91

انسانی حقوق کے متعلق اسلامی تعلیمات کا جائزہ

✍: رحمت اللہ شیخ
rahmatullahsheikh3@gmail.com

دنیا میں موجود تقریبًا تمام مذاہب انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن مذہب اسلام نے جس تاکید اور خوبصورتی کے ساتھ انسانی حقوق کو بیان کیا ہے، دوسرے مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔حج?الوداع کے تاریخی خطبے میں محسنِ انسانیت صہ نے واضح طور پر بتادیا کہ:
” کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور سیاہ فام کو سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔”

غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ:
“تمہارے غلام، تمہارے غلام، ان سے اچھا سلوک کرو، انہیں وہی کچھ کھلاؤ جو تم کھاتے ہو، اور انہیں ویسا ہی پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو……۔”

وصال کے آخری وقت میں بھی آپ صہ نے “نماز اور غلاموں ” کے متعلق تاکید فرمائی۔ یہ آپ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ یروشلم کے سفر پر خلیفہ وقت حضرت عمر رضہ ایک منزل اونٹ پر اپنے غلام کو بٹھاتے اور خود پیدل چلتے۔ دوسری منزل خود اونٹ پر سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کی زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے، جن سے اسلام میں انسانی حقوق کی قدر و اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

تمام انسانوں میں سے اہل و عیال کے حقوق کو فوقیت حاصل ہے۔ اسلام نیوالدین، زوجین، اولاد، بہن بہائی و دیگر رشتیداروں کی حقوق کا ایک دائرہ مقرر کیا ہے جس کے اندر رہ کر آسانی سے ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے حدسے تجاوز کرجاتے ہیں اور نتیجتًا کسی نہ کسی کی حق تلفی ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صہ نے فرمایا کہ:
“تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لئے بہتر ہو۔ اور میں تم میں اپنے اہل و عیال کے حق میں سب سے بہتر ہوں۔”

رہبرِ امت صہ اور اس کے پیروکاروں نے اسلامی تعلیمات کو اپنے اقوال تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا۔ لیکن ہماری حقیقت یہ ہے کہ ہم گفتار کے غازی تو بن گئے ہیں لیکن کردار کے غازی نہیں بن سکے۔

فادرڈے، مدرڈے وغیرہ جیسے رسمی دنوں پر ایک دوسرے کو خوبصورت پیغامات تو ارسال کرتے ہیں لیکن حقیقتًا ہماری عادات و اطوار اس کے بلکل برعکس ہوتی ہیں۔آج ہمارے معاشرے میں اولڈ ہومز کی بڑھتی ہوئی شرح اس دعویٰ کی واضح دلیل ہے۔ حالانکہ کسی پر انسانوں میں سے سب سے زیادہ حقوق اس کے والدین کے ہیں۔ اسلام میں والدین کو “اف” کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے شاید آج ہمارے نوجوانوں نے والدین کو انسانی حقوق کے دائرے سے ہی خارج کردیا ہے۔ ہم نے خود کو مدر ڈے اور فادر ڈے جیسے رسمی دنوں تک محدود کرلیا ہے۔ مغربی تہذیب کی طرف رغبت اور اسلامی تعلیمات سے روگردانی ہمیں کئی خطرناک گناہوں میں مبتلا کررہی ہے۔

ہم نے ان لوگوں کی تہذیب کو اپنا شعار بنا لیا ہے جو اپنے پالتو کتوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اسلام میں تو ایک عام انسان پر بھی کسی جانور کو ترجیح دینا جائز نہیں تو والدین کے مقابلے میں ایسی ترجیح کیسے جائز ہوسکتی ہے۔۔۔؟ دراصل مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے دور کرنے کے لیے یہ دشمنانِ اسلام کی طرف سے بچھایا ہوا ایک خطرناک جال ہے، جس میں ہم پھنستے چلے جارہے ہیں۔

یہ بات مسلم ہے کہ ٹیکنالاجی نے جتنی ترقی کی ہے، آداب و اخلاق کا معیار اتنا ہی تنزلی کا شکار ہوا ہے۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے دنیا کو اچھے ڈاکٹرزاور انجنیئرز وغیرہ تو دے رہے ہیں لیکن اچھے انسان نہیں دے سکے۔

یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ آج کے تعلیمی ادارے صرف نام کمانے اور بزنس کرنے میں مصروف ہیں۔ مغربی طرزِ تعلیم کو کامیابی کا راستہ سمجھا جارہا ہے۔ تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود ہوگئی ہے اور تربیت کو بالکل ہی بھلا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا انسانیت کی حقیقی مفہوم اور اس کی قدر و اہمیت سے بلکل نابلد ہوتے ہیں۔

دراصل ہمارے ذہنوں پر مغربی تہذیب و تمدن کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔ ہماری نوجوان نسل مغربی تہذیب کی گرویدہ بن چکی ہے۔ حالانکہ ظاہری طور پر ترقی یافتہ نظر آنے والے مغربی ملکوں کا معاشرتی نظا م انتہائی پیچیدہ مسائل کا شکار ہے۔

مشہور اسلامی مفکر ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی لکھتے ہیں کہ:
“مغرب میں نہ اولاد کی صحیح تربیت ہے اور نہ اولاد کے نزدیک والدین کا احترام بلکہ پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔”

مغرب اپنے دلفریب نعروں سے پوری دنیا میں عوام کو بیوقوف بنا رہا ہے اور اس سازش کو فروغ دینے میں ہماری زر خرید میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔ دوسری طرف پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہانے کے باوجود امریکا اور اسرائیل خود کو انسانی حقوق کا علمبردار متعارف کروا رہے ہیں۔

فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے عورتوں اور بچوں سمیت مظلوم مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی انسانی حقوق کے علمبردار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح امریکا نے دہشتگردی کی آڑ میں عراق اور افغانستان کی سرزمین پر مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی ہے، اس سے کوئی ناواقف نہیں۔ ابھی تک مصر، فلسطین، لبنان، عراق اور افغانستان سمیت دوسرے مسلم ممالک امریکا و اسرائیل کے ظلم اور بربریت کا شکار ہوچکے ہیں۔

یورپ میں بہت روشنی، علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانی حقوق کی بہترین انداز میں ترجمانی کی ہے۔ اتباعِ رسول صہ اور خوفِ خدا سے قطع نظر انسانی حقوق کی پاسداری ناممکن ہے۔

آج انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر انسانیت کا چورن بیچا جارہا ہے۔ بظاہر تو یہ پیغام انسانیت کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقتًا اس نعرے کے پسِ پشت ایک بھیانک سازش پل رہی ہوتی ہے۔

لہٰذا آج کے دور میں انتہائی ضروری ہے کہ اہلِ اسلام سے تعلق جوڑ کر دین کے بنیادی احکام سیکھتے ہوئے اپنی زندگی گذاری جائے۔ تاکہ قیامت کے دن اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے سب کے سامنے رسوا نہ ہونا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں