80

رشوت پر گھمسان: سی بی آئی کے دونوں اعلی افسران چھٹی پر. معاملہ ہائی کورٹ پہنچا

مشن بیورو
ملک کی سب سے بڑی جانچ ایجنسیسنٹرل بیوروآف انوسٹی گیشن( سی بی آئی) سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ کسی بھی سنگین معاملے میں سی بی آئی سے جانچ کا مطالبہ کرنے والے کی نظر میں اب وہی ایجنسی بذات خود مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔اب سی بی آئی خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔
سی بی آئی کے سینئر افسر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور اپنے سے زیادہ بدعنوان بتا کر سنگین الزامات لگا رہے ہیں ۔ ایجنسی کے اندر جاری گھماسان کے درمیان مرکزی حکومت نے معاملے میں مداخلت کی ہے۔ حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے سی بی آئی ڈائرکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائرکٹر راکیش استھانہ دونوں کو چھٹی پر بھیج دیا ہے اس فیصلے کو حکومت کا اس معاملے میں اب تک کا سب سے بڑاقدم مانا جا ہا ہے۔اطلاعات کے مطابق سی بی آئی کی عمارت کو بھی قفل بند کردیا گیا ہے۔
آلوک شرما کی جگہ ایم ناگیشور راو کو عارضی ڈائرجٹر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ راؤ سی بی آئی میں ابھی جوائنٹ ڈائرکٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ 1986 بیچ کے اڈیشہ کیڈر کے سینئر آئی اے ایس افسر راؤ تلنگانہ کے ضلع وارانگل کے رہنے والے ہیں۔ ناگیشور راو ن بدھ کی صبح ہی اپنی ذمہ دارہ سنبھال لی ہے۔ ذمہ دارلی سنبھالتے ہی انہوں نے بڑے فیصلے لینے شروع کر دیئے ہیں بدھ کی صبح سی بی آئی نے 10ویں اور 11ویں منزل کو قفل بند کردیا ہے۔


آرڈر کاپی

قابل ذکر ہے کہ یہ پورا معاملہ میٹ(گوشت) کاروباری معین قریشی کو کلیچن چٹ دینے میں مبینہ رشوت لینے کے الزاموں کے بعد سامنے آیا ہے۔ سی بی آئی نے اپنے ہی اسپیشل ڈائرکٹر راکیش استھانہ پر مقدمہ درج کیا ہے۔ جس کے بعد راکیش استھانہ نے سی بی آئی سربراہ آلوک ورما پر بھی دو کروڑ روپئے رشوت لینے کا الزام لگا دیا۔ دونوں اعلی افسران کے درمیان جاری الزامات کے سلسلے سے سی بی آئی کی معتبریت پر اٹھتے سوالوں کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کو حکم پر دونوں کو چھٹی پر بھی دیا گیاہے۔
واضح رہے کہ ایجنسی نے اپنے ہی اسپیشل ڈائرکٹر استھانہ پر مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں ان پر گوشت کارورباری معین قریشی سے 3 کروڑ روپئے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ راکیش استھانہ کو اس معاملے میں اپنی گرفتاری کا شک تھا۔ جس کو رکوانے کے لئے انہوں نے منگل کو دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ رشوت معاملے میں اپنے خلاف دائر ایف آئی آر کے ضمن میں استھانہ نے منگل کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
استھانہ نے ہائی کورٹ سے یہ حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ کاروائی نہ کی جائے ۔عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے استھانہ کی گرفتاری پر پیر(29اکتوبر) تک پابندی لگا دی ہے۔ سی بی آئی کے اسپیشل ڈائرکٹر راکیش استھانہ کی طرف سے داخل کردہ عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ پورے الزامات پر 29 اکتوبر کو جواب دیں۔ عدالت نے سی بی آئی کو فی الحال جوں کا تو برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
سی بی آئی کے ڈی ایس پی دیویندر معطل
اس درمیان سی بی آئی نے منگل کو اپنے ڈی ایس پی دیوندر کو معطل کردیا ہے۔ گوشت کاروباری معین قریشی کے خلاف الزامات کے جانچ کے دوران دستاویزوں سے چھڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں دیوندر کو پیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے ایک افسر نے کہا کہ” دیوندرکمار کو ڈیوٹی سے معطل کر دیاگا ہے۔
خبر رساں ادرے آئی اے این ایس کے مطابق، دولت اکٹھا کرنے اور بدعنوانی کے مختلف معاملات کا سمانا کر رہے قریشی کے خلاف معاملے کی جانچ کر رہے کمار کو دستاویزوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں پیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک عدالت نے کمار کو سات دنوں کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ دسمبر 2017 اور روان سال اکتوبر میں کم سے کم پانچ بار رشوت لی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رشوت پر گھمسان: سی بی آئی کے دونوں اعلی افسران چھٹی پر. معاملہ ہائی کورٹ پہنچا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں