96

کاروبار تو کچرے کا بھی ہوتا ہے کپڑے کا بھی

✍: محمد مصطفی علی سروری
sarwari829@yahoo.com

اِس برس ستمبر کے مہینے میں شہر حیدرآباد میں ہندوستان کے سب سے پہلے کتوں کے پارک کا گچی باؤلی کے علاقے میں افتتاح عمل میں آیا۔ جی ہاں قارئین پورے ملک میں کتوں کے لیے مخصوص پہلے پارک کا عظیم تر مجلس بلدیہ حیدرآباد نے ایک اعشاریہ ایک (1.1) کروڑ کے بجٹ سے قیام عمل میں لایا۔ کتوں کے اس پارک کے قیام کا سہرا GHMC کے زونل کمشنر ہری چندنا داسری کے سر جاتا ہے جو ایک خاتون IAS آفیسر ہیں اور خود بھی کتوں کو بہت پسند کرتی ہیں۔

قارئین گھبرایئے نہیں میں آج کا کالم کتوں پر نہیں لکھ رہا ہوں۔ دراصل میں کتوں کے اس پارک کے ذریعہ سے آپ حضرات کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ اکیسویں صدی کے موجودہ دور میں کاروبار کی نوعیت بالکلیہ بدل گئی ہے۔ جی ہاں جب مجلس عظیم تر بلدیہ نے کتوں کا پارک بنانے کا فیصلہ کیا تو اس پارک میں 4000 اسکوائر فٹ کے راستوں پر پلاسٹک سے بنی ٹائل لگانے کا فیصلہ کیا اور آپ لوگوں کو جان کر تعجب ہوگا کہ حیدرآباد کے پارک میں پلاسٹک ٹائلس لگانے کا آڈر اترپردیش کے نوئیڈا (Noida) علاقے میں واقع پارس اور ان کے دوست کی کمپنی Shayna Ecounified کو ملا۔

قارئین ایک اور اہم بات یہ کہ پلاسٹک کے ٹائل بنانے کے لیے پارس کو کسی خام مال (Raw Material) کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ پارس کی کمپنی شہروں سے نکلنے والے روزانہ کے پلاسٹک کے کچرے کو (Recycle) کر کے پلاسٹک کے ٹائل بناکر منافع کماتی ہے۔ یہ کوئی بہت پرانی کمپنی یا بہت بڑے سرمایہ سے شروع کردہ کمپنی نہیں ہے۔ پلاسٹک ٹائل بنانے والی اس کمپنی کو مئی 2018ء میں شروع کیا گیا۔
پارس نے صرف بی کام کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کو پلاسٹک سے ٹائل کیسے بنایا جاتا ہے بالکل نہیں معلوم تھا۔

اخبار Tribune میں اس نے National Physical لیباریٹری کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ لوگ پلاسٹک سے ٹائل بنانے کے لیے ریسرچ کر رہے ہیں۔ پارس نئی دہلی میں NPL کے دفتر جاکر معلومات حاصل کرتا ہے اور پھر وہاں سے باضابطہ اجازت لے کر 80 لاکھ کے صرفے سے پلاسٹک کو Re-cycle کر کے پلاسٹک کے ٹائل بنانے کا کاروبار شروع کرتا ہے۔ پارس کی اس کمپنی کو سب سب سے بڑا آرڈر حیدرآباد (جی ایچ ایم سی) سے کتوں کے پارک کے لیے ٹائلس کا ملتا ہے اور یوں ایک برس سے بھی کم عرصے میں پارس کا کاروبار زوروں سے چلنا شروع ہوجاتا ہے۔
(بحوالہ سی این بی سی کی رپورٹ 21؍ دسمبر 2018)

قارئین مسلم سماج میں نوجوانوں کے لیے حصول روزگار ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی حقیقی تصویریں ترغیب دلانے کا کام کرتی ہیں۔ اب ایک اور کامیاب لڑکی کی جدو جہد ملاحظہ کیجئے ۔ لاکھوں ہندوستانیوں کی طرح تاملناڈو کے شہر ایروڈ کی شویتا پوڈور نے بھی Vellore Institute of Technology سے کمپیوٹر سائنس میں انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ کورس مکمل کرنے کے بعد اس لڑکی نے پہلے تو ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت کی۔ جب یہ ملازمت نہیں چلی تو بینک میں کام کرنا شروع کیا۔ یہ جاب بھی چلی گئی تو swiggy میں کام کرنا شروع کیا۔ شویتا نے اس دوران فیصلہ کیا کہ بطور انجینئر اس کا کیریئر کا گراف صحیح نہیں چل رہا ہے۔ اس کو کچھ ایسا کام تلاش کرنا ہوگا جہاں پر اس کو نوکری چلے جانے کا ڈر نہ ہو۔

شویتا کے گھر والے کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے۔ بالآخر شویتا نے بھی طئے کرلیا کہ کاروبار وہی چلتا ہے جو بدلتے وقت اور چیلنجس کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ بس اسی سونچ کے ساتھ شویتا نے کپڑے کرائے پر دینے کا کاروبار شروع کیا۔ حالانکہ کرائے پر کپڑوں کے کاروبار کا نظریہ نیا نہیں ہے، لیکن شویتا نے یہ کاروبار Online شروع کیا۔ سال 2016ء میں شویتا نے بنگلور شہر میں مردانہ لباس کرایہ پر دینے کے لیے Candid knots ویب سائٹ شروع کی اور دو برسوں میں شویتا کے اس آن لائن کاروبار نے خوب ترقی کی۔

آج اس کے یہاں (12) لوگ کام کر رہے ہیں۔ ہر ہفتے شویتا کو 100 سے لے کر 150 آڈرس مل رہے ہیں۔ شویتا نے صرف اپنی ذاتی رقم سے کاروبار شروع کیا تھا۔ کپڑوں کے ایک آڈر پر شویتا 1500 روپئے چارج کرتی ہے۔ اس ماہ اگست کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 12 مہینوں کے دوران شویتا نے 80 لاکھ کا کاروبار کیا تھا اور شویتا کے کامیاب کاروباری سفر کو دیکھتے ہوئے اس کے چھو ٹے بھائی نے بھی انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد اس کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا اور دو سال میں شویتا کی زبردست کاروباری ترقی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی خبروں اور بزنس کی خبروں کے مشہور میگزین فوربس نے 25؍ دسمبر 2018 کو شویتا پوڈور کا ایک انٹرویو شائع کیا جس میں شویتا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میں اپنے کاروبار کو مزید نئے شہروں تک وسعت دوں گی۔

قارئین شویتا خود ایک لڑکی ہے۔ انجینئرنگ کا کورس کیا ہے۔ انجینئرنگ کی بنیادوں پر مناسب نوکری نہ ملنے کا بہانہ کر کے خاموشی سے بیٹھ سکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنا خود کا کاروبار شروع کیا اور پھر اپنے چھوٹے بھائی کو بھی اس میں شریک کرلیا اور جلد ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے۔

ارون گپتا کی عمر 30 برس ہے۔ اس نے اترپردیش کے شہر گورکھپور میں اپنا ایک انیمیشن کا اسکول کھولا لیکن گپتا کے لیے اپنا یہ اسکول چلانا بڑا مشکل ہوگیا تھا۔ تب گپتا نے آن لائن کارو بار کے بارے میں معلومات حاصل کرنی شروع کیں اور پھر جلد ارون گپتا ساڑیاں اور ڈریس مٹیریل آن لائن بیچنا شروع کردیا۔ تین سال کے دوران گپتا کے کاروبار نے خوب ترقی کی اور آج گپتا کو ہر مہینے فلپ کارٹ اور Amazon کے ذریعہ 9 ہزار ڈریس مٹیریل کے آڈرس ملا کرتے ہیں۔ گپتا اپنے کاروبار کے شروع میں گورکھپور کی دوکانوں سے مال خرید کر اس کو بیچ رہا تھا۔ آج وہ گجرات سے راست مال منگوارہا ہے۔ ابتداء میں گپتا کو چند ایک ہی آڈر ملا کرتے تھے، آج اسے اوسطاً روزانہ 300 آرڈر بھی مل رہے ہیں۔ عید و تہوار وں کے دوران ان آڈرس کی تعداد ہزار تا دیڑھ ہزار تک جا پہنچتی ہے۔ کمیشن اور GST ٹیکس ادا کرنے کے بعد بھی گپتا 10 تا 15 فیصد منافع کمارہا ہے۔ گپتا اپنا سارا کاروبار ایک کمرے سے چلارہا ہے۔ اب تو گجرات کے دوکاندار اس کو 15 دن کا کریڈٹ بھی دے رہے ہیں۔

گپتا کو آن لائن ٹریڈنگ کے ذریعہ منافع کمانے کا خیال کیسے آیا۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ارون گپتا نے بتلایا کہ اس نے دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اپنا کورس پورا کرنے کے بعد اس نے چین کی ایک ویب سائٹ پر چھوٹے AC دیکھے جو کہ ہاتھ میں پکڑ ے جاسکتے ہیں تھے۔ گپتا نے 200 روپیوں میں ان Hand Held AC کو آڈر کیا اور خود E-Bayکے ذریعہ 2 ہزار میں بیچنا شروع کیا۔ اپنے پہلے تجربے میں دس گنا منافع کمانے کے بعد گپتا نے اپنے ہی علاقے میں بننے والی ساڑیوں کو بیچنے کا تجربہ کیا اور پھر گپتا نے باضابطہ طور پر فلپ کارٹ اور امیزون پر اپنا رجسٹریشن کروالیا۔
(بحوالہ ہندوستان ٹائمز ۔ 6؍ فروری 2018)

انٹرنیٹ آج ہندوستان کے گاؤں گاؤں میں پہنچ چکا ہے اور گاؤں والے بھی انٹرنیٹ ، واٹس ایپ اور گوگل و فیس بک جیسی سہولیات کا فائدہ اٹھاکر اپنی مدد آپ کر رہے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے ڈاٹ کام کی 20؍ دسمبر 2018کو شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق روہنی سندیپ سیٹھی کا تعلق پٹن، مہاراشٹرا سے ہے۔ وہ شہد کا کاروبار کرتی ہے۔ گوگل انٹرنیٹ ساتھی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد روہنی نے اپنے شہد کے کاروبار کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی تین برسوں میں شہد کا کاروبار کرتے ہوئے روہنی کو خاص منافع نہیں ہو رہا تھا لیکن گوگل کی ٹریننگ مکمل کرلینے کے بعد روہنی نے اپنے شہد کی Labeling اور مارکٹنگ کے بارے میں واقفیت حاصل کی۔ اب روہنی کو فاریسٹ ہنی فروخت کرتے ہوئے منافع بھی حاصل ہور ہا ہے اور بہت جلد وہ اپنا شہد Amazon پر پیش کرنے جارہی ہے۔ روہنی نے فیس بک کا پیج بھی بنایا اور واٹس ایپ کے ذریعہ شہد کے آڈرس و صول کر رہی ہے۔

گوگل سے ٹریننگ لینے والی ایک خاتون اجمیر راجستھان سے تعلق رکھتی ہے۔ لکشمی باگڑی نام کی اس خاتون نے انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنے دستکاری کے نمونوں کو فروخت کرنا شروع کیا۔ لکشمی کی بیٹی آنند کالج میں پڑھتی ہے اور اپنی ماں کو انٹرنیٹ کے ذریعہ نئے ڈیزائن بتلاتی ہے اور پھر لکشمی اپنے دستکاری کے نمونوں کو واٹس ایپ کے ذریعہ فروخت کر رہی ہے۔ اور ان اشیاء کی قیمت Paytm اور نیٹ بینکنگ کے ذریعہ راست اس کے اکاؤنٹ میں پہنچ رہی ہے۔ لکشمی اپنی بیٹی کی مدد سے خود اپنی ایک ویب سائٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے مطابق واٹس ایپ پر آرڈر لینے سے اس کے کاروبار میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور لوگ راجستھان کے باہر سے بھی آڈر دینے لگے ہیں۔قارئین یہ وہ مثالیں ہیں جس میں مختلف لوگوں نے انٹرنیٹ اور آن لائن ٹریڈنگ کے ہنر کا مفید استعمال کرتے ہوئے
نہ صرف اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے بلکہ دوسروں کے لیے نوکریاں فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔

کاش کہ مسلم نوجوانوں میں بھی اپنی مدد آپ کرنے کے لیے بیداری کا پروگرام شروع کیا جائے کون کہتا ہے کہ مسلم انٹرنیٹ کا اور فیس بک، واٹس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن مسلمان نوجوان ان آلات ترسیل کا کس طرح استعمال کر رہے ہیں یہ جاننا بھی مشکل نہیں ہے۔ ابھی 18؍ دسمبر 2018 کو حامد انصاری نام کا نوجوان پاکستان میں چھ سال کی قید کی سزا کاٹ کر وطن واپس آیاہے۔ اس نوجوان نے بھی فیس بک کا استعمال کیا اور ایک پاکستان لڑکی سے عشق کر بیٹھا اور پھر لڑکی سے ملنے پاکستان پہنچ گیا۔جہاں پر اس کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی پاداش میں جیل کی سزا جھیلنی پڑی۔

ہمارے بچے انٹرنیٹ کا استعمال کس طرح کر رہے ہیں، والدین کو بھی خبر نہیں۔ ایک ہندوستانی فیملی جو شارجہ میں قیام پذیر ہے کہ گھر پر اچانک شارجہ پولیس پہنچتی ہے، والدین پولیس کو گھر پر دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں تو شارجہ پولیس بتلاتی ہے کہ آپ کی 20 سال کی لڑکی خود کشی کرنے جارہی ہے۔ وہ کہاں ہے بتلاؤ۔ والدین پولیس کے ساتھ لڑکی کے کمرے میں پہنچے تو لڑکی کمپیوٹر بیٹھی اپنی خود کشی کی تیاری کر رہی ہے.

قارئین اس لڑکی کی خودکشی کی وجہ کیا ہے جان لیجئے۔ اس لڑکی نے اپنی ایک فوٹو آن لائن شیئر کی جس پر لوگوں کے بہت نیگیٹو کمنٹس آرہے ہیں، اس لیے لڑکی نے خود کشی کا فیصلہ لے لیا۔ آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے، ہمارے نوجوانوں اور بزرگوں ہر دو کی ہدایت کا سامان فرما اور ہمیں دنیا کے سامنے نشانہ عبرت بننے سے بچالے اور حلال رزق کے دروازے ہم پر کھول دے۔ آمین یا رب العالمین۔

کالم نگارمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں اسوسیٹ پروفیسر ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں