52

طلاق ثلاثہ بل پرپارلیمنٹ میں بحث، سیلکٹیو کمیٹی کے پاس بھیجنے کامطالبہ، رواں سال دوسری بار منظور

دہلی: طلاق ثلاثہ پر آج لوک سبھا میں پانچ گھنٹے کی بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔کانگریس اور اناڈی ایم کے نے واک آوٹ کیا

بحث کے دوران لوک سبھا میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے تین طلاق کو غیر آئینی اور جرم بنانے والے بل کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت پر اسے جلدی میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ بل کو مضبوط بنانے کے لئے اسے پرور کمیٹی کو سپرد کیا جائے چاہیے۔

مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل، 2018 پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ریواليوشنري سوشلسٹ پارٹی کے این پریم چندرن نے کہا کہ بل غیر آئینی طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل پہلے لوک سبھا میں 2017 میں منظور کیا گیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں اس کو پاس نہیں کیا جا سکا تو حکومت آرڈیننس کے ذریعے اسے دوبارہ لوک سبھا میں لائی ہے جو غیر آئینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بل کو جلد بازی میں لائی ہے۔ اس کے لئے آرڈیننس لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پچھلی بار اس پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔ ضابطہ 167 میں بندوبست ہے کہ اگر کوئی بل ایک بار منظور ہو گیا ہے تو وہ ایوان میں واپس نہیں لایا جاتا ہے، لیکن اس حکومت نے غیر آئینی کام کر کے اس بل کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا ہے۔ اس کے باوجود، پہلے اس پر بحث کے دوران جو تجاویز دی گئی تھیں انہیں بل میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

مسٹر پریم چندرن نے کہا کہ اس بل میں کئے گئے التزامات کے مطابق، شوہر تین سال تک جیل میں رہے گا۔ تو سوال یہ ہے کہ وہ بیوی کو گزارے کی رقم کس طرح فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بل جلد بازی میں تیار کیا گیا ہے، اس لئے اس میں اس طرح کی بہت ساری خامیاں ہیں۔ بل کو سیلکٹیو کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہئے۔

کانگریس کی سشمتا دیو نے کہا کہ اس بل پر پہلے ہونے والی بحث کے دوران ان کی پارٹی نے کئی ترامیم پیش کی تھیں ، لیکن ان کو اس بل میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بل کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا ہے اور اس وجہ سے یہ کمزور ہے۔ اس لئے اسے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے ۔

محترمہ سشمتا دیو نے کہا کہ حکومت غلط طریقے سے یہ بل لائی ہے اور اس بہانے ووٹ بینک کی سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 300 صفحے کے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے لیکن اس میں کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بارے میں آرڈیننس لے کر آئے۔ مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جرائم کو اہمیت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگر واقعی مسلم خواتین کو ان کا حق دینا چاہتی ہے اور انہیں انصاف دینا چاہتی ہے تو اس بل کو سلیکٹ کمیٹی كے حوالے کیا جائے ۔

محترمہ سشمتا دیو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بل کی حمایت تو کی، مگر ساتھ ہی کہا کہ اس کو لانے میں حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “منہ میں رام ، بغل میں چھری”۔ یہ بل ہندو، پارسی اور عیسائیوں کے قانون کے مشابہ نہيں ہے۔ اس بل میں اب بھی بہت سی خامیاں ہیں، اس لئے اسے مناسب سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی میناکشی لیکھی نے مودی حکومت کو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ سال کی مدت کار میں خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے مفادات کی حفاظت سے متعلق 50 اسکیمیں لائي ہيں۔

انہوں نے کہا کہ مرد حضرات خواتین کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے کھڑے نہيں ہوتے ہيں، خواتین کے حقوق کی لڑائی نہيں لڑی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کے لوگوں کو مسلم خواتین کو انصاف دلانے کے لئے متحد ہونا چاہئے اور اس بل کو منظور کرانا چاہئے تاکہ انہيں انصاف مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ تین طلاق میں صرف مرد کو ہی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خواتین جب چاہے طلاق دے۔یہ عورتوں کو دبانے کی کوشش ہے جبکہ قرآن میں خواتین کے احترام کو اہمیت دی گئی ہے لیکن کچھ لوگوں نے عورتوں کو کچلے رکھنے کے لئے قرانی نظام کے ڈھانچے کو بگاڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فون پر پیغامات بھیج کر، فون کرکے یا دوسرے طریقے سے تین بار طلاق کہہ کر کسی خاتون کی زندگی کو برباد کرنے کے رواج کو ختم کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے یہ بل منظور کیا جانا ضروری ہے۔

اس سے پہلے ایوان میں بل کو بحث کے بعد منظور کرنے کے لیے پیش کرتے ہوئے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ بل مسلم خواتین کو احترام دینے، انہیں بااختیار بنانے اور برابری کا حق دینے کے لئے لایا گیا ہے۔ اس کی دفعات کے تحت متاثرہ خاتون یا اس کے رشتہ دار ایف آئی آر درج کر سکیں گے۔ متاثرہ خواتین کو پارلیمنٹ ہی انصاف دے سکتی ہے اور اس کے لئے یہ بل لایا گیا ہے۔

اے آئی ڈی ایم کےکے انور رضا نے بھی بل کو ٹالنے یا سلیکٹ کمیٹی کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بل میں تین سال کی سزا کے التزام کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طلاق شدہ مسلم خواتین کی حالت مزید خراب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو یا تو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جائے یا سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔

ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے بل میں مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کی فکر مندی کو تو جائز قرار دیا، لیکن انہوں نے طلاق دینے والے مسلم شوہروں کے لئے تجویز کی سزا کو نامناسب اور نا معقول قرار دیا۔

اس دوران اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بحث میں مداخلت کرتے ہوئے مسلم خواتین کی حالت زار کے لئے پرانی کانگریس حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ 1986 میں شاہ بانو معاملے میں کانگریس نے جو ‘لمحوں میں خطا کی، اس کی سزا صدیوں’ نے بھگتی ہے۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے کر کب کا مسترد کر دیا ہے، لیکن ہندوستان میں اب بھی شرعی قانون کی شکل میں جاری ہے۔

شیوسینا کے اروند ساونت نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل سے مسلم خواتین کو سب سے زیادہ خوشی ہو رہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد کسی کو جیل بھیجنا نہیں بلکہ یہ متنبہ کرنا ہے کہ اگر تین طلاق کا قدم اٹھایا تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔

تلنگانہ راشٹر سمیتی کے جتندر ریڈی نے حکومت کی منشا اور بل لانے کے لئے یہ وقت منتخب کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کسی خاص مذہب میں دخل اندازی سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین کی دفعہ 14، 15 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہو گیا اور قانون بن گیا تو اسے اکثریت کی طرف سے اقلیتوں کی زندگی کو کنٹرول کرنے والا سمجھا جائے گا۔

انہوں نے حکومت سے سیاسی ہتھکنڈے اپنانے کی بجائے مسلم خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی مانگ کی۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے محمد سلیم نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا۔ انہوں نے تین طلاق پر ہی ایک اور بل کے راجیہ سبھا اور پارلیمانی کمیٹی کے پاس زیر التواء ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کئے بغیر اس مسئلے پر آرڈیننس جاری کرنا اور اب نیا بل لا کر حکومت پارلیمانی کمیٹیوں کی توہین کررہی ہے۔ تین طلاق کو جرم کے زمرے میں رکھے جانے کو غلط بتاتے ہوئے انہوں نے حکومت پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ غیر منصفانہ سماج کی تعمیر کر کے انصاف نہیں دلا سکتے۔ مسٹر سلیم نے کہا کہ اگر حکومت مسلم خواتین کو انصاف دلانا چاہتی ہے تو پہلے فرقہ وارانہ تشدد کو روکنا ہوگا کیونکہ اس سے سب سے زیادہ مشکلات مسلم خواتین کو ہی ہوتی ہیں۔ انہوں نے بھی اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

بیجو جنتا دل کے رویندر کمار نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم مردوں کے ذریعہ خواتین کو تین طلاق دیئے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لیکن، انہوں نے بل لانے کے پیچھے حکومت کی نیت سیاسی زدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت سے مسلم پرسنل لاء کوڈ میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ آئین کی دفعہ 14، 15، 16 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں قانون کے غلط استعمال کو روکنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

مسٹر رویندر کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جب تین طلاق غیر قانونی ہو چکی ہے تو بھی اس پر نیا قانون بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے بھی ایک طرف گزارا بھتہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ، تو دوسری طرف ملزم کو تین سال کے لئے جیل بھیجے جانے کے التزام پر بھی سوال اٹھایا۔

تلگودیشم پارٹی کے مسٹر جے دیو گلا نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کے لئے یہ قانون ضروری ہے، لیکن اسے کچھ لازمی ترامیم کے ساتھ لایا جانا چاہیے۔ اس سے متعلق آرڈیننس سیاسی بالا دستی کے مقصد سے لایا گیا تھا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی بھی مانگ کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں