66

پٹرول پمپ ملازم نے پیش کی ایمانداری کی مثال

پٹرول پمپ ملازم نے پیش کی ایمانداری کی مثال

گونڈہ:13 اترپردیش کے ضلع گونڈہ کے جانکی نگر علاقے میں واقع ریلائنس پٹرول پمپ پر ملازمت کرنے والے رمیش شکلا نے روپیوں سے بھرے ایک پرس کو اس کے اصل مالک کو واپس کر کے ایمانداری کی انوکھی مثال پیش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع بہرائچ کے رسیا تھانہ علاقے کے بنکٹوا مکولیا باشندہ نعیم اللہ کا پرس گونڈہ کے جانکی نگر ریلائنس پٹرول پمپ پر گر گیا تھا جسے وہاں کام کر رہے رمیش شکلا نے نعیم اللہ کو واپس کردیا۔

فروغ ہنر مندی کا کام کرنے والے نعیم اللہ نے بتایا کہ ان کے پرس میں ڈیٹر ھ لاکھ کاچیک، 5 ہزار روپئے نقدی، اے ٹی ایم، پین کارڈ،ڈیبیٹ کارڈ ، ڈرائیوری لائسنس سمیت دیگر کئی ضروری کاغذات تھے۔ نعیم نے بتایا کہ وہ بہرائچ سے اپنے اسکول کے کچھ ضروری کام کے تحت خلیل آباد جارہے تھے کہ راستے میں وہ گونڈہ کے جانکی پور میں واقع پٹرول پمپ پر گاڑی میں تیل ڈلانے کے لئے اترے تیل کا پیسہ دینے کے لئے انہوں نے پرس جیکٹ کے جیب میں رکھا لیکن وہ جب میں جانے کے بعد نیچے گرگیا ۔ کافی دور جانے کے بعد انہوں نے جب اپنے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ان کا پرس غائب تھا۔

قابل ذکر ہے کہ پٹرول پمپ پر دوسروں کی گاڑیوں میں پٹرول ڈالنے والےرمیش نے سیاسیات میں ایم اے کر رکھا ہے اس نے بتایا کہ ہم غریب تو ہیں لیکن غلیظ نہیں یہ غریبی ہی تو ہے جو ایمانداری سکھاتی ہے۔رمیش نے مزید کہا کہ ہمارے پٹرول پمپ کی یہ روایت رہی ہے کہ جو بھی سامان ملتا ہے ہم اسے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں اور جب بھی اس کا مالک آتا ہے ہم اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔

اپنے پرس سے گرنے سے مایوس و اداس نعیم خلیل آبادسے اپنا کام کرکے تنکے میں سوئی ملنے کی آس لئے واپس گھر کے لئے روانہ ہوگئے راستے میں انہوں نے سوچا کہ ایک بار پٹرل پمپ پر اس ضمن میں دریافت کر لیتے ہیں۔پٹرول پمپ پر پہنچ کر انہو ں نے اپنی پرس کے بارے میں وہاں پر کام کررہے ملازمین سے دریافت کیا۔ یہ سن کر پٹرول پر کام کررہے رمیش شکلا نے اپنی ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا پرس ان کے حوالے کردیا۔اپنا غم شدہ پرس پا کر نعیم نے بھری آنکھوں سے رمیش کا شکریہ ادا کیا اور خوشی میں انہیں کچھ روپئے دینے چاہئے جس رمیش نے مسکراتے ہوئے لینے سے منع کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں