178

اردو یونیورسٹی معاملہ: شیطان گھات میں ہے رہنا سنبھل سنبھل کے

✍: آئی. اے. ولی

ڈیئر مانو!
ہمیں معلوم ہے کہ جو الزام آپ پر لگایا گیا ہے اس سے آپ کافی رنجور ہیں اور کوئی مدلل جواب نہ دیئے جانے پر حیران و ششدر بھی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ 16 فروری سے ہی آپ اپنے یہاں سے پاس آوٹ طلبا کہ فہرست کو بھی بار بارپلٹ رہے ہیں اور سوچ رہے ہوکہ جن طلبا کو تعلیم سے مزین کر کے باہر بھیجا ہے وہ آپ پر لگے اس بڑے الزام پر خاموش کیوں؟

میں اپنی جانب سے ہوئی اس تاخیر پر آپ سے معذرت چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ صفائی بھی دینا چاہتا ہوں کہ میں اس پرکب کی لب کشائی کرچکا ہوتا اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ ابھی ملک جوانوں کی شہادت سے مغموم ہےاور میں کچھ کہوں گا تو یہ نام نہاد وطن پرست غدار وطن کا راگ الاپیں گے۔

ڈئیر !
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنے قیام کے چند سالوں کے اندر ہی ہندوستانی تعلیمی اداروں میں اپنا نمایاں مقام حاصل کرنا اور مسلم طلبا کو تعلیم سے آراستہ کرنا آپ کا سب سے بڑا قصور ہے۔

آج جن حالات سے آپ گز رہے ہو ان سے ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور ہر محب اردو حیران و پریشان ہے کہ اردو کے اس چمن کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے۔

لیکن کیا کریں اس وقت جب سارے تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کئے جارہے ہیں ایسے میں آپ کا ۔۔۔۔۔۔

پھر یہ خیال بھی میرے دل کو تھوڑی سی تسکین دیتا ہے کہ
روز آفرینش سے ہی یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جب جب کسی نااہل کو کوئی کرسی ملی ہےتو اس نےاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے معصوموں کو اپنے ظلم و استبداد کا نشانہ بنایا ہےاور اس کرسی کے تحت آنے والے ادارے، محکمے،ڈپارٹمنٹ کو نیست و نابود کر کے چھوڑا ہے۔

ڈیئر چمن اردو!
میرے خیال میں 2014 میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد آپ بھی اسی قسم کی سازش کا شکار ہو۔

یہ بات لمبے عرصے سے حکومت کی نگاہوں میں کھٹک رہی تھی کہ ہندی مسلمانوں کوا یک ایسا ادارہ مل گیا ہے جو کافی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی تنازعہ کے اپنے کمیونٹی میں شرح خواندگی کے گراف کو اوپر لانے کی جانب مائل ہے۔ لیکن مسلمانوں کی فلاح ہو یہ کس کو منظور ہے؟۔

چنانچہ حکومت وقت نے کسی بھی ادارے کو نقصان پہنچانا ہو تو اس کی باغ ڈور کسی ناہل کے ہاتھوں میں تھما دو کے فارمولے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 2014 کے بعد ہی اس کاخاکہ تیار کرلیا تھا۔

2014 کے بعد سے ہی اسے مختلف تنازعات میں جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اعلی ذمہ داران نے بارہا اپنی ذاتی مفادات کے لئے اس پاک کیمپس کو اپنا سیاسی اکھاڑا بنانے کی کوشش کی ہے۔

بی جے پی کے اقتدا میں آنے کے بعد اردو یونیورسٹی کے پہلے چانسلر نے بھی اس سے پہلے اپنے شرپسندی سے آقاؤ ں کو خوش کرنے کے لئے اردو یونیورسٹی کو داو پر لگانے کی کوشش کی لیکن ان کی ناکام کوشش کے بعد اب نئے چانسلر اپنے ہم منصب سے دو قدم آگے نکلنے کی ہر ممکن کو شش کرر ہے ہیں۔

موجودہ وقت میں یونیورسٹی کے اعلی عہدے پر فائز موصوف نے اپنی شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے یونیورسٹی کو نام نہاد ” می ٹو” کے نام پر یہاں کے ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں اپنی منھ کی کھانی کے بعد اب ایک بار پھر “پرانا شکاری نیا جال لایا ہے”۔

ایک ایسے وقت میں جب سی آر پی ایف جوانوں کی شہادت سے پورا ملک غمگسار ہے ایسے موقع پر بھی موصوف ا پنے آقاوں کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

لیکن!

سستی شہرت کے خواہاں اس اعلی ذمہ دار کو معلوم ہونا چاہئے کہ مانو(چمن اردو) ان کے اس پرانے ہتھکنڈے سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ سرخیوں میں بننے رہنے کے لئے ”الول جلول” جو منھ میں آئے بکتے رہو نیز اگر یہ ہربہ مسلموں کے خلاف ہوتو اور بھی کارگر ہے۔

انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اردو یونیورسٹی اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ آپ کی یہ نیچ حرکت محض ایک پی آر اکٹیوٹی ہے اور آپ سرخیوں میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اردو یونیورسٹی آپ کے ان گھٹیا اور نیچ حرکت پر چارہ تک نہیں ڈالتی اگر اس کو آپ جیسے نام نہاد اور اپنے آقاؤں کے غلاموں کو ایکسپوز کرنا نہ ہوتا۔

اردو یونیورسٹی دیہاتی مقولہ” کتا بھونکتا رہتا ہے اور ہاتھی چلتا رہتا ہے” سے اچھی طرح سےواقف ہے لیکن یہاں کے فہم و ذکا کے مالک طلبا کہ جو فکر ہے وہ یہ کہ ان پر ایک ایسا ناہل مسلط کیا گیا ہے جو ملک کے جوانوں کی شہادت کو بھی اپنی ذاتی مفاد کی تکمیل لئے استعمال کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتا۔

آخر اردو یونیورسٹی کے ایک اعلی عہدے دار کے ذریعہ اپنے فیس بک پر لکھی گئی یہ بات کتنی بھولی ہے کہ ملک کے جوانوں کی شہادت کے موقع پر اردو یونیورسٹی میں جشن منایا جارہاتھا۔

میں حیران ہوں کہ ایسے الفاظ لکھنے سے پہلے آپ کے ہاتھ اپاہج کیوں نہ ہوئے یا آپ کی قوت سوچ سلب کیوں نہ کر لی گئی۔ ایک ایسا پروگرام جو سالوں پہلے ترتیب دیا جاچکا تھا اور شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد نہایت ہی سادگی سے منایا جارہا تھا اس کو آپ نے جشن کی نام سے تعبیر کرتے ہوئے “اینٹی نیشنل ایکٹی ویٹی” قرار دے دیا۔

مجھے تو آپ جیسے دیش بھکتوں پر شک ہورہا ہے کہ جب دیش کے جوان شہید ہوئے تو ان کے غم میں مغموم ہونے کے بجائے اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل میں چند لائنیں لکھ کر مسرور ہورہے تھے۔

اگر آپ ملک کے جوانوں کی شہادت میں مغموم اور دیکش بھکتی میں ”مدہوش” تھے تو پھر آپ کو کیسے پتا چلا کہ اردو یونیورسٹی میں جشن منایا جارہا ہے اور آپ نے فورا ہی زہر اگلنا شروع کردیا۔

کم سے کم غم کی اس گھڑی میں ملک کے جوانواں کے ساتھ کھڑے رہتے لیکن اپنے طرز عمل سے تو آپ نے بھی وہی کیا جس کا الزام آپ اردو یونیورسٹی کے سر دھر رہے ہیں۔

معززچانسلر!
مجھے لگتا ہے کہ اردو یونیورسٹی پر الزام لگانے میں آپ تھوڑی سے زیادتی کرگئے اگر اردو یونیورسٹی میں سالانہ طلبا تقریب کا انعقاد اینٹی نیشنل ہے تو پھر آپ کے آقا” جو ڈسکوری چینل کے لئے شوٹنگ کر رہے تھے وہ کیا ہے؟ اس پر آپ کی دیش بھکتی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں سیلاب کیوں نہیں آتا۔

اگر اردو یونیورسٹی آپ کی نظروں میں ملک کے جوانوں کی شہادت کے وقت اپنے جشن میں محو تھی تو ” آپ کے پارٹی کے اعلی سربراہ کرناٹک میں رام مندر کی تعمیر کراوا رہے تھے اس پر آپ کے ہاتھ اپاہج کیوں ہیں؟

اگر اردو یونیورسٹی کا ملک کے جوانوں کے شہادت کے بعد پہلے سے ہی طے شدہ پروگرام کا انعقاد اینٹی نیشنل ایکٹی وٹی ہے تو اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا کیرالہ میں شہادت کے ہی دن ریلی کرنے پر آپ کی زبان گنگ کیوں ہے آپ کیوں کچھ نہیں بولتے؟

آخر آپ کی ” دیش بھکتی” کو ٹھیس کیوں نہیں پہنچیتا اور آپ کے قلم کی جولانی ماند کیوں پڑی گئی جب اسی دن “رنکیا کے پاپا” یعنی کہ دہلی سے بی جے پی کےرکن پارلیمان منوج تیواری اور بی جے پی کے ہی روی کشن ایک پروگرام میں ناچتے پائے گئے۔

ملک کے جانبازوں پر بزدلانہ حملے کے ہی دن بے جے پی کے مرکزی وزیر و مہارشٹرا کے وزیر اعلی پارٹی کے لئے مول بھاو کرتے رہے اس پر آپ کی دیش بھکتی کیوں نہیں جاگتی؟

ملک کا سربراہ جس دن ملک کے جوان شہید ہوتے ہیں اسی دن اپنے پروگرام کے عین مطابق ڈسکوری چینل کے لئے شوٹنگ کرتا ہے، فون کے ذریعہ عوامی ریلی سے خطاب کرتا ہےتو آپ کے پیٹ میں مروڑ نہیں ہوتا لیکن دو دن بعد اگر اردو یونیورسٹی میں کوئی تقریب منعقد ہوتی ہے تو آپ دیش بھکتی کے نام پر سینی کوبی شروع کردیتے ہیں۔

اگر اردو یونیورسٹی کی اس دن کی تقریب اینٹی نیشنل ہے محض اس وجہ سے کہ ملک مغموم ہے اور وہاں پروگرام ہورہا ہے تو اسی دن فیس پک پوسٹ کے لئے آپ کی عرق ریزی کرنا بھی تو اینٹی نیشنل ہے۔

مسٹر چانسلر !
اگر آنکھیں کھلی ہوں اور آپ بیدار ہوں تو باہر ذرا جھان کر دیکھیں کہ کس طرح سے آپ کے اس بے بنیاد الزام کا مذاق اڑیا جا رہا ہے ۔ باہر کےافراد ہنس رہے ہیں اور اپنی چھاتی بھی کوٹ رہے ہیں کہ کس طرح سے ایک یونیورسٹی کا چانسلر اپنے ہی یونیورسٹی کے بچوں کی تقریب کو محض اپنی ذات مفاد کے خاطر کیا رنگ دے رہا ہے۔

میں حیران ہوں اور پریشان بھی، آنکھیں اشک بار ہیں اور من غمگین بھی کہ آیا کوئی بھی اعلی ذمہ دار محض اپنی ذاتی مفاد و چند لوگوں کو خوش کرنے و کسی سے ذاتی عناد کی بنیاد پر اس حد تک بھی جاسکتا ہے کہ وہ پوری کمیونیٹی کے ایک ادارے پر ہی سوالیہ نشان لگا دے۔

معنی کہ وائس چانسلر سے آپ کےکچھ مد بھید ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اس پاک چمن کی ہوا کو ہی مکد کر کے رکھ دیا جائے۔سچ کہہ رہاہوںکہ آج میرا وہ شک یقین میں بدل کیا کہ آپ کے من میں کچھ کالا ہے اور آپ ذاتی مفاد و وقتی شہرت کے خاطر کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہیں ورنہ حقیقی ملصحین تو کسی چیز کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اس کی اصلاح میں یقین رکھتے ہیں لیکن ایک آپ ہیں کہ اصلاح کے نام پر ذمہ داری سنبھالنےکےبعد صرف اور صرف ہنگامہ ہی کرر ہے ہیں۔

آپ نے مانو کےساتھ جو بھی کیا وہ قابل افسوس و قابل مذمت ہے باوجود اس کے میں آپ سے کسی بھی قسم کے معافی یا استعفی کامطالبہ نہیں کرونگا کیوں کہ اردو یونیوسٹی کو آپ سے “حب الوطنی ” کا سرٹیفیکٹ ” نہیں لینا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ کو بذات خود “ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے والی یونیورسٹی کے عہدے سے فورا استعفی دے دینا چاہئے ۔آپ جیسے دیکش بھکت کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ آپ اپنی مردہ دلی کا مظاہری کرتے ہوئے اس عہدے پر فائز رہیں۔

ڈیئر مانو اب میں مزیدکیا لکھوں
سوچتا ہوں آپ نے ایک ایسے کمیونٹی کے جیالوں کو تعلیم یافتہ کرنے اور ان کو مین اسٹریم میں لانے کا ذمہ اٹھایا ہے جس کی پستی و پسماندگی پر ہی لوگ خوش رہنا چاہتے ہیں اور ہر وہ قدم جو اس کمیونٹی کے فلاح کے لئے ہو ان کو جلاب میں مبتلا کرجاتا ہے۔

پھر بھی مایوس ہونے کہ ضرورت نہیں ہے۔جب آپ نے ایسے خار دار راستے کو چنا ہے تو اس میں آپ کے دامن سے کئی کاٹے تو چپکیں گی ہی لیکن پھر بھی ہم پرامید ہیں کہ ایک دن سچ آشکارا ہوگا اور ہم کامیاب ہوں گے۔ دشمن گھات میں ہے صر ف ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے

(مضمون نگار کی آراء سے دی مشن کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں