11

میلبورن ٹسٹ: ہندوستان کا نئی اوپننگ جوڑی اتارنے کا فارمولہ

میلبورن: ہندوستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف میلبورن میں 26 دسمبر سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں نئی اوپننگ جوڑی کے ساتھ اترنے جا رہی ہے جبکہ اپنی انجری سے تنازعہ پیدا کرنے والے آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کی واپسی سے مہمان ٹیم کی نگاہیں سیریز میں برتری حاصل کرنے پر لگی ہیں۔

وراٹ کوہلی کی کپتانی والی ٹیم انڈیا نے منگل کو تیسرے ٹیسٹ کے موقع پر اپنی آخری الیون کا اعلان کر دیا جس میں سب سے بڑی تبدیلی اوپننگ جوڑی کو لے کر تھا۔ ٹیم مینجمنٹ نے ایڈیلیڈ اور پرتھ ٹیسٹ میں مایوس کن کارکردگی کرنے والے لوکیش راہل اور مرلی وجے کی اوپننگ جوڑی کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر بدھ سے کھیلے جانے والے ٹیسٹ سے ہی باہر کر دیا۔

میلبورن میں اب ہندستان نئی اوپننگ جوڑی کے ساتھ اترے گی جس میں مینک اگروال کو ٹیسٹ ڈیبو کا موقع دیا جانا طے ہے جبکہ هنوما وهاري دوسرے اوپننگ بلے باز ہوں گے۔ وہیں ٹیم کو اپنے دو اہم کھلاڑیوں کی واپسی سے مضبوطی ملی ہے جو چوٹ کی وجہ سے باہر تھے، ان میں چھٹے نمبر کے بلے باز روہت شرما اور آل راؤنڈر جڈیجہ شامل ہیں۔ روہت پرتھ ٹیسٹ میں نہیں کھیلے تھے جبکہ جڈیجہ کندھے کی چوٹ پر قابو پانے کے بعد واپسی کر رہے ہیں۔

ہندستان نے ایڈیلیڈ میں پہلا میچ 31 رنز سے جیت لیا تھا لیکن پرتھ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں وہ 146 رنز سے ہارنے کے بعد چار میچوں کی سیریز میں 1-1 کی برابری پر آ گیا ہے۔ ایسے میں میلبورن ٹیسٹ برتری کے لحاظ سے ہندستان کے لیے اہم ہو گیا ہے۔ وراٹ کی پسند آل راؤنڈر ہردک پانڈیا بھی فٹ ہو چکے ہیں لیکن ٹیم میں اضافی بلے باز كھلانے کی امید کے ساتھ روہت کو موقع دیا گیا ہے۔

ہندستانی ٹیم کو گزشتہ دونوں ٹسٹ میچوں میں بلے بازوں سے مایوسی ہاتھ لگی ہے جس میں اوپننگ جوڑی کا غیر ملکی زمین پر سر درد مسلسل بنا رہا۔ مسلسل موقع دیئے جانے کے باوجود راہل اور مرلی ٹیم کو اچھی شروعات دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ راہل نے گزشتہ میچوں کی چار اننگز میں کل 48 رنز ہی بنائے ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی زمین پر اپنے نو ٹسٹ میچوں میں صرف ایک 50 سے زائد کا اسکور ہی بنایا ہے۔

مرلی نے موجودہ سیریز میں اپنی چار اننگز میں 49 رنز ہی بنائے ہیں۔ اس سال مرلی نے اپنے آٹھ ٹسٹ میچوں میں صرف افغانستان کے خلاف ایک سنچری بنائی ہے جبکہ خارجہ دوروں میں اپنے سات ٹسٹ میچوں میں وہ ایک بھی نصف سنچری تک نہیں بنا سکے ہیں۔ پرتھ میں مرلی پہلی اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے تو دوسری اننگز میں 20 رنز بنا سکے تھے۔ مینجمنٹ ٹیم کے لئے نوجوان اوپنر پرتھوی شا کے مشق کے دوران زخمی ہو جانے سے بھی اوپننگ جوڑی میں اختیارات کم ہوئے تھے۔

اگرچہ مینک کو اوپننگ میں اچھا انتخاب مانا جا رہا ہے جن کی اس سال گھریلو کرکٹ میں ہندستان اے ٹیم کے ساتھ بھی کارکردگی اچھی رہی تھی۔ وہیں هنوما آندھرا کی رنجی ٹیم کے اہم بلے بازوں میں ہیں جبکہ وہ حیدرآباد ٹیم کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہےکہ ہندستان کی یہ نئی اوپننگ جوڑی آسٹریلیا کی تیز گیند بازی تکڑی پیٹ کمنز، جوش ہیزل وڈ اور مشیل اسٹارک کا سامنا کر ٹیم کو اچھی شروعات دلا سکے گی۔

پرتھ میں ہندوستان کی پہلی اننگز 283 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی جس میں کپتان وراٹ 123 رنز اور نائب کپتان اجنکیا رہانے 51 رنز کی نصف سنچری اننگز کے علاوہ باقی تمام بلے بازوں نے مایوس کیا جبکہ دوسری اننگز میں 140 رنز پر ٹیم ڈھیر ہو گئی تھی۔ رنز اسکور کرنے کے لیے ٹیم کا انحصار وراٹ پر ہی نظر آتا ہے جس کا فائدہ مخالف ٹیم اٹھا رہی ہے۔

دنیا کے نمبر ایک ٹیسٹ بلے باز وراٹ نے پچھلی چار اننگز میں 3، 34، 123، 17 رن بنائے ہیں۔ خراب آغاز کی وجہ سے مڈل آرڈر میں ان پر دباؤ مسلسل رہتا ہے لیکن ون ڈے کے ماہر بلے باز روہت کی واپسی نے ٹیم کو مضبوطی دی ہے۔ پرتھ سے باہر رہے روہت چھٹے نمبر پر اہم اسکورر ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ رہانے اور پجارا بھی اہم اسکورر ہیں۔

اگرچہ آف اسپنر روی چندرن اشون پیٹ کے پٹھوں میں کھنچاؤ کی پریشانی سے اب تک نہیں نکل سکے ہیں اور وہ میلبورن سے بھی باہر رہیں گے۔ لیکن اشون کی تلافی لیفٹ آرم اسپنر جڈیجہ کی واپسی ممکن ہے جو نچلے آرڈر پر اچھے رنز اسکورر بھی ہیں۔

گیند بازوں نے اگرچہ اب تک تسلی بخش کارکردگی کی ہے۔ پرتھ میں ٹیم کو ایک اسپنر کی کمی کھلی تھی ایسے میں تیز بولنگ اٹیک میں ایشانت شرما، جسپريت بمراه اور محمد سمیع کے ساتھ جڈیجہ کی موجودگی سے بولنگ آرڈر کافی متوازن دکھائی دے رہا ہے۔ جڈیجہ کو چوتھے فاسٹ بولر امیش یادو کی جگہ آخری الیون میں موقع ملا ہے۔

آسٹریلوی ٹیم نے بھی میلبورن میچ کے لئے ایک تبدیلی کی ہے اور خراب فارم سے برسرپیکار پیٹر هیڈاسكوب کی جگہ آل راؤنڈر مچل مارش کو ٹیم میں جگہ دی ہے۔ اس کے علاوہ پرتھ میں جیت دلانے والی آسٹریلوی ٹیم میں دیگر کوئی تبدیلی نہیں ہے اور ایک بار پھر گزشتہ میچ کے مین آف دی میچ اسپنر ناتھن لیون کے نشانے پر ہندستانی بلے باز رہیں گے۔

ایم سي جي کی پچ بھی اس بار بحث کا موضوع ہے جس میں کنڈیشنز دونوں ٹیموں کو حیران کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے دوران اس پچ کو آئی سی سی نے ‘خراب’ ریٹنگ دی تھی جہاں میچ ڈرا ختم ہوا تھا۔ ایسے میں یہ پچ بھی میچ میں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں