84

عظیم اتحاد: اقتدار کا حصول اصل مقصد :مودی

نئی دہلی:وزیراعظم نریندرمودی نے اپوزیشن پارٹیوں کے ممکنہ ملک گیر عظیم اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے آج کہا کہ اس کی تشکیل کی بنیاد ذاتی وجود بچانا ہے اور یہ عوام کےلئے نہیں ، بلکہ اقتدار کےلئے بنایا جارہا ہے۔

مسٹر نریندرمودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ وسطی اور شمالی چنئی ،مدورئی ،تروچراپلی اور ترویلور میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی)کے بوتھ سطح کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’آج کئی لیڈر عظیم اتحاد کی بات کررہے ہیں۔یہ اتحاد کسی نظریہ پر مبنی ہونے کے بجائے ذاتی وجود کی حفاظت کےلئے ہے۔یہ اتحاد صرف اقتدار کےلئے ہے، نہ کہ عوام کےلئے”۔

انہوں نے کہا کہ جین کمیشن پر کانفرنس اور تیلگو دیشم پارٹی(ٹی ڈی پی) کی لڑائی کو کوئی نہیں بھولا ہے۔اس وقت کانگریس نے کہا تھا کہ یا تو وہ رہے گی یا ٹی ڈی پی،لیکن اب وہ ساتھ آنا چاہتے ہیں۔ان کا یہ اتحاد موقع پرستی نہیں ہے ،تو کیا ہے؟

وزیراعظم نے کہا کہ یہ مبینہ عظیم اتحاد امیر زادوں کا کلب ہے۔لوگوں کو ان کی موقع پرستی صاف نظر آرہی ہے اور وہ اس بے میل اتحاد کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

مسٹر مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس عوام میں جھوٹ پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔وہ(کانگریس لیڈران )ملک کی ترقی کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔آج ملک تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ہندوستان کا خواب،امید کے مطابق تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔شہروں میں اقتصادی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ شہر کاری چیلنج نہیں بلکہ موقع ہے۔ہماری کوششوں کے نتائج نکل رہے ہیں ۔ایک بین الاقوامی مطالعے میں یہ کہا گیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا میں سب سے تیز ترقی کرنے والے سبھی 10شہر ہندوستان کے ہوں گے۔

وزیراعظم نے 2018 میں حکومت اور ملک کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ملک کے طورپر ’نیو انڈیا‘ کی تعمیر کی سمت میں ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ہم نے دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ یوجنا ’پردھان منتری جن آروگئے یوجنا ‘ کی شروعات کی جس سے اب تک چھ لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’نیو انڈیا‘ کی طرف آج اگر ہم تیزی سے بڑھ رہے ہیں تو صرف اس لئے کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی بنیاد ڈالی تھی ۔ان بزرگوں کے اصول اور دور اندیشی ہمارے لئے اہم ہے۔

پارٹی کارکنان سے مسٹر مودی نے کہا کہ ’’ مادر وطن کے لئے کارکنان کے دل میں جتنا احترام اور فخر کا جذبہ ہوگا اتنا ہی وہ لوگوں سے قریب آئیں گے اور جتنا وہ غریبوں کے تئیں سنجیدہ ہوں گے اتنی ہی ہماری جیت آسان ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں