69

برانڈ مودی کا نیا فارمولہ: جو روزگا مانگے اسے گائے دے دو

✍: شیکھر گپتا

برانڈ مودی نے 2014 میں امیدوں اور توقعات فروخت کیں انہیں نوجوانوں نے خریدامگر اب انہیں لگ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت اور اندرا کےزمانے کی کانگریس میں تو کوئی فرق نہیں ہے۔ اوپر سےگائے بھی گلے میں ڈال دی گئی ہے۔

برانڈ گرو الک ہمیشہ دعوی کیا کرتے تھے کہ”کلائنٹ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ان کے برانڈ کو نئی پہنچان دے دوں، میں ان سے
کہتا ہوں کہ میں اپنے برانڈ کو نئی پہچان نہیں دیتا بلکہ اپنے حریف کے برانڈ کو نئی شناخت دیتاہوں”.

بدقسمتی سے الیک کا گذشتہ دنوں انتقال ہوگیا۔ وہ زندہ ہوتے تو ان سے یہ بات کرنے میں خوب مزہ آتا کہ نریندر مودی اور امت شاہ نے کس طرح ان کے اس دعوی کے عین الٹا کام کیا ہے۔ ان دونوں نے 2014 میں ووٹ بازار کو فتح کرنے والی اپنی برانڈ کی پہچان کوکس طرح سے الٹاکیا۔

2014میں گرمیوں سے پہلے مودی کے منھ سے منفی یا مایوسی کا شاید ہی کوئی لفظ سنا گیا ہو۔ ان کا پیغام، بالکل پختہ اٹوٹاور قابل یقین تھا۔
ترقی، نمو، روزگار، ایماندار حکومت، سبھی شعبوں کےلئے اچھےدن، کا دعوی کیا۔ وہ مستقبل کی باتیں کررہےتھے کہ وہ اس میں کس طرح سے انقلابی تبدیلی لائیں گے۔

خاص کر ملک کے نوجوانوں کےلئے اگر وہ گذشتہ دنوں کی باتیں کرتے تھے تو وہ باتیں یوپی اے ۔2 کی ناکامیوں، ان کی عوام مخالف پالیسیوں،لاقانونیت، اس کے وزیر اعظم کی بے عزتی، ماحولیات سے متعلق منظور شدہ پالیسیوں میں گھپلوں اور دوسرے تمام گھپلوں کی بات ہوتی تھی۔ وہ کوئی کمیونل یا تقسیم کرنے کا کارڈنہیں کھیلتے تھے۔

ان کے مہم کا نعرہ تھا”سب کا ساتھ سب کا وکاس”اس کا اشارہ یہ تھا کہ مجھے مسائل کی سمجھ ہے، میں اس کا حل لے کر آیا ہوں، مجھے ایک بار اقتدار پر فائز کرو اور میرے اوپر بھروسہ کرو، دعوی زوردار تھا۔ اس نے اپنے حریف کا صفایا کردیا۔

اب آنےوالے انتخاب کے چھ مہینے رہ گئے ہیں۔ اور ان کا پیغام کل ملاکر اس کے الٹا ہوگیا ہے۔ وہ اندراگاندھی کے بعد سب سے طاقتور وزیر اعظم کے طور پر ابھرے تھے لیکن اب وہ شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں”بھارت ماتا کی جئے” تک نہیں بولنے دیاجاتا۔ یعنی 10 جن پتھ کی جس منڈلی نے منموہن سنگھ کو دبائے رکھا وہ اب صرف 47 اراکین پالیمنٹ کے بل پر انہیں بھی دبا رہی ہے۔

مودی نے کم سے کم وقت میں سب سے اچھی حکومت دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اب وہ اپنی زیادہ سے زیادہ حکومتی اسکیموں کو گنا رہے ہیں ۔انہوں نے بدعنوانی پر کتنی پابندی عائد کی، کتنے گھپلوں کا خلاصہ کیا، کتنے بدعنوانوں کو سزا دلائی، یہ سب بتانے کی جگہ گاندھی اور چدمبرم خاندان کے مبینہ نئے پرانے پاپوں کی لیپاپوتی میں لگے ہیں اور یہ سب 45 مہینے کا راج کرنے اور ایجنسیوں کا بھرپورغلط استعمال کرنے کے بعد ہورہا ہے۔

اقل ترین حکومت اور گجرات کی طرح کاروباریوں کے بل پر نمو اور معاشی ترقی لانے کی جگہ وہ پرچے تھمانے میں لگے ہیں اب وہ مستقبل کی بات شاید ہی کرتے ہیں ان کے اوپر ماضی اور دور کے ماضی کا بھوت سوار ہے۔ جواہر لال نہرو، ان کے والد اور ان کی بیٹی، پٹیل اور شاستری کا بھوت ان پر سوار ہے، روزگار، ترقی، مستحکم ہندوستان کے وعدے درکنار کر دئیے گئے۔ ایکتا، سب کا ساتھ سب کا وکاس وغیرہ کے عوض اب مذہبی منافرت ہی اس سیزن کا مشن ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اور شاہ اس کے تیر اور کمان ہیں۔

تو ذرا دیکھئے کہ انہوں نے اپنے برانڈ یا مال کی شکل کس ڈرامائی انداز سے بدل ڈالا ہے۔ وہ اپنے کام کاج یا مستقبل کے وعدوں کی جگہ، اپنے مخالفین کے ماضی کے لئے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ یہ تو تقریبا یہ کہنے جیسا ہے کہ “ارے وہ روزگار مانگ رہے ہیں؟ انہیں گائے دے دو!۔

ہندوستان کی بے روزگارفوج گاؤں میں چوراہوں پر کیرم یا تاش کھیلتے یا سگریٹ بیڑی پیتے، گپ شپ لڑاتے یا پھر چینی اسمارٹ فون پر تقریبا مفت میں ڈاٹا کے ساتھ بکواس کی چیزیں دیکھ کر وقت گذاری کر رہی ہے۔ اس کے اندر غصہ اور اشتعال بڑھتا جارہا ہے۔ کیا وہ اپنی ان توقعات اور خو د کے احترام کو، جس نے مودی کو گدی پر بٹھایا، قربانی دے کر سب کچھ گائے کے تحفظ پر قربان کرنے کو تیار ہے؟ حالیہ انتخابات کے نتیجے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیتے۔

مودی کی تنقید کرنےوالے اورسماجی کارکن اگر ان نتائج کے لئے صرف گاؤں اور کسانوں کے عدم اطمینان کو ذمہ دار بتا رہے ہیں تو وہ غلط سوچ رہے ہیں۔ اعداو شمار بتاتے ہیں کہ بی جے پی ان ریاستوں میں زیادہ تر شہروں میں شکست کھائی ہے۔ مودی کے سب سے بڑے حامی ، نیم شہری مڈل کلاس اور بےروزگار نواجوان تھے۔2018 میں نہرو کو پھر سے زندہ کرنےاور پھر سے دفن کرنے کی کوششوں نے ان میں کوئی بھی حوصلہ یا جوش پیدا نہیں کیا۔

2014 کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد میں نے لکھا تھا کہ یہ نئی صدی کے اس ہندوستان کا بیداری ہے۔ جو نظریات سے بالکل بھی کھوکھلاہے۔ اس ہاتھ دے اور اس ہاتھلےوالی اور “ہم نے تمہارا کوئی ادھارنہیں کھایا” ہے والی نسل کا بھارت ہے۔ اسے تمام طرح کےخاص کرموروثی اختیارات سے سخت نفرت ہے۔ اس لئے اس نے کانگریس کا تقریبا مکمل صفایا کردیا تھا۔ مودی اور شاہ اس سے پھر اسی خاندان سے لڑنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہ کارگر ثابت نہیں ہورہا ہے۔ رائے دہندگان حیران ہیں۔” لیکن آپ تو ایسے نہ تھے”۔

2014 کے انتخابی مہم کے دوران مودی نے سونیا گاندھی اور ان کی این اے سی کے عوامی مفاد پر حملہ کرنے کے لئے ایک دلچسپ کہانی سنایا کرتے تھے۔

ایک کسان جنگل سے گذر رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک بھوکا شیر آگیا، شیر اس کھانے کےلئے آگے بڑھا لیکن کسان خاموش رہا، اس نے شیر سے کہا”اپنی جان کو خطرے میں مت ڈال، میں تمہیں اپنی بندوق سے مار دونگا”
شیر ٹھہر گیا اور غرانے لگا، اس نے کسان کو غور سے دیکھا اور پوچھا لیکن تمہاری بندوق کہاں ہے؟
کسان نے اپنےکرتے کی جیب سے کاغذ کا ایک صفحہ نکال کر بولا، یہ رہا شیر بھائی، سونیا جی نے ابھی بندوق تو نہیں، اس کا لائسنس دیاہے”۔

ہزاروں کی بھیڑ اس کہانی پر ہنستی تھی اور اس کے پیغام کو سمجھ جاتی تھی۔ پیغام یہ رہتا تھا کہ عوامی مفاد کی بےمعنی اسکیموں کے بل پر نہ تو غریبی ، بے روزگاری دور کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوامی توقعات کو پورا کیا جاسکتاہے۔ بھلے ہی ان اسکیموں کو عوامی حقوق کے قانون کا سہارا کیوں نہ دیاجائے۔

مودی نے دہائیوں تک کانگریس حکومت کی ناکامی کے سب سے بڑے نتائج کے طور پر”منریگا” کا ذکر کیا۔ اب وہ خود ہی اس میں زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں ویسی ہی کئی اسکیمیں لائی جارہی ہیں۔ غریبوں کو طبی خدمات دینے کے نام پر لائی گئی “آیوش مان بھات” اسکیم مودی کا”بندوق لائسنس” ہی ہے۔2014 اور گذشتہ سال اترپردیش تک جن نظریات سے عاری ووٹروں نے ان کا ساتھ دیا وہ آج الجھن میں ہیں اور یہ ظاہر ہورہا ہے۔

بی جے پی حکومت کے شروع کے دنوں میں ہی ارون شوری نے مستبقل کا پتا دینے والے کی طرح کہا تھاکہ یہ تو”گائے کے ساتھ گانگریس کی حکومت” ہے۔ شوری نے اپنی تنقید میں تھوڑی سی راحت دی تھی۔ یہ گائے کے ساتھ کانگریس توہے ہی مگر کانگریس بھی اندرا کےوقت والی۔ یہ عوامی شعبوں کی وکالت کرتی ہے اور ٹیکس کی ادائیگی کرنےوالوں کے پیسے ان بینکوں میں ڈلواتی ہے جن کو اندرا گاندھی نے نیشنلائز کیا تھا۔

ایک پی ایس یو کو دوسرا پی ایس یو خریدنے کے لئے کہتی ہے۔ اور مخالفین کو ملک مخالف کہہ کر انہیں بدنام کرتی ہے۔ اگر مودی کی بی جے پی گائے کے ساتھ پرانی کانگریس ہے تو وہ سب سے الگ کس معنی میں ہے؟ مانا کہ مودی، شاہ یا موہن بھاگوت بھی کسی کے لئے جواب دہ نہیں ہیں۔ لیکن وہ جو کچھ سامنے لا رہے ہیں اسے اتنا الگ اور پرکشش کیسے مان لیا جائے؟کیا یہ کشش اقلیتوں کے ڈر کی وجہ سے ہے لیکن اس میں انتا دم نہیں ہے۔

بی جے پی کا ایک سب سے خاص اور اہم وعدہ بدعنوانی کے ختم کرنے کا تھا۔ اس کے راج میں بے شک کوئی بڑا گھپلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے اور مودی کی اپنی بے داغ شبیہ میں چمک برقرار ہے لیکن جہاں شہریوں کا سامنا پنچایتی راج سے ہوتا ہے اس نچلی سطح پر تو حالت پہلے سے بھی برے ہوگئے ہیں۔

سخت قوانین سے لیس ہو کر تمام طرح کے ٹیکس دینے والے اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لئے ٹانڈو مچا رہے ہیں۔مثال کے طور پر ممبئی میں لگتا ہے کہ بلڈنگ پرمٹ اور پراپرٹی ٹرانسفر کی پرانی، کانگریس کے زمانے والی رینٹ وصولی پھر سے شروع ہوگئی ہے اور ہر کوئی پریشان ہے۔ بے شک لوگ اپنی پریشانی ہلکی آوازمیں ہی ظاہر کرر ہے ہیں اور آپسی کانا پھوسی سے کام چلا رہے ہیں۔ کون چاہے گا کہ کوئی ٹیکس والا یا ای ڈی یا سی بی آئی کا کوئی آدمی اس کے گھر آئے۔

اس درمیان دیکھیں کہ گھپلوں کی جانچ میں اس حکومت کا ریکارڈ کیسا رہا ہے؟ جوٹی گھپلے کے سبھی مشتبہ بری ہوچکے ہیں، کوئلہ گھپلے میں کانگریس کے سبھی لیڈر، اور کارپوریٹ بے داغ نکلے ہیں۔ بے قصور آئی اے ایس افسر جیل بھیج دیے گئے ہیں جبکہ انہوں نے کوئی بھی بدعنوانی نہیں کی۔ وہ بھی اس قانون کے تحت جسے اس حکومت نے رد کردیا ہے۔

دولت مشترکہ کھیل، آدرش، ایئر انڈیا خرید، جیسے وہ تمام گھپلے فراموش کردیے گیے ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست میں اتھل پتھل مچائی تھی۔ ان کے لئے کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ چند لوگوں پر ہی معاملے چل رہے ہیں۔ حکومت اور اس کی ایجنسیاں نئے معاملوں میں مخالفین کو پھنسانے میں مشغول ہیں مگر ان میں بھی ان کوکامیابی نہیں مل رہی ہے۔

نریندر مودی اور امت شاہ اپنی اس شبیہ کے ساتھ سامنے آئے تھے کہ ایسی کوئی گڑبڑی نہیں ہے جس سے وہ درست نہیں کرسکتے، اب ان کی باتوں سے احساس ہوتا ہے کہ ان میں صرف مخالفت، غصہ،منفی سوچ ہی ہے اوراپنے کام کے عوض میں نہیں بلکہ بری طرح سے ہارنے والے مخالفین کے خلاف ہی ووٹ مانگ رہے ہیں۔ اگر آپ کا پلڑا بھاری ہے تب بھلا آپ اپنی شبیہ میں اس طرح کی بڑی تبدیلی کیوںکر رہے ہیں؟ الیک آج ہوتے تو اس پر ٹھہاکے لگاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں