220

اردو یونیورسٹی معاملہ: شیطان گھات میں ہے رہنا سنبھل سنبھل کے

✍: آئی. اے. ولی

ڈیئر مانو!
ہمیں معلوم ہے کہ جو الزام آپ پر لگایا گیا ہے اس سے آپ کافی رنجور ہیں اور کوئی مدلل جواب نہ دیئے جانے پر حیران و ششدر بھی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ 16 فروری سے ہی آپ اپنے یہاں سے پاس آوٹ طلبا کہ فہرست کو بھی بار بارپلٹ رہے ہیں اور سوچ رہے ہوکہ جن طلبا کو تعلیم سے مزین کر کے باہر بھیجا ہے وہ آپ پر لگے اس بڑے الزام پر خاموش کیوں؟

میں اپنی جانب سے ہوئی اس تاخیر پر آپ سے معذرت چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ صفائی بھی دینا چاہتا ہوں کہ میں اس پرکب کی لب کشائی کرچکا ہوتا اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ ابھی ملک جوانوں کی شہادت سے مغموم ہےاور میں کچھ کہوں گا تو یہ نام نہاد وطن پرست غدار وطن کا راگ الاپیں گے۔

ڈئیر !
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنے قیام کے چند سالوں کے اندر ہی ہندوستانی تعلیمی اداروں میں اپنا نمایاں مقام حاصل کرنا اور مسلم طلبا کو تعلیم سے آراستہ کرنا آپ کا سب سے بڑا قصور ہے۔

آج جن حالات سے آپ گز رہے ہو ان سے ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور ہر محب اردو حیران و پریشان ہے کہ اردو کے اس چمن کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے۔

لیکن کیا کریں اس وقت جب سارے تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کئے جارہے ہیں ایسے میں آپ کا ۔۔۔۔۔۔

پھر یہ خیال بھی میرے دل کو تھوڑی سی تسکین دیتا ہے کہ
روز آفرینش سے ہی یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جب جب کسی نااہل کو کوئی کرسی ملی ہےتو اس نےاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے معصوموں کو اپنے ظلم و استبداد کا نشانہ بنایا ہےاور اس کرسی کے تحت آنے والے ادارے، محکمے،ڈپارٹمنٹ کو نیست و نابود کر کے چھوڑا ہے۔

ڈیئر چمن اردو!
میرے خیال میں 2014 میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد آپ بھی اسی قسم کی سازش کا شکار ہو۔

یہ بات لمبے عرصے سے حکومت کی نگاہوں میں کھٹک رہی تھی کہ ہندی مسلمانوں کوا یک ایسا ادارہ مل گیا ہے جو کافی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی تنازعہ کے اپنے کمیونٹی میں شرح خواندگی کے گراف کو اوپر لانے کی جانب مائل ہے۔ لیکن مسلمانوں کی فلاح ہو یہ کس کو منظور ہے؟۔

چنانچہ حکومت وقت نے کسی بھی ادارے کو نقصان پہنچانا ہو تو اس کی باغ ڈور کسی ناہل کے ہاتھوں میں تھما دو کے فارمولے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 2014 کے بعد ہی اس کاخاکہ تیار کرلیا تھا۔

2014 کے بعد سے ہی اسے مختلف تنازعات میں جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اعلی ذمہ داران نے بارہا اپنی ذاتی مفادات کے لئے اس پاک کیمپس کو اپنا سیاسی اکھاڑا بنانے کی کوشش کی ہے۔

بی جے پی کے اقتدا میں آنے کے بعد اردو یونیورسٹی کے پہلے چانسلر نے بھی اس سے پہلے اپنے شرپسندی سے آقاؤ ں کو خوش کرنے کے لئے اردو یونیورسٹی کو داو پر لگانے کی کوشش کی لیکن ان کی ناکام کوشش کے بعد اب نئے چانسلر اپنے ہم منصب سے دو قدم آگے نکلنے کی ہر ممکن کو شش کرر ہے ہیں۔

موجودہ وقت میں یونیورسٹی کے اعلی عہدے پر فائز موصوف نے اپنی شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے یونیورسٹی کو نام نہاد ” می ٹو” کے نام پر یہاں کے ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں اپنی منھ کی کھانی کے بعد اب ایک بار پھر “پرانا شکاری نیا جال لایا ہے”۔

ایک ایسے وقت میں جب سی آر پی ایف جوانوں کی شہادت سے پورا ملک غمگسار ہے ایسے موقع پر بھی موصوف ا پنے آقاوں کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

لیکن!

سستی شہرت کے خواہاں اس اعلی ذمہ دار کو معلوم ہونا چاہئے کہ مانو(چمن اردو) ان کے اس پرانے ہتھکنڈے سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ سرخیوں میں بننے رہنے کے لئے ”الول جلول” جو منھ میں آئے بکتے رہو نیز اگر یہ ہربہ مسلموں کے خلاف ہوتو اور بھی کارگر ہے۔

انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اردو یونیورسٹی اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ آپ کی یہ نیچ حرکت محض ایک پی آر اکٹیوٹی ہے اور آپ سرخیوں میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اردو یونیورسٹی آپ کے ان گھٹیا اور نیچ حرکت پر چارہ تک نہیں ڈالتی اگر اس کو آپ جیسے نام نہاد اور اپنے آقاؤں کے غلاموں کو ایکسپوز کرنا نہ ہوتا۔

اردو یونیورسٹی دیہاتی مقولہ” کتا بھونکتا رہتا ہے اور ہاتھی چلتا رہتا ہے” سے اچھی طرح سےواقف ہے لیکن یہاں کے فہم و ذکا کے مالک طلبا کہ جو فکر ہے وہ یہ کہ ان پر ایک ایسا ناہل مسلط کیا گیا ہے جو ملک کے جوانوں کی شہادت کو بھی اپنی ذاتی مفاد کی تکمیل لئے استعمال کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتا۔

آخر اردو یونیورسٹی کے ایک اعلی عہدے دار کے ذریعہ اپنے فیس بک پر لکھی گئی یہ بات کتنی بھولی ہے کہ ملک کے جوانوں کی شہادت کے موقع پر اردو یونیورسٹی میں جشن منایا جارہاتھا۔

میں حیران ہوں کہ ایسے الفاظ لکھنے سے پہلے آپ کے ہاتھ اپاہج کیوں نہ ہوئے یا آپ کی قوت سوچ سلب کیوں نہ کر لی گئی۔ ایک ایسا پروگرام جو سالوں پہلے ترتیب دیا جاچکا تھا اور شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد نہایت ہی سادگی سے منایا جارہا تھا اس کو آپ نے جشن کی نام سے تعبیر کرتے ہوئے “اینٹی نیشنل ایکٹی ویٹی” قرار دے دیا۔

مجھے تو آپ جیسے دیش بھکتوں پر شک ہورہا ہے کہ جب دیش کے جوان شہید ہوئے تو ان کے غم میں مغموم ہونے کے بجائے اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل میں چند لائنیں لکھ کر مسرور ہورہے تھے۔

اگر آپ ملک کے جوانوں کی شہادت میں مغموم اور دیکش بھکتی میں ”مدہوش” تھے تو پھر آپ کو کیسے پتا چلا کہ اردو یونیورسٹی میں جشن منایا جارہا ہے اور آپ نے فورا ہی زہر اگلنا شروع کردیا۔

کم سے کم غم کی اس گھڑی میں ملک کے جوانواں کے ساتھ کھڑے رہتے لیکن اپنے طرز عمل سے تو آپ نے بھی وہی کیا جس کا الزام آپ اردو یونیورسٹی کے سر دھر رہے ہیں۔

معززچانسلر!
مجھے لگتا ہے کہ اردو یونیورسٹی پر الزام لگانے میں آپ تھوڑی سے زیادتی کرگئے اگر اردو یونیورسٹی میں سالانہ طلبا تقریب کا انعقاد اینٹی نیشنل ہے تو پھر آپ کے آقا” جو ڈسکوری چینل کے لئے شوٹنگ کر رہے تھے وہ کیا ہے؟ اس پر آپ کی دیش بھکتی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں سیلاب کیوں نہیں آتا۔

اگر اردو یونیورسٹی آپ کی نظروں میں ملک کے جوانوں کی شہادت کے وقت اپنے جشن میں محو تھی تو ” آپ کے پارٹی کے اعلی سربراہ کرناٹک میں رام مندر کی تعمیر کراوا رہے تھے اس پر آپ کے ہاتھ اپاہج کیوں ہیں؟

اگر اردو یونیورسٹی کا ملک کے جوانوں کے شہادت کے بعد پہلے سے ہی طے شدہ پروگرام کا انعقاد اینٹی نیشنل ایکٹی وٹی ہے تو اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا کیرالہ میں شہادت کے ہی دن ریلی کرنے پر آپ کی زبان گنگ کیوں ہے آپ کیوں کچھ نہیں بولتے؟

آخر آپ کی ” دیش بھکتی” کو ٹھیس کیوں نہیں پہنچیتا اور آپ کے قلم کی جولانی ماند کیوں پڑی گئی جب اسی دن “رنکیا کے پاپا” یعنی کہ دہلی سے بی جے پی کےرکن پارلیمان منوج تیواری اور بی جے پی کے ہی روی کشن ایک پروگرام میں ناچتے پائے گئے۔

ملک کے جانبازوں پر بزدلانہ حملے کے ہی دن بے جے پی کے مرکزی وزیر و مہارشٹرا کے وزیر اعلی پارٹی کے لئے مول بھاو کرتے رہے اس پر آپ کی دیش بھکتی کیوں نہیں جاگتی؟

ملک کا سربراہ جس دن ملک کے جوان شہید ہوتے ہیں اسی دن اپنے پروگرام کے عین مطابق ڈسکوری چینل کے لئے شوٹنگ کرتا ہے، فون کے ذریعہ عوامی ریلی سے خطاب کرتا ہےتو آپ کے پیٹ میں مروڑ نہیں ہوتا لیکن دو دن بعد اگر اردو یونیورسٹی میں کوئی تقریب منعقد ہوتی ہے تو آپ دیش بھکتی کے نام پر سینی کوبی شروع کردیتے ہیں۔

اگر اردو یونیورسٹی کی اس دن کی تقریب اینٹی نیشنل ہے محض اس وجہ سے کہ ملک مغموم ہے اور وہاں پروگرام ہورہا ہے تو اسی دن فیس پک پوسٹ کے لئے آپ کی عرق ریزی کرنا بھی تو اینٹی نیشنل ہے۔

مسٹر چانسلر !
اگر آنکھیں کھلی ہوں اور آپ بیدار ہوں تو باہر ذرا جھان کر دیکھیں کہ کس طرح سے آپ کے اس بے بنیاد الزام کا مذاق اڑیا جا رہا ہے ۔ باہر کےافراد ہنس رہے ہیں اور اپنی چھاتی بھی کوٹ رہے ہیں کہ کس طرح سے ایک یونیورسٹی کا چانسلر اپنے ہی یونیورسٹی کے بچوں کی تقریب کو محض اپنی ذات مفاد کے خاطر کیا رنگ دے رہا ہے۔

میں حیران ہوں اور پریشان بھی، آنکھیں اشک بار ہیں اور من غمگین بھی کہ آیا کوئی بھی اعلی ذمہ دار محض اپنی ذاتی مفاد و چند لوگوں کو خوش کرنے و کسی سے ذاتی عناد کی بنیاد پر اس حد تک بھی جاسکتا ہے کہ وہ پوری کمیونیٹی کے ایک ادارے پر ہی سوالیہ نشان لگا دے۔

معنی کہ وائس چانسلر سے آپ کےکچھ مد بھید ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اس پاک چمن کی ہوا کو ہی مکد کر کے رکھ دیا جائے۔سچ کہہ رہاہوںکہ آج میرا وہ شک یقین میں بدل کیا کہ آپ کے من میں کچھ کالا ہے اور آپ ذاتی مفاد و وقتی شہرت کے خاطر کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہیں ورنہ حقیقی ملصحین تو کسی چیز کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اس کی اصلاح میں یقین رکھتے ہیں لیکن ایک آپ ہیں کہ اصلاح کے نام پر ذمہ داری سنبھالنےکےبعد صرف اور صرف ہنگامہ ہی کرر ہے ہیں۔

آپ نے مانو کےساتھ جو بھی کیا وہ قابل افسوس و قابل مذمت ہے باوجود اس کے میں آپ سے کسی بھی قسم کے معافی یا استعفی کامطالبہ نہیں کرونگا کیوں کہ اردو یونیوسٹی کو آپ سے “حب الوطنی ” کا سرٹیفیکٹ ” نہیں لینا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ کو بذات خود “ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے والی یونیورسٹی کے عہدے سے فورا استعفی دے دینا چاہئے ۔آپ جیسے دیکش بھکت کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ آپ اپنی مردہ دلی کا مظاہری کرتے ہوئے اس عہدے پر فائز رہیں۔

ڈیئر مانو اب میں مزیدکیا لکھوں
سوچتا ہوں آپ نے ایک ایسے کمیونٹی کے جیالوں کو تعلیم یافتہ کرنے اور ان کو مین اسٹریم میں لانے کا ذمہ اٹھایا ہے جس کی پستی و پسماندگی پر ہی لوگ خوش رہنا چاہتے ہیں اور ہر وہ قدم جو اس کمیونٹی کے فلاح کے لئے ہو ان کو جلاب میں مبتلا کرجاتا ہے۔

پھر بھی مایوس ہونے کہ ضرورت نہیں ہے۔جب آپ نے ایسے خار دار راستے کو چنا ہے تو اس میں آپ کے دامن سے کئی کاٹے تو چپکیں گی ہی لیکن پھر بھی ہم پرامید ہیں کہ ایک دن سچ آشکارا ہوگا اور ہم کامیاب ہوں گے۔ دشمن گھات میں ہے صر ف ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے

(مضمون نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اردو یونیورسٹی معاملہ: شیطان گھات میں ہے رہنا سنبھل سنبھل کے” ایک تبصرہ

  1. کھلا خط،مانو کے چانسلر کے نام

    گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے

    ڈاکٹر اے صابرعلیگ

    خوش بختی اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔ یہ ہر ایرے غیرے کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہ اس کی خصوصی عنایت ہے وہ جسے چاہے نوازدیتا ہے۔ ایسا کہا جاجاتا ہے کہ نام کا اثر نام والے پر ہوتا ہے،اسے اسم بامسمیٰ کہاجاتا ہے۔لیکن یہ کوئی یقینی اور حتمی مسئلہ نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کا نام فیروز بخت ہونے کے باوجود خوش بختی سے کوسوں دور بدبختی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہی ان کا مقدر ہے۔ ان کے ہر عمل سے،قول وفعل سے،عادات واطوار سے،گفتار وکردار سے شکل وصورت سے بدبختی ہی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انہیں بد بخت انسانوں میں سے ایک دہلی کےفیروز بخت کا نام نامی بھی ہے۔ نام بڑا ہی پیارا، امید یہی تھی کہ موصوف اسم بامسمیٰ ہوں گےلیکن افسوس کہ جناب والا کا ہرعمل اپنے نام کی خصوصیات کے خلاف اور متصادم ہے۔

    گذشتہ دنوں موصوف اپنی بد بختی اور سیاہ کارناموں کے انعام کے طور پرہندوستان کی واحد اور اکلوتی اردویونیورسٹی(مانو،حیدرآباد) کے چانسلر بنائے گئے۔ واضح رہے کہ موصوف اس عہدے کے لئے کسی بھی اعتبار سے موزوں اور اہل نہیں تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کی خصیہ برداری اور چاپلوسی کی وجہ سے انہیں اس عظیم عہدہ پرخاص مقصد کے تحت مسلط کیا گیا ہے۔ مولانا آزاد سے فرضی نسبت کی بنیاد پر بعض لوگوں نے حسن ظن قائم کرلیا تھا کہ مولانا آزاد کی نسبت کا کچھ تواثر ہوگا اور یہ شخص اردو یونیورسٹی کے حق میں نیک فال ثابت ہوگا۔ لیکن افسوس کہ:

    باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو پھر پسر قابل میراث پسر کیوں کر ہو

    جناب والا ،چانسلر شپ کا عہدہ سنبھالتے ہی ساز باز اور جوڑ توڑ کی سیاست شروع کرچکےتھے۔ چانسلرشپ کے حدود وقیود کا پاس ولحاظ رکھے بغیر وہ اپنے آپ کو وائس چانسلر سے بھی زیادہ بااختیار سمجھ بیٹھے تھے۔ پھر کیا تھاموجودہ وائس چانسلر جناب ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب نے انہیں اپنے حدودوقیود میں رہنے کی تلقین کرکے انہیں ان کی دو کوڑی کی اوقات بتا دی۔ اتنا ہونا تھا کہ موصوف سیخ پا ہوگئے۔ جب ان کے ناجائز اور غیر قانونی مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو انہوں نے وائس چانسلر کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشی شروع کردی اور انہیں سبق سکھانے کی دھمکی دینے لگے۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب وہ یونیورسٹی کنووکیشن کابائیکاٹ کرکے اپنی اہمیت جتلانا چاہ رہے تھے۔ وائس چانسلر صاحب نے انہیں یہاں بھی زور کاجھٹکا دیا اور ان کے بغیر ہی کنووکیشن شاندار طریقے سے کرڈالے۔ خیر اچھا تھا کہ وہ اس عظیم پروگرام کا حصہ نہیں بنے اس لئے کہ ان جیسا منحوس شخص یقینا اس طرح کے علمی،معیاری اور عظیم اسٹیج کے اہل نہیں ہیں۔ بات یہیں پر ختم ہو جاتی تو بھی معاملہ درگذر کے لائق تھا اس لئے وائس چانسلر اور چانسلر کے درمیان رسہ کشی کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں، اکثر ایسا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اس منحوس چانسلر نے یونیورسٹی کے معزز اساتذہ کے خلاف بھی اپنی نازیبا،گھٹیا اورسطحی قسم کے الزامات عائد کرنا شروع کردئے۔

    چانسلر صاحب آپ نے جو رذیل حرکت کی ہے اس کا حق تو یہ ہے کہ آپ کی خاطر ومدارات گلی ، محلے کے اوباشوں اور آوارہ لڑکوں سے کرائی جائے لیکن صرف اور صرف آُپ کے عہدے کا خیال کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کو تو اپنے عہدے اور منصب کا ذرہ برابربھی پاس ولحاظ نہیں لیکن ہمیں تو ہے۔ میں نےاپنے دور طالب علمی میں دو چانسلر کادور دیکھاہے، وہ لوگ تو اپ کی طرح سڑک چھاپ مزاج کے نہیں تھے۔ انہوں نے تو کبھی انتظامی امور میں مداخلت کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے تو کبھی بھی آپ کی طرح اوچھی حرکتیں نہیں کیں۔ انہوں نے تو کبھی کسی کے لئے سفارش نامہ نہیں بھیجا۔ وہ لوگ خاندانی تھے،علمی مزاج رکھتے ہیں، شاہانہ دماغ رکھتے تھے اور اپنے عہدے کا پاس ولحاظ بھی رکھتے تھے۔ چانسلر شپ کے عہدے کو ان کی وجہ سے عظمت حاصل تھی۔وہ لوگ اس عہدہ کچھ حاصل کرنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن آپ کی آمد سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے چھچھوندر کے سر پر چمیلی کا تیل لگا دیا گیا۔

    چانسلر صاحب آپ نے جس پروفیسر کے خلاف جنسی ہراسانی کا بے بنیاد الزام عائد کیا ہے وہ میرے استاذ ہیں، اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ان کے فیض یا فتگان سینکڑوں کی تعداد میں ملک بھر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اورصحافت کی دنیا میں اپنامقام رکھتے ہیں، وہ سب ان کے کردار کی پاکیزگی کی گواہی دے سکتے ہیں، آپ کی گھٹیا سوچ اور رذیل حرکتوں سے ان کاایک بال بھی ٹیڑھا نہیں ہو سکتا۔یاد رہےان تمام شاگرد بس ان کے ایک اشارے کے محتاج ہیں،پھر اپ کو دہلی کی سڑکوں اور گلیوں میں عریاں کرنے لمحہ بھر کا وقت نہیں لگے گا۔ یہ توان کی اعلیٰ طرفی ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ فقط قانونی کاروائی پر اکتفا کررہے ہیں ورنہ حق تو یہ تھا کہ آپ کو آپ کی زبان میں جواب دیتے اور جیسے کو تیسا کا عملی نمونہ پیش کرتے۔

    چانسلر صاحب آپ کی خبیث ذہنیت کواس سے بھی تسکین حاصل نہیں ہوئی تو آپ نے مانو کے طلبا پر دیش دروہی کا الزام عائد کردیا۔ خیر میں اسے بڑی بات نہیں مانتا اس لئے کہ آپ جس تنظیم اور پارٹی کے نمک حلال ہیں وہاں شب وروز یہی تماشا ہوتا ہے۔ دیش دروہی کے سب سے بڑے علمبردار دیش بھکتی کی سرٹیفکٹ بانٹ رہے ہیں۔ آپ سے مانوکے طلبا کو کم ازکم دیش بھکتی کی سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی سرٹیفکٹ نیکر دھاریوں میں تقسیم کریں یہ آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مانو کے طلبا کو آپ جیسے فرضی ،دلال اور نمک حرام دیش بھکت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ہم تو علمبردار ہیں مولانا آزاد کے متحدہ قومیت کے، قومی یکجہتی کے،ہندو مسلم ایکتا اور اکھنڈتا کے اور سچے سیکولرزم کے۔

    چانسلر صاحب آپ ہی نے رجت شرما کے پروگرام ( آپ کی عدالت میں)میں بابری مسجدکے خلاف ہرزہ سرائی اور ہذیان گوئی کی ہے۔ جناب والا وہ آپ کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ چینل کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر آپ اس کی تقسیم کردیں۔ حضورآپ ہوتے کون ہیں بابری مسجد سے دستبرداری کا مشورہ دینے والے ،ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان آپ کی حیثیت تو استنجا کے ڈھیلے کے برابر بھی نہیں تو پھر آپ کیسے اس مسئلے میں دلالی کر سکتے ہیں۔ ذرا اوقات میں رہیں ورنہ بدترین نتیجہ کے لئے تیار رہیں۔

    دل تو کرتا ہے سارے حدودوقیود کو توڑ کر آپ کو آپ کی اوقات آپ ہی انداز میں اس طرح بتاؤں کہ آپ آئینے سے بھی منہ چھپاتے پھریں لیکن چونکہ ہم علمبردار ہیں آپ کے جد امجد مولانا ازاد رحمہ اللہ کے اس لئے درگذر سے کام لیتے ہیں۔ مولانا آزاد کبھی بھی اپنے دشمنوں کے حق میں برا نہیں سوچتے تھے بلکہ جنہوں نے انہیں مطعون کیاانہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی انہیں بھی اس قدر نوازا کہ دنیا دم بخود رہ گئی۔

    آخر میں مانو برادری سے میری دست بستہ گذارش ہے کہ برائے مہربانی اس باؤلے چانسلر کی مخالفت اس شدومد کے ساتھ نہ کریں کہ اس کا مقصد حل ہوجائے۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں، ماحول کو پراگندہ کرنا چاہتے ہیں، گنگا جمنی تہذیب کو پامال کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے مستقبل کو تاریک کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے مقصد کو پیش نظر رکھیں، اپنے کیریئر کے لئے سنجیدہ کوشش کریں اور اس بد بخت کے لئے ہدایت کی دعا کریں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں