تعلقات بنائے جائیں،کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔یہاں کے لوگ آسان اردو/ہندی بھی بڑی مشکل سے سمجھتے ہیں۔چنانچہ چار ماہ قبل ایک سالہ پنجابی زبان کے کورس میں داخلہ لیا اور اب آسانی کے ساتھ پنجابی سمجھ سکتا ہوں،بول سکتا ہوں۔

الحمد للّٰہ پنجابی زبان کے مجھے بڑے اچھے اساتذہ ملے۔ان میں بھی ڈاکٹر دھرمیندر سنگھ کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ہر قسم کے موضوع پر کھل کر بات کرتے ہیں اور سامنے والے کی بات پوری سنتے ہیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ مظلوموں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہتے ہیں۔پنجاب کے ضلع پٹیالہ میں کئی جگہوں پر منتشر مسلمان آبادیاں ہیں،جن کے پاس کچھ سالوں پہلے تک اپنی قبرستان اور مسجدیں نہیں تھیں۔وقف کی زمینیں تھیں لیکن غنڈوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ڈاکٹر دھرمیندر سنگھ نے تقریباً اسی گاؤں کے مسلمانوں میں سے افراد منتخب کرکے پنجاب مسلم فرنٹ بنایا جس کے آج وہ صدر ہیں۔انہوں وقف کی زمینیں واگذار کروائیں جو اب قبرستان،مسجد اور اسکول کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔

یہ ساری باتیں انہوں نے مجھ سے بتائیں تو میں نے خواہش ظاہر کی کہ مجھے ان علاقوں کو دیکھنا ہے اور وہاں کے لوگوں سے ملنا ہے۔انہوں نے ملاقات کرانے کا وعدہ کیا اور آج کا دن طے کیا،کیونکہ انکے ایک مسلم دوست نے اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

آج دس بجے ڈاکٹر دھرمیندر سنگھ صاحب،انکے ایک ریٹائرڈ میجر اور راقم دس بجے یونیورسٹی سے نکلے اور پچاس کلومیٹر کا سفر کرکے ایک دیہات میں پہنچ گئے جسکا نام کنہور بتایا گیا۔چائے پانی سے تواضع کیا گئی۔میرے استاد نے ہر ایک سے میرا تعارف کرایا اور ہر ایک نے گلے لگایا،انکی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔میرے لیے سب سے بڑی مشکل یہ پیدا ہوئی کہ وہاں سکھ اور مسلمانوں میں تفریق کیسے کروں۔؟جتنے بزرگ تھے سب سکھوں والی پگڑی باندھے ہوئے تھے،مہمانوں کی ضیافت میں دونوں لگے ہوئے تھے۔بعد میں یہ پتہ چلا کہ پگڑی ہندو،مسلمان سکھ سب باندھتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے۔مخلوط معاشرے میں اپنی شناخت بچانا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ظاہری طور پر وہاں کی سکھ،مسلم اور ہندو عورتوں میں تفریق ناممکن ہے۔پردے کا اہتمام بالکل نہیں نظر آیا۔
تین بجے عقد مسنون ہوا۔الحمد للہ سادگی کا پہلو غالب رہا جس کی وجہ سمجھی جاسکتی ہے۔نکاح کے بعد پنجابی کھانوں سے سب کی ضیافت کی گئی۔

پنجاب میں بھی سیاست گلی،نکڑ ہر جگہ اپنی موجودگی رکھتی ہے۔ریاستی سرکار بدلتے ہی سب سے پہلے یہاں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں پر اثر پڑتا ہے اور پھر گاؤں اور قصبہ اس کی لپیٹ میں اتا ہے۔شادیوں کے موقع پر ہر پارٹی کے مقامی/غیر مقامی لیڈراں مدعو ہوتے ہیں۔شادی غریب کی ہو یا امیر کی،یہ لیڈران پہنچتے بھی ہیں،چنانچہ شادی کے موقع پر ہر پارٹی ک لیڈران مل جاتے ہیں۔اس موقع پر خصوصی طور پر اکالی دل کے سابق وزیر کھیل جناب نصرت اکرام خان بگھا صاحب سے ملاقات ہوئی،بغیر کسی لاؤ لشکر کے آئے اور بڑی تواضع اور انکساری کے ساتھ ملے۔تعارف کے بعد خوشی کا اظہار کیا اور اعظم گڑھ کے بارے میں کافی دیر تک بات کی۔

پنجاب کے سکھوں میں 1984کے بعد سے مسلمانوں کے تئیں کافی تبدیلی آئی ہے۔مرکزی حکومت سے سکھ مذہب کو باقاعدہ الگ مذہب قرار دینے کی جدو جہد ابھی تک جاری ہے۔البتہ مسلمانوں کے اندر ان سے تعلقات قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں دکھتی،جس کی سب سے بڑی وجہ غالباً زبان کا مسئلہ اور کچھ تاریخی پس منظر ہے۔لیکن موجودہ صورت حال میں اگر ان سے تعلقات قائم کیے جائیں تو جہاں اقلیتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف کھڑے ہونے میں بہت مدد مل سکتی ہے وہیں دعوت دین کا ایک بہت بڑا میدان سامنے آئے گا۔ واضح رہے کہ یہ بڑی سخت جان اور قربانی دینے والی قوم ہے۔

(مضمون نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہی)
صاحب مضمون: محمد اسامہ فلاحی، پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ
بتاریخ: 9/12/2018

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں