140

خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں

✍: محمد مصطفی علی سروری
sarwari829@yahoo.com
صبح 4 بجے کا وقت ہے ایک خاتون اپنے گھر سے نکل کر گاڑی پر قریبی بازار کا رخ کرتی ہے اور وہاں سے دودھ کی پاکٹس لے کر واپس اپنے گھر آتی ہے اور پھر ان دودھ کی پاکٹس کو الگ الگ تھیلیوں میں رکھ کر دوبارہ اپنی Activa گاڑی لے کر لوگوں کے گھروں پر دودھ ڈالنے کے لیے نکل جاتی ہے۔ یہ خاتون کوئی بیوہ نہیں ہے اور نہ ہی مصیبت کی ماری ہے۔

قارئین آپ حضرات کو یہ پڑھ کر تعجب ہوگا کہ یہ خاتون ایک کونسلر ہے اور یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی سال 2005ء میں یہ کونسلر کے طور پر بلدیہ میں نمائندگی کرچکی ہے اور سب سے اہم بات کہ بلدیہ میں کونسلر بننے کے باوجود بھی اس خاتون نے لوگوں کے گھروں تک دودھ پہنچانے کا کام نہیں چھوڑا۔

12؍ دسمبر 2018 کو اس خاتون کو thrissur شہر کا میئر چن لیا گیا لیکن میئر بننے کے بعد اجیتا وجیئن نے لوگوں کے گھروں تک دودھ کی پاکٹ پہنچانے کا کام نہیں چھوڑا اور یہ خاتون دو ایک نہیں بلکہ پچھلے 18 برسوں سے 200 گھروں تک دودھ پہنچاکر ماہانہ 10 ہزار روپئے کمالیتی ہے اور میئر بننے کے بعد اس کو ماہانہ 18 ہزار تنخواہ ملنے والی ہے۔

بارہویں جماعت کامیاب اجیتا نے اخبار ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب دیکھا کہ اکیلی میرے شوہر کی تنخواہ سے گھر کا گذارہ نہیں ہورہا تھا تب میں نے بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں کو ان کے گھروں پر دودھ کے پاکٹ پہنچانے کا کام شروع کردیا۔

قارئین اس بات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ اجیتا کو صرف ایک ہی لڑکی ہے لیکن اس نے اپنی لڑکی کی تعلیم کے معاملے میں کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔اجیتا کی لڑکی نے فارمیسی میں ماسٹرس کرنے کے بعد حال ہی میں ملازمت بھی شروع کردی ہے۔

شہر کی میئر بننے کے بعد اجیتا نے بتلایا کہ لوگوں کو دودھ فروخت کرتے کرتے مجھے لوگوں کے مسائل سے اچھی طرح واقفیت ہوئی۔ اس کے مطابق صبح دیڑھ سے دو گھنٹوں میں دودھ ڈالنے کا کام پورا ہوجاتا ہے اور پھر مجھے دوسرے کاموں کے لیے پورا دن موجود رہتا ہے۔ اجیتا کا شوہر کیرالا کو آپریٹو ملک مارکٹنگ فیڈریشن کا ایجنٹ ہے اور اجیتا اسی کے ہاں سے دودھ کے پیاکٹس لیتی ہے۔

48 سال کی اجیتا نے اخبار ٹیلی گراف کو بتلایا کہ میئر کی نوکری بالکلیہ عارضی نوعیت کی ہے اور میری اصل کمائی دودھ فروخت کر کے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے میئر بننے کے بعد بھی دودھ ڈالنے کا کام جاری رکھا ہے۔ یہاں تک کہ 12؍ دسمبر کو اجیتا کو میئر کا حلف لینے جانا تھا لیکن اس دن بھی اس نے اپنی صبح کا آغاز لوگوں کو ان کا دودھ پہنچانے کے کام سے کیا۔ (اخبار ٹیلی گراف 16؍ دسمبر 2018)

قارئین زندگی میں ہر شخص کو اپنے خوابوں کی عملی تعبیر نہیں ملتی لیکن لوگ ایسی صورت میں نئے خواب ڈھونڈ لیتے اور عملی تعبیر بھی حاصل کرلیتے ہیں اور کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو زمینی حقیقتوں سے جڑے رہ کر حالات کا سامنا کرتے ہیں۔

راجیو کی زندگی کی کہانی بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ تاملناڈو کے پالکارڈ سے تعلق رکھنے والے راجیو نے 1997ء میں 12 ویں پاس کر نے کے بعد مدراس کا رخ کیا جہاں پر وہ پڑھ لکھ کر ایک ڈاکٹر بننا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ مدراس میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کا خواہشمند تھا۔

راجیو کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعد غریبوں کی خدمت کرے گا۔ راجیو کو مدراس میڈیکل کالج میں داخلہ بھی مل گیا لیکن اس کی زندگی میں اچانک ایسا بھونچال آگیا کہ وہ اپنی میڈیکل تعلیم جاری نہیں رکھ سکا اور صرف چند مہینوں میں ہی اس کو میڈیکل کورس چھوڑ کر نوکری شرع کرنی پڑی۔

آج راجیو کی مدراس میڈیکل کالج کے روبرو سڑک کی دوسری جانب ہی چائے کی دوکان ہے۔ راجیو نے جب دیکھا کہ سڑک کے اس پار میڈیکل کالج میں وہ پڑھ نہیں پایا تو اس نے سڑک کی دوسری جانب اپنے لیے ایک نیا خواب ڈھونڈلیا۔ آج راجیو کی چائے کی دوکان پر 100 اقسام کی چائے موجود ہیں اور بے شمار لوگ راجیو کی دوکان پر آکر اپنی من پسند چائے نوش کر کے جاتے ہیں۔

اخبار دکن کرانیکل میں 5؍ اگست 2018ء کو شائع رپورٹ کے مطابق راجیو نے میڈیکل کی تعلیم تو حاصل نہیں کی لیکن جب اس نے چائے فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو اس حوالے سے بھی خوب محنت کی اور اطراف و اکناف بلکہ دور دراز مقامات سے بھی لوگ راجیو کی دوکان پر آکر چائے پی کر جاتے ہیں۔

راجیو کی دوکان پر پچاس سے ساٹھ لیٹر دودھ روزآنہ خرچ ہوتا ہے۔ راجیو نے چائے بنانے کے فن پر بھی اتنی محنت کی لوگ راجیو کی ہربل ٹی کو بے انتہا پسند کرنے لگے ہیں اور خود راجیو نے بھی ہربل ٹی پر ایک کتاب لکھنے کا کام شروع کیا ہے جو کہ بہت جلد زیور طباعت سے آراستہ ہونے جارہی ہے۔

راجیو کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر بھی عوام کی خدمت کرنا چاہتا تھا آج چائے بناکر بھی عوام کی ہی خدمت کر رہا ہوں۔ چائے پینے کے خواہشمند لوگوں کی بڑھتی تعداد کے باوجود بھی راجیو نے اپنی چائے کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔

راجیو کے یہاں موجود 100 اقسام کی چائے میں اعظم ترین قیمت 20 روپئے ہی ہے جبکہ معمول کی چائے بدستور 10 روپئے میں ہی موجود ہے۔ راجیو خود تو ڈاکٹر نہیں بن سکا لیکن راجیو کی دوکان پر ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ آکر چائے پی کر اپنی سستی ، نیند اور کھانسی زکام بھگانے کا کام کرتے ہیں اور راجیو ان لوگوں کی خدمت کر کے خود خوشی محسوس کرتا ہے۔

قارئین یہ بات بھی سچ ہے کہ کامیابی دراصل اسی وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب عزم مصمم ہو اور حوصلے بلند ہوں۔ بلند حوصلوں کے حوالے سے یہاں پر شہر حیدرآباد سے 360 کیلو میٹر دور کرناٹک کے ایک گاؤں ایلکال کے ننگیاوڈویر کی مثال موزوں معلوم ہوتی ہے۔

76 سال کے ننگیا اپنی عمر کے اس حصے میں بھی پڑھنا لکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ضعیف العمری اور دیگر صحت کے مسائل کے سبب اب ان کے سیدھے ہاتھ میں طاقت نہیں بچی کہ وہ اس کو استعمال کرتے ہوئے کچھ لکھنے کی کوشش کرسکیں، لیکن داد دیجئے اس بزرگ شخص کی اس نے ہار ماننے کے بجائے اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھا۔

حالانکہ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر سے ننگیا کو 33 سال کی ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ مل گیا تھا۔ مگر وظیفے پر سبکدوشی کے بعد بھی اس بزرگ نے مزید تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیدھا ہاتھ جواب دے چکا تو بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھا اور سال 2017 میں اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی سے ایم اے سوشیالوجی میں داخلہ لیا۔ اس سے پہلے ننگیا نے ایم اے کنڈا اور ایم اے انگلش کورس بھی مکمل کیا تھا اور اب سوشیالوجی کا امتحان لکھ رہے ہیں۔ (بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس 15؍ دسمبر 2018 کی رپورٹ)

قارئین شہر کا میئر بننے کے بعد بھی لوگوں کے گھروں میں دودھ ڈالنے والی کیرالا کی خاتون ہو، مدراس میڈیکل کالج کے روبرو ایم بی بی ایس کی تعلیم ترک کرنے کے بعد چائے فروخت کرنے والا راجیو ہو یا کرناٹک کا ریٹائرڈ سرکاری ملازم جو 76 سال کی عمر میں بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ کر ایم اے کی تعلیم حاصل کر رہا ہو۔

اگر ہم ان سبھی کی جدو جہد سے کچھ سیکھنا چاہیں تو پتہ چلے گا کہ کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حقیقت پسند ہوں، کیرالا کی اجیتا کو بخوبی اندازہ تھا کہ شہر کا میئر بننا ایک عارضی نوعیت کا کام ہے اس لیے اس نے اپنی اصل ڈیوٹی کو چھوڑنا گوارہ نہیں کیا۔

تاملناڈو کے راجیو کو معلوم تھا کہ میڈیکل کی تعلیم ہو یا چائے کی دوکان اصل ذمہ داری گھر والوں کو کماکر دینا تھا۔ ڈاکٹر بنتا تو مریضوں کی خدمت کرتا چائے والا بن گیا تو لوگوں کو چائے پلاکر خدمت کر رہا تھا اور کرناٹک کے 76 سالہ بزرگ شخص کی جدوجہد یہ تعلیم دیتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا حصول نہیں ورنہ ایک وظیفہ یاب کو پی جی ڈگری کے لیے پاپڑ بیلنے کی کیا ضرورت پڑتی اور سب سے بڑا سبق یہ کہ اگر کوئی انسان عزم کرلے تو سیدھے ہاتھ کے جواب دے دینے کی صورت میں بایاں ہاتھ سے کام لے سکتا ہے۔

بہار کے بیگو سرائے کے رہنے والے 22 سالہ دیو مشرا کی زندگی کی کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان پیروں سے محروم ہوکر بھی اگر حوصلہ مضبوط رکھے تو دنیا کی ہر بلندی سرکرسکتا ہے۔ دیو جب 6 مہینے کا تھا اس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ 10 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ کر کام شروع کرنا پڑا تاکہ ماں کا ہاتھ بٹاسکے۔ ذرا بڑا ہوا تو بلڈنگ کا کام سیکھ کر دیو مشرا نے محنت کرنی شروع کردی۔

پھر کسی نے بتایا کہ اگر دیو حیدرآباد چلاجاتا ہے تو وہاں اچھی کمائی کرسکتا ہے۔ دیو حیدرآباد جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن گیا، وہاں پر ٹرین میں سوار ہوتے وقت اس کے ساتھ حادثہ پیش آگیا۔ وہ پٹریوں پر گرگیا اور اس کے پاؤں پر سے دو ٹرینیں چلی گئیں۔ حیدرآباد میں کام کیا کرتا بلکہ اسٹیشن پر ہی معذور بن کر دیو واپس اپنی ماں کے پاس چلاگیا۔ لوگوں نے ساتھ چھوڑدیا۔ لوگوں سے کیسی شکایت خود دیو کے اپنے بھائی نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔

دیو نے تب اپنی زندگی خود جینے فیصلہ کیا۔ جئے پور جاکر مصنوعی پاؤں لگانے کی کوشش کی مگر ڈاکٹروں نے معذوری ظاہر کی کہ اس کے لیے مصنوعی پیر بھی کام نہیں آنے والے ہیں۔ دیو نے ممبئی جاکر کام ڈھونڈنا چاہا لیکن معذور کو کیا کام ملتا، یہاں چند لوگوں نے ہمدردی میں تھوڑے پیسے دیئے لیکن ایک ہمدرد نے اس کو ڈانس سکھایا۔

دیو مشرا نے تو صرف اپنی ٹانگیں گنوائی تھی ، حوصلہ نہیں تو اس نے اپنے ہاتھوں سے ناچ کر لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا اور دنیا بھر کے لوگوں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا کہ مائیکل جیکسن اپنے دونوں پاؤں سے ناچ کر Moon Walk کرتا تھا لیکن دیو مشرا اپنے دونوں ہاتھوں سے Moon Walk کا ڈانس کرتا ہے۔

دیو مشرا نے لوگوں کے لیے اسٹیج شوز کر کے اپنے لیے ذریعہ معاش ڈھونڈ لیا۔ ساتھ ہی اس مرتبہ دیو نے 12 ویں کے امتحان بھی لکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دیو کی ہمت اور حوصلے کو دیکھ کر مشکل نہیں لگتا کہ وہ تعلیم کے میدان میں بھی ہار مان لے گا۔ (بحوالہ سمنتی سین کی رپورٹ۔ دی لوجیکل انڈین ڈاٹ کام ۔ دسمبر 2018)

قارئین ان سبھی لوگوں کی جدوجہد سے ہم سب کو اور خاص کر ہماری نوجوان نسل اور بزرگ افراد ہر دو کو سیکھنے کے لیے بہت کچھ اسباق ملتے ہیں۔ کیا ہم سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں وہ بصارت اور بصیرت ہر دو عطا کرے تا کہ ہم صحیح راستے پر چل کر اپنے لیے اور اپنے عزیزوں، قوم و ملت اور ملک کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے بن جائیں۔ آمین یا رب العالمین
بقول شاعر
خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں
کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بناکرتی ہیں تقدیریں

کالم نگارمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں اسوسیٹ پروفیسر ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں