17

عیسائی پادریوں کی دیوبند آمد

مضمون: مہدی حسن عینی قاسمی

آج کا پورا دن عیسائی مذھبی رہنماؤوں کے ساتھ گزرا
مادر علمی دارالعلوم دیوبند کو قریب سے دیکھنے اور برصغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت میں تحریک دیوبند کی کاوشوں کو سمجھنے کے لئے یہ حضرات عرصہ سے کوشش میں تھے،
گزشتہ دنوں مولانا محمود مدنی صاحب سے ملاقات کے دوران ان حضرات نے اپنی خواہش کا ذکر کیا تھا.اس کے بعد ہم سے رسمی بات چیت میں یہ طے ہوا کہ جلد دیوبند آئیں گے.
آج صبح گیارہ بجے عارض محمد صاحب کی رہنمائی میں یہ وفد دارالعلوم دیوبند پہونچا،بندہ نے ان کا خیر مقدم کیا،
11 نفر پر مشتمل اس وفد میں ہندوستانی کیتھولک عیسائیوں کے اعلی مذہبی قائد بشپ فادر جان باسکو تھے،جو ہندوستان کے اگلے بشپ ہونگے،
فادر نکولس برلا ہندوستان کےتمام کانونٹ اسکولوں کے مذھبی سربراہ،کیتھولک بشپ کانفرنس کے قومی سکریٹری ہیں،
دہلی اقلیتی کمیشن کی ممبر سسٹر استاسیا گل لمبے زمانہ سے اقلیتوں کے مسائل پر کام کررہی ہیں، علاوہ ازیں اس وفد میں سسٹر اسنیہا،فادر نیلسن وغیرہ تھے،
سبھی اپنے اپنے میدان میں قومی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں
دارالعلوم دیوبند کو قریب سے دیکھنے اور یہاں کی مہمان نوازی کے بعد ان حضرات کے جذبات دیدنی تھے،انہوں نے گوگل سے کسی اور دیوبند کو جانا تھا،سر کے آنکھوں سے کسی اور دارالعلوم کو دیکھا،
مفتی محمد اللہ خلیلی صاحب،
مولانا توقیر صاحب اور مولانا عبد الملک صاحب اساتذہ دارالعلوم نے تفصیل سے یہاں کی ہر چیز کے بارے میں بتایا.
مولانا عبدالخالق سنبھلی صاحب نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند سے تفصیلی ملاقات رہی.

اس کے علاوہ اقلیتوں کے مسائل پر ہم لوگوں نے تفصیلی بات چیت کی،اقلیتوں کے مابین مذھبی و سماجی سطح پر ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کرنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے آگے بڑھنے کا فیصلہ لیا.
سب سے تاریخی لمحہ وہ تھا جب ان عیسائی پادریوں اور سسٹرز نے ظہر کی نماز میں شرکت کی خواہش کی اور نائب مہتمم صاحب نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے تاریخی مسجد قدیم میں انہیں ظہر کی نماز میں شامل کروایا.
دعوتی نقطہ نظر سے میرے لئے یہ لمحہ سب سے اہم تھا
کتابی مذھب کے ماننے والوں کا ایک خدا کے سامنے جھکنے کا انداز دیکھ کر میں حرارت ایمانی اور جذبہ اسلامی سے سرشار ہو اٹھا.
لگے ہاتھوں انہیں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت طیبہ پڑھنے کی دعوت دینا میرا فریضہ تھا،
آپ کی امانت آپ کے سیوا میں اور اسلام ایک تعارف جیسی بنیادی کتابیں انہیں ہدیہ کیں.
انہوں نے بصد احترام ان کتب کو قبول کیا اور پڑھ کر اپنے تاثرات ارسال کرنے کا وعدہ کیا،
شام پانچ بجے ان حضرات نے دیوبند کو خیرباد کہا تب سے سوچ رہا ہوں کہ ہم علماء کی جماعت کو داعیانہ مزاج اور کردار بنانے کی کتنی سخت ضرورت ہے
اگر ہم ہمہ وقت ایک داعی کی طرح بیدار رہیں تو مذھب و مسلک،زبان و کلچر اور رنگ و نسل کی تمام دیواریں صرف ایک جملہ میں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ ہے:
لا اله الا الله محمد رسول الله
صلي الله عليه و سلم

(کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.)
مضمون: مہدی حسن عینی قاسمی
10-12-2018

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں