54

نتائج بہتر آئے مگر کچھ سوالات لے کر؟؟؟

مراسلہ نگار: مرغوب الرحمٰن طیّب قاسمی

پانچ ریاستوں میں انتخابات کے نتائج کی آمد نے عوام کے درد کی عکاسی کی ہے
ظاہر ہے کہ انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کا صفایا کرتے ہوئے کانگریس کے خیمے میں خوشی کی امیدیں پیدا کردی ہیں حالانکہ ان پانچ ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے پوری طاقت جھونکی تھی جبکہ کانگریس پارٹی نے چند قداور نیتاؤں کا سہارا لیکر الیکشن کی تیاری کی اور بی جے پی سے زیادہ جلسوں کا انعقاد کیا اور غیر مذہبی رویّہ اختیار کرنے کی حتٰی الامکان کوشش کی عوامی مسائل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے موجودہ مرکزی حکومت کے دور اقتدار کی خامیوں کو شمار کرایا اور خصوصا رفائیل ڈیل کے حقائق سے آگاہ کرایا اور ان سب کا خلاصہ آج کانگریس کی جیت میں بدل گیا اور 2019 کے لئے ایک نیا رخ ملک کے سامنے پیش کیا

مگر کیا یہ نتائج 2019 کے انتخابات پر اثر انداز ہونگے اور کانگریس اقتدار میں واپسی کریگی؟؟
اور کیا ان نتائج سے ای وی ام پر لگے سوالیہ نشانات کو بھلا دیا جائےگا؟؟؟

یا 2019 میں اس الیکشن کی طرح ای وی ایم کی نگرانی راتوں کو جاگ کر کرنی پڑےگی؟؟؟

اور اگر بی جے پی کے کارواں کو روکنے کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں سے ہاتھ ملانا پڑے تو کیا کانگریس ان نتائج کے بعد ہاتھ ملانا مناسب سمجھیگی یا اپنی طاقت پر بھروسہ رکھ کر حماقت کر بیٹھے گی؟؟؟

مراسلہ نگار: مرغوب الرحمٰن طیّب قاسمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں