24

کیا فون کا استعمال گردن اورریڑھ کی ہڈی پر دباؤ کا باعث ہے؟

ڈاکٹر لین سین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج 8برس کے بچے بھی موبائل سے چپکے رہتے ہیں بہت ممکن ہے کہ جب وہ 28برس کی عمر تک پہنچیں تو انہیں ریڑھ کی سرجری کی ضرورت پیش آئے ۔

ہمیں تشویش اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ بچے جو دن بھر فون استعمال کرتے رہتے ہیں انہیں ان مسائل کا ادراک ہے بھی یا نہیں ہے ۔بیشتر آرتھو پیڈک سر جن کہتے ہیں کہ فون استعمال کرتے وقت ضرور تا نیچے دیکھا جا تا ہے ۔یہ نظر سرسری نہیں ہو سکتی کیونکہ جب آپ کوئی میسج ٹائپ کرتے ہیں ۔اس وقت آپ کی گردن اس حد تک جھکی ہوتی ہے جتنی کمپیوٹر پر آن لائن براؤزنگ کرتے ہوئے یا ویڈیو دیکھتے ہوئے نہیں جھکتی ۔عا م طور پر لوگ اپنی گردن تقریباََ 45ڈگری کے زاوئیے پر رکھتے ہیں اور کھڑے رہنے کے مقابلے میں جب وہ بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی گردن مزید خراب پوزیشن میں ہوتی ہے ۔
اگر گردن کو زیادہ موڑ کر رکھا جائے تو ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بتد ریج بڑھتا جاتا ہے اگر جھکے بغیر سامنے کی جانب دیکھا جائے تو اس وقت سر کاوزن تقریباََ10سے 12پونڈ ہوتا ہے ۔اگر گردن کو 25ڈگری کی حد تک موڑا جائے تو سر کا وزن 27پونڈ تک محسوس ہوتا ہے ۔گر دن کو ہم جتنے درجے جھکاتے رہتے ہیں ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر لین سین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج 8برس کے بچے بھی موبائل سے چپکے رہتے ہیں بہت ممکن ہے کہ جب وہ 28برس کی عمر تک پہنچیں تو انہیں ریڑھ کی سرجری کی ضرورت پیش آئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ و ہ بچے جن کی ریڑھ کی ہڈی بد ستور نشوونما کے مرحلے سے گزر رہی ہوں اور پوری طرح تشکیل نہ پاسکی ہوں ،ان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس رجحان کے باعث ان کی صحت پر کس حد تک خراب اثر پڑتا ہے یا ان کی جسمانی ساخت میں کیا تبدیلی ہو سکتی ہے۔

اس سے بچاو کے مفید تراکیب
اگر لوگ ٹیکسٹنگ کے دوران سیل فونز استعما ل کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اور دونوں انگوٹھے کام میں لائیں ۔اسمارٹ فون کے استعمال سے ہٹ کرڈاکٹروں نے کمپیوٹر اور ٹیبلٹس کے استعمال سے متعلق مفید مشورے بھی دیئے۔
مثال کے طور پر ایسے Standsاستعمال کئے جائیں جو ان کی آنکھوں کو اسکرین کے برابر میں رکھ سکے ۔انہیں دیکھنے کے لئے گردن جھکانے کی ضرورت نہ ہو ۔
لیپ ٹاپ کے لئے بھی اس طریقہ کافی مفید ہے اور کہا ہے کہ وہ الگ کی بورڈ اور ماؤس استعمال کریں تاکہ لیپ تاپ آنکھ کی سطح کے برابر ہوا ور وہ جو کچھ ٹائپ کریں تو گردن کو آرام دہ پوزیشن پر رکھنے کی کوشش کریں ۔اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لئے مناسب جسمانی ہئت اختیار کرنے کی سفارش کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اگر ہم فون کو اپنی آنکھوں کی سطح کے برابر لانے کی کوشش کریں تاکہ نیچے دیکھنے والے Postureسے محفوط رہیں تو ایسی صورت میں کاندھے دکھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ اس وقت ہم اپنے بازو اور کاندھے اٹھائے رکھنے پر مجبور ہوں گے ۔زیادہ عملی سفارش یہ کی جاسکتی ہے کہ اسمارٹ فون کے استعمال کے دوران اکثر و بیشتر وقفہ دیں اور کوئی ایسی ورزش کریں جس سے گردن اور کاندھوں کے پٹھے مضبوط ہوں ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں