27

راجیو گاندھی سے متعلق کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی: سسودیا

نئی دہلی: دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا نے سنیچر کو ان رپورٹوں کی تردید کی کہ دہلی اسمبلی نے 1984کے سکھ مخالف فسادات کو روکنے میں ناکام رہنے کے لئے آنجہانی سابق وزیراعظم راجیو گاندھی سے بھارت رتن واپس لینے سے متعلق کوئی قرارداد منظور کی ہے۔
مسٹر سسودیا نے یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت میں ان رپورٹوں کی تردید کی کہ اسمبلی میں قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر عام آدمی پارٹی کی رکن اسمبلی الکا لامبا سے ایوان کی رکنیت سے استعفی دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ نائب وزیراعلی نے کہاکہ اسمبلی میں سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے نام کا ذکر کرتے ہوئے کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی ہے۔ کسی سے بھی استعفی دینے کے لئے نہیں کیا گیا ہے۔ ہم پرامن طریقہ سے کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے ایوان میں جو اصل قرارداد پیش کی تھی اس میں مسٹر رجیو گاندھی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اسلسلہ میں مزید وضاحت دیتے ہوئے پارٹی کے رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج نے کہاکہ مسٹر راجیو گاندھی کے نام کے ذکر والے پیراگراف کو قرارداد کا حصہ نہیں تسلیم کیاجاسکتا کیونکہ یہ بعد میں ہاتھ سے لکھا گیا ہے ۔ ایک رکن اسمبلی نے یہ اپنے ہاتھ سے قرارداد میں ایک ترمیم لکھ دی اور کسی بھی ترمیم کو اس طرح سے منظور نہیں کیا جاسکتا۔

اس معاملہ پر اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل نے کہاکہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات پر بحث کیلئے ایک تجویز رکھی گئی تھی اور اس میں مسٹر راجیو گاندھی کے نام کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ ان کا نام رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے اپنی تقریر میں جوڑا۔ فسادات کا معاملہ کافی جذباتی تھا اور لوگ اس پر اپنی بات رکھتے ہوئے جذبات میں بہہ گئے۔

میڈیا میں آج ایسی رپورٹ آئی ہے کہ اسمبلی میں جمعہ کو مسٹر راجیو گاندھی سے بھارت رتن واپس لینے کی مانگ کی قرارداد منظور کی گئی۔ رکن اسمبلی الکا لامبا نے بھی کہاتھا کہ قرارداد کی حمایت نہیں کرنے پر ان سے استعفی دینے کے لئے کہا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں