19

سرنگوں میں گم لبنان

✍: ندیم قطیش

لبنان اس وقت مختلف سرنگوں میں گُم ہے۔ملک میں جاری سیاسی بحران کی سرنگ ہے، حکومت بنانے میں ناکامی کی سرنگ ہے ،اس کے اقتصادی اور مالیاتی اشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا دیوالہ نکلنے کو ہے۔اب ان سرنگوں کے بعد حزب اللہ کی سرنگیں بھی برآمد ہورہی ہیں۔لبنان میں جب کبھی سیاست پر بحث ومباحثہ ہوتا ہے اور جب کبھی کوئی بحران ہوتا ہے تو ہم اکثر لفظ ’’سرنگیں‘‘ استعمال کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ’’ لبنان ایک سرنگ میں داخل ہوگیا ہے‘‘۔جب کسی مسئلے کا حل نکل آتا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’ لبنان نے سرنگ سے نکلنا شروع کردیا ہے‘‘۔

یوں تو یہ ہمارا ننھا سا ملک ہے مگر ایک ہی وقت میں کئی ایک سرنگوں میں داخل ہے۔حال ہی میں جو ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے،وہ حزب اللہ کی سرنگیں ہیں۔اسرائیل ان کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا لیکن اس نے ان کی موجودگی کا اب کہ اعلان کیا ہے تاکہ اس کو سیاسی تعلقات ِعامہ کی مہم کے ایک ایشو کے طور پر عام کیا جاسکے اور ایسی مہموں کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتی ہیں۔

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع موشے یعلون نے فوجی ریڈیو سےایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ان سرنگوں کے بارے میں عوام سے جھوٹ بولا ہے۔اس نے لبنان کی سرحد کے ساتھ یہودی آباد کاروں کی بستیوں کے مکینوں کی تشویش سے ہمیشہ انکار کیا تھا۔انھوں نے ہر وقت ڈرلنگ کے شور کی شکایت کی تھی۔

یعلون کے مطابق حکومت نے عوام سے اس لیے جھوٹا بولا کہ اسرائیل اپنے دشمن (حزب اللہ ) کو گم راہ کرنا چاہتا تھا اور اس کو سرنگوں کی کھدائی جاری رکھنے کی اجازت دینا چاہتا تھا تاکہ اسرائیلی حکام اس کی نگرانی کرسکیں اور اس کو اس کے منصوبوں میں تبدیلی یا کوئی اور حکمت عملی اختیار کرنے سے سے روک سکیں ۔

اسرائیل نے ٹیلی ویژن پر ان سرنگوں کی دریافت کی خبر کا خوب ڈراما اور پروپیگنڈا کیا ہے۔ وہ یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے کہ اس نے لبنان کے سرحدی علاقے میں ان سرنگوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے مگر دوسری جانب حزب اللہ نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ لبنانی ملیشیا سرحد پر اپنے فوجی اثاثوں کی تباہی کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔وہ ان پر مستقبل میں کسی جنگ کی صورت میں انحصار کرسکتی تھی۔

لبنانی ریاست اپنے طور پر الجھن کا شکار ہے ، بالخصوص جب سے اقوام متحدہ کی لبنان میں امن فوج ( یونیفل ) نےان سرنگوں کی موجودگی کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لبنانی علاقے سے اسرائیل کی جانب جاتی تھیں۔یونیفل اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کی ذمے دار ہے۔اس کی جانب سے حزب اللہ کی سرنگوں کی موجودگی کے اعلان کو اس قرارداد کی خلاف ورزی سمجھاجائے گا اور اس سے لبنان کی پوزیشن بہت ہی کم زور ہوگئی ہے۔

اسرائیلی اہداف
اسرائیل اس مہم سے کئی ایک اہداف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ان کا پانچ نکات میں خلاصہ بیان کیا جاسکتا ہے:

1۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل سرنگوں کے مسئلے کو لبنان کے ساتھ سرحد پر کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر کو جاری رکھنے کے لیے ایک جواز کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ بالخصوص ان متنازعہ علاقوں میں وہ یہ دیوار تعمیر کرنا چاہتا تھا جن تک حزب اللہ کی رسائی ہوسکتی تھی۔

2۔ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ قرارداد 1701 ناکام ہوچکی ہے۔یہ اس کے حزب اللہ اور ایران کے ساتھ تنازع کےا نتظام میں ناکام رہی ہے۔اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد کو الزام دینا چاہتا تھا کہ وہ حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک ڈھال بن گئی ہے اور حزب اللہ اس عسکری صلاحیت کو اس کے خلاف مستقبل میں جنگ میں استعمال کرسکتی ہے۔

3۔اسرائیل کی سکیورٹی اور فوجی ترجیحات کو اس طرح از سرنو مرتب کیا جائے کہ ان سے ایران ، حزب اللہ اور شمالی محاذ کے ایشوز کو اولیت حاصل ہوجائے اور جنوبی محاذ غزہ وغیرہ پر بھی اس کو مقدم کر دیا جائے۔اس مرحلے پر اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین کی رخصتی اس تبدیلی میں سود مند ثابت ہوئی ہے۔بالخصوص جب نیتن یاہو کسی بھی بھاری سیاسی قیمت پر غزہ میں جھڑپوں کا خاتمہ چاہتے تھے۔

4۔ یہ ایران کے شام سے لبنان تک اسرائیل کے ساتھ جنگ کے مجوزہ منصوبے کے بارے میں اسرائیلی اور عالمی رائے کو ہموار کرنے کا ایک دیباچہ ہے کیونکہ شام میں اس پر روس کا دباؤ ہے۔روس کے نزدیک شام میں استحکام کا انحصار داخلی لڑائی منجمد ہونے کے بعد اس ملک میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بالواسطہ اور بلا واسطہ محاذ آرائی کے خاتمے پر بھی ہے۔چناں چہ اس صورت میں ایران کی ترجیح یہ ہوگی کہ جنونی لبنان کے محاذ کو گرم رکھا جائے۔

5۔اسرائیل کی فوجی نقل وحرکت بھی اس کی روس کے ساتھ بات چیت کا موضوع رہی ہے ۔وہ شام میں نقل وحرکت کی آزادی چاہتا ہے کیونکہ ستمبر میں شام میں روس کے ایک لڑاکا طیارے کی تباہی کے بعد یہ معطل ہوگئی تھی اور یہ دس روز قبل ہی بحال ہوئی ہے۔

چناں چہ اگر روس لبنان میں امن واستحکام سے متعلق مشوش ہے اور جیسا کہ اس نے واضح طور پر کہا ہے اور وہ مستقبل میں لبنان کی توانائی کی مارکیٹ میں ایک بڑا سرمایہ کار بننا چاہتا ہے تو اس کو شام میں اسرائیلی نقل وحرکت پر لگائی گئی اپنی پابندی کو واپس لینا چاہیے۔ وہ شام میں اسرائیل کو نقل وحرکت کی آزادی دے کر لبنان میں امن قائم کرسکتا ہے۔

ان ممکنہ پانچ مقاصد کے پیش نظر اسرائیل کی سرحدوں پر سرگرمی بظاہر کسی چیز کا آغاز نظر آتی ہے اور وہ کسی چیز کا اختتام بالکل بھی نہیں۔یہ سب کچھ ایک ایسے وسیع تر تناظر کا حصہ ہے جس کا تعلق ایران کے ساتھ ایک وسیع تر محاذ آرائی سے ہے۔اس کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ فرما رہی ہے اور بنیامین نیتن یا ہو کی حکومت اور عرب حکومتیں بڑے جوش وجذبے کے ساتھ اس کی پیروی کررہی ہیں۔یہ بات ناممکنات میں سے نہیں کہ سخت پابندیوں میں گھرا ہوا ایران اپنے مؤثر آلہ کاروں کو استعمال کرے گا۔دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے حزب اللہ اس کا ایک بڑا پتا ہوسکتی ہے۔یہاں اس بات کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں کہ اس نے اپنی سرحدوں سے دور خطے میں بد امنی پیدا کرکے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کافی جواز پیدا کردیا ہے۔ ایران پابندیوں کی حکمت ِ عملی کو بھی یقینی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ حکمتِ عملی ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم سطح پر برقرار رکھنے میں توازن پر مبنی ہے۔

2018ء کا سال کئی حوالوں سے 1981ء کی طرح کا لگتا ہے۔1981ء میں اسرائیل کی لبنان پر چڑھائی تنظیمِ آزادیِ فلسطین ( پی ایل او) کو ختم کرنے میں ناکام رہی تھی۔تب ایک چھوٹی جنگ چھڑ گئی تھی اور اسی سال جولائی میں جنگ بندی کے ایک سمجھوتے پر منتج ہوئی تھی۔اسرائیلی وزیراعظم مینخم بیگن ایک سیاسی مہم کا ہدف بن گئے تھے کیونکہ اس سمجھوتے میں پہلی مرتبہ پی ایل او کو تسلیم کیا گیا تھا۔پھر 1982ء میں اسرائیلی فوج نے لبنان پر دوبارہ چڑھائی کی تھی۔اس کے نتیجے میں لبنان میں پی ایل او کا دور تو اختتام پذیر ہوگیا تھا مگر منظرنامے پر ایک نیا کردار متعارف ہوا تھا۔اس کو آج ہم حزب اللہ کے نام سے جانتے ہیں۔

کالم نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں