74

2018 میں تنازعات سے گھری فلمیں اور باکس آفس پر ان کی کمائی

ممبئی: فلموں اور تنازعات کا چولی دامن کا تعلق رہا ہے اور کئی فلمیں ایسی بھی رہیں جنہوں نے تنازعات کے سبب سرخیوں میں جگہ بنائی۔ سال 2018 میں ریلیز ہونے والی کئی فلموں نے تنازعات میں گھرنے کے باوجود کامیابی حاصل کی۔

بالی ووڈ میں ہر سال سماجی مسائل، تاریخ اور مذہبی مقامات پر مبنی فلمیں بنتی ہیں لیکن ان میں کچھ فلمیں ریلیز سے پہلے ہی تنازعات کا شکار ہو جاتی ہیں ان کے خلاف ہنگاموں کے ساتھ مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

سال 2018 میں ریلیزسے قبل کچھ متنازعہ فلموں پر نظر ڈالی جائے توان میں پدماوت، پیڈمین، ویرے دی ویڈنگ، بدھائی ہو، من مرضياں، کیدارناتھ، لویاتری، ’ستیہ میو جیتے، ’پرمانو دی اسٹوری آف پوكھرن‘، ’محلہ اسی‘ اور ’زیرو‘ سمیت کئی فلمیں شامل ہیں۔

ان فلموں میں کچھ نے باکس آفس پر اچھی کمائی کی تو کچھ کی کمائی پر تنازعات میں گھرنے کی وجہ سے اثر پڑا۔

پدماوت
سال 2018 کی سب سے متنازعہ فلموں میں سے ایک ’پدماوت‘ 25 جنوری کو ریلیز ہوئی تھی۔ سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بنی پدماوت میں دیپکا پاڈوکون، رنویر سنگھ اور شاہد کپور اہم کرداروں میں تھے۔ پدماوت میں دیپکا پادکون نے رانی پدماوتي کا اہم کردار ادا کیا جبکہ رنویر سنگھ نے علاء الدین خلجی اور شاہد کپور نے راجا رتن سنگھ کا رول ادا کیا ہے۔

یہ فلم خلجی خاندان کے دوسرے حکمران علاء الدین خلجی کے میواڑ کی رانی پدماوتي کے تئیں اس کے تجسس کی کہانی کے بیان کرتی ہے۔ ملکہ پدماوتي اپنے حسن، عقل اور جرات کے لئے مشہور فلم کو ریلیز سے قبل ہی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

راجستھان کی کرنی سینا کا کہنا تھا کہ رانی پدماوتي کو مرد سپہ سالاروں کے سامنے ناچتے ہوئے نہیں دکھایا جانا چاہئے تھا جبکہ فلم میں ایسا دکھایا گیا ہے۔ اس معاملے پر کرنی سینا نے ملک کی کئی ریاستوں میں فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔

کچھ لوگوں نے سنجے لیلا بھنسالی پر حملہ کر دیا۔ تنازعہ کی وجہ سے فلم کی ریلیز کی تاریخ بھی ملتوی کرنی پڑی اور فلم کا نام پدماوتي سے بدل کر ’پدماوت‘ کرنا پڑا۔ تنازعات میں گھرنے کے بعد جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو مخالفت کے باجوود فلم نے اچھی کمائی کی۔ اس فلم کو ناظرین نے کافی پسند کیا۔ ’پدماوت‘ نے 300 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی۔


پیڈمین
9فروری کو آر بالكي کی ہدایت کاری میں بنی فلم ’پیڈمین‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کو بھی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم میں اکشے کمار، سونم کپور اور رادھیکا آپٹے کے اہم کردار ہیں۔ ٹوئنكل کھنہ کی فلمسازی والی یہ فلم ارونا چلم مروگنتھم کی زندگی کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے، جنہوں نے کم لاگت کے سینیٹری پیڈ بنانے کی مشین ایجاد کی تھی۔

مروگنتھم نے ایک ایسی مشین بنائی تھی جس کی مدد سے بنائے گئے سنیٹری نیپکنس کم قیمت پرتیار کئے جاسکتے تھے۔ ان کو اس ایجاد کے لئے پدم شری سے بھی نوازا گیا تھا۔

ایک ابھرتی ہوئے مصنف نے اکشے کمار پر، ان کی اسکرپٹ چوری کرنے الزام لگایا تھا۔ مصنف رپو دمن جیسوال نے فلم کے کچھ مناظر کے ڈائیلاگ میں ان کی کہانی کے مکالمے چرائے جانے کا الزام لگایا تھا۔ رپو نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنی اسکرپٹ چند برس قبل دھرما پروڈکشنز کو بھیجی تھی اور پیڈ مین فلم کے کچھ مکالمے میری اسی اسکرپٹ سے لئے گئے ہیں۔

رپو دمن نے اکشے کمار کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی جس کے بعد ’پیڈمین‘ پر بھی تنازعہ کی مہر لگ گئی تھی۔ اگرچہ ان سب کے باوجود ’پیڈمین‘ نے ملک بھر میں اچھی کمائی کی تھی۔ فلم نے قریب 80 کروڑ کی کمائی کی تھی۔


ویرے دی ویڈنگ
تھیںایکتا کپور اور ریا کپور کی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ بھی تنازعات کے گھیرے میں آ گئی تھی۔ فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ کی کہانی چار لڑکیوں کی دوستی پر مبنی کہانی ہے۔کرینہ کپور، سونم کپور اور سورا بھاسكر کی فلم ویرے دی ویڈنگ ایک سین کے سلسلے میں تنازع میں پڑ گئی۔

چار حسيناؤں کی زندگی پر مبنی اس فلم کی کہانی کرینہ کپور کی شادی کے گرد گھومتی ہے۔ چاروں لڑکیاں بولڈ اور دلکش ہیں۔ فلم میں سورا بھاسكر کے ایک سین پر ہنگامہ ہوا، یہ سین کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ ٹویٹر پر لوگوں نے سورا کی خوب سرزنش کی۔

ان تنازعات کے باوجود فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ کو باکس آفس پر اچھا رسپانس ملا تھا۔ سورا نے تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب بھی دیا تھا۔ ایک انٹرویو میں سورا نے کہا تھا کہ یہ سین کرکے میں نے تکنیکی طور پر کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ لیکن شرم تو آتی ہے نا لڑکےکہیں بھی اور کچھ بھی کریں ہم اپنے بیڈ روم میں بھی ایسا کریں تو ہمیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اس فلم نے 80 کروڑ کی شاندار کمائی کی۔


پرمانو: دی اسٹوری آف پوكھرن
جان ابراہم کی فلم’ پرمانو: دی اسٹوری آف پوكھرن‘ کو بھی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلمساز پریرنا اروڑہ کی کمپنی كریئز انٹرٹینمنٹ نے جان اور ان کی کمپنی جےاے انٹرٹینمنٹ کے خلاف دھوکہ دہی، بے ایمانی، اعتماد شکنی جیسے بہت سے معاملات میں ممبئی کے کھار پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کروائی تھی۔

فلم ’پرمانو…‘ فلمساز پریرنا اروڑہ اور اداکار جان ابراہم کی مشترک کمپنی بنا رہی تھی۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا، جب جان کی کمپنی جےاے انٹرٹینمنٹ نے فلم کے سلسلے میں كریئز انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ توڑ دیا اور ان کے سارے حقوق ختم کر دیئے۔ ان کے درمیان پیسوں سے متعلق تنازعہ کافی عرصے سے چل رہا تھا۔

جان کا کہنا تھا کہ کہ پریرنا کی جانب سے انہیں وقت پر پیسے نہیں ملے جبکہ كریئز انٹرٹینمنٹ نے جان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ کمپنی نے کہا کہ انہیں فلم کے لئے پہلے ہی 30 کروڑ روپے دیے جا چکے ہیں۔ بلکہ جان نے گانوں سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کئے ہیں۔ اسی لیے اس طرح کا معاہدہ منسوخ کیا جانا غیر قانونی ہے۔ ان سب کے درمیان فلم ریلیز ہوئی اور اچھی کمائی کرنے میں کامیاب ہوئی۔


ستیہ میوجیتے
جان ابراہم کی دیگر فلم ’’ ستیہ مے وجیتے ‘‘ بھی ریلیز سے قبل تنازع میں آ گئی۔ ’’ ستیہ میوجیتے ‘‘ کے ٹریلر کے ایک سین میں محرم کا منظر دکھایا گیا ہے جو تنازعات کے گھر گیا۔ شكايت کنندہ نے جان ابراہم، ڈائریکٹر ملاپ ملن جاویري اور تین دیگر فلمسازوں کے خلاف بھی شکایت درج کرائی تھی۔

فلم کے ٹریلر میں محرم کے جلوس میں ماتم کے دوران قتل کا سین دکھایا گیا ہے۔ اس جلوس میں جان ایک شخص کو قتل کرتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ شکایت کنندہ کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ یہ فلم بدعنوانی پر مبنی ہے۔ اس میں محرم کے جلوس اور ماتم کے دوران اداکار کے ذریعہ ادا کئے گئے قتل کے سین کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ فلم نمائش کے بعد ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم نے 90 کروڑ کی کمائی کی۔


محلہ اسی
سنی دیول کی مشہور فلم ’محلہ اسی‘ کو بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ’محلہ اسی‘ کاشی ناتھ سنگھ کی ناول کاشی کا اسی پر مبنی تھی۔ تنازعہ کی وجہ سے یہ فلم کافی عرصے تک ریلیز کے لئے لٹکی رہی۔فلم پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا، یہاں تک کہ فلم کی ریلیز کو روکنے کے لئے دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں عرضی بھی داخل کی گئی۔

کافی وقت تک فلم کی ریلیز ٹالی جاتی رہی، سات برسوں تک فلم ریلیز کا انتظار کرتی رہی، لیکن طویل قانونی جنگ کے بعد فلم 16 نومبر کو ریلیز ہوئی۔ فلم کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی تنازعہ شروع ہو گیا، فلم کی شوٹنگ 2011 میں شروع ہوئی تھی،لیکن فلم کے کچھ مناظر انٹرنیٹ پر لیک ہو گئے اور اس کے بعد کئی ہندو تنظیمیں اس فلم کی ریلیز کی مخالفت میں سامنے آگئی تھیں۔ فلم باکس آفس پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔


بدھائی ہو
آيوشمان کھرانہ اور سانیا ملہوتراکی اداکاری والی فلم ’بدھائی ہو‘ 18 اکتوبر کو ریلیز ہوئی تھی۔’بدھائی ہو‘ کو ناظرین نے کافی پسند کیا تھا۔ فلم میں ایک سوشل میسج تھا۔ ’بدھائی ہو‘ پر بھی تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ ایک صحافی اور مصنف نے’بدھائی ہو‘ پر ان کی کہانی چرانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شائع شدہ کہانی ’گھر بنُتے ہوئے‘ کی اسکرپٹ چرا کر یہ فلم بنائی گئی ہے۔

چھتیس گڑھ کے مصنف اور صحافی پریتوش چکرورتی نے ’بدھائی ہو‘ کے فلمساز، ڈائریکٹراورمصنف پران کی کہانی چراکر فلم بنانے کا الزام لگایا۔ پاریتوش چکرورتی نے تینوں کے خلاف رائے پور میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ شکایت میں پاریتوش چکرورتی نے الزام لگایا کہ 19 سال پہلے شائع ہونے والےان کی کہانیوں کے مجموعے ’گھر بنُتے ہوئے‘ میں شامل ’جڑ‘ نامی کہانی چراکر فلم ’بدھائی ہو‘ بنائی گئی ہے۔

ان کا الزام تھا کہ 1998 میں آنند بازار پتریکا گروپ کی میگزین سُننداور ہندی ہفتہ وار میگزین كادمبني میں ’جڑ‘ کہانی کا بنگلہ ترجمہ شائع ہوا تھا۔ اس کہانی کواجازت کے بغیر فلم میں ہو بہ ہو استعمال کیا گیا ہے۔’بدھائی ہو‘ باکس آفس پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم نے 137 کروڑ کا بزنس کیا۔


عیاری
نیرج پانڈے کی فلم ’عیاری‘ ریلیز سے ایک ہفتے قبل مشکل میں پھنس گئی تھی۔ اس فلم کے ریلیز سے پہلے وزارت دفاع کے کچھ افسران نے یہ فلم دیکھی تھی۔ فلم دیکھنے کے بعد حکام نے کچھ منظر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ سینسر بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے بھی فلم کو پاس کرنے میں کافی تاخیر کی تھی۔ باکس آفس پر یہ فلم ناکام ثابت ہوئی۔


لویاتري
سلمان خان کے پروڈکشن میں بننے والی فلم ’لویاتري‘ کو بھی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ سلمان نے ’لویاتري‘ فلم سے اپنے بہنوئی آیوش شرما کو لانچ کیا ہے۔ اس فلم میں آیوش کے اپوزٹ وارينا حسین تھیں۔ ’لویاتري‘ فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی اپنے نام کے سلسلے میں تنازع میں پھنس گئی تھی۔

پہلے’لویاتري‘ فلم کا نام ’لوراتری‘ تھا جس کے خلاف مظفر پور کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ فلم کے نام سے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ اس عرضی کے بعد فلم کا نام ’لوراتري‘ سے بدل کر ’لویاتري‘ کر دیا گیا تھا۔


من مرضياں
یہ فلم بھی باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔تاپسي پنو، ابھیشیک بچن اور وکی کوشل کی فلم ’من مرضياں‘ کو بھی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’من مرضياں‘ فلم میں قابل اعتراض مناظر پر اتراکھنڈ سکھ فیڈریشن نے غصہ ظاہر کیا تھا۔ یہاں تک کہ سنیماهالوں میں فلم کے پوسٹر پھاڑ دیئے گئے تھے اور اس کے خلاف جم کر احتجاج کیا گیا تھا۔

فلم’من مرضياں‘ کے ڈائریکٹر انوراگ کشیپ نے فلم کے ان مناظر کے لئے جن میں پر سکھ برادری نے اعتراض کیا تھا، معافی مانگی تھی، سکھ برادری کا کہنا تھا کہ فلم میں دکھائے گئے کچھ مناظر سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

انوراگ کشیپ نے سوشل میڈیا پر صفائی دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ابھیشیک بچن، تاپسي پنو اور وکی کوشل کی یہ فلم سکھ مذہب کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ تین لوگوں کی کہانی ہے ۔حالانکہ انہوں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کا ارادہ کسی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں تھا۔ فلم کو ٹکٹ کھڑکی پر اوسط کامیابی حاصل ہوئی۔


کیدارناتھ
’کیدارناتھ‘ کو بھی کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔اس فلم میں سارہ علی خان اور سشانت سنگھ راجپوت اہم کرداروں میں ہیں۔ اس فلم پر لو جہاد کو فروغ دینے کے الزام لگائے گئے۔ فلم میں سشانت مسلم لڑکے اور سارہ ہندو لڑکی کے رول میں ہیں۔

دونوں کو محبت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ’کیدارناتھ‘ پرلو جہاد کو فروغ دینے کا الزام لگائے گئے۔ سیف علی خان اور امرتا سنگھ کی بیٹی سارہ نے اس فلم سے بالی ووڈ میں اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا ہے۔ فلم اب تک 60 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کر چکی ہے۔

کیدارناتھ ایک امیر ہندو لڑکی کی کہانی ہے جو اتراکھنڈ کے پہاڑوں کے تاریخی کیدارناتھ مندر کی یاترا کرتی ہے، جہاں اس کی ملاقات ایک مسلمان لڑکے سے ہوتی ہے۔ اس جوڑی کو خاندانی مخالفت اور اس کے برعکس پس منظر سمیت کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس فلم میں اتراکھنڈ میں 2013 میں آنے والے زبردست سیلاب کے دوران کی کہانی پیش کی گئی ہے۔


زیرو
آنند ایل رائے کی ہدایت کاری میں بنی فلم ’زیرو‘ کو بھی ریلیز سے قبل تنازعات سے گزرنا پڑا۔ دہلی ہائی کورٹ کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ شاہ رخ نے کرپان پہن کر سکھوں کے مذہبی جذبات کا مضحکہ اڑایا ہے،فلم کے پوسٹر اور ٹریلر کے ایک سین میں شاہ رخ کو کرپان پہنے دکھایا گیا ہے۔

اس سین پر سکھ کمیونٹی نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ فلم ’زیرو‘ کے فلمسازوں نے اس بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کرپان جیسی نظر آنے والی یہ چیز کرپان نہیں بلکہ ایک خنجر ہے۔ وہ کبھی بھی کسی بھی فرقے یا برادری کی توہین نہیں کریں گے اور کبھی بھی کرپان کو مضحکہ خیز انداز میں استعمال نہیں کریں گے، جس میں خالصہ ہونے کا آشیرواد ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں